جمعرات، 29 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

انجان راستوں پر،تحریر: سمیرا اکرام

نقطہ نظر

میں نے آج تک کسی پہاڑ، دریا یا سمندر کا سفرنامہ نہیں لکھا۔ آج میں نے ان راستوں کا سفر کیا ہے، جن پر آج تک کسی نے قدم نہیں رکھا۔ وہ راستے جو گوگل میپ پر نہیں آتے، جن کا ٹکٹ نہیں ملتا، جن پر کوئی بورڈ نہیں لگا۔

ہوا یوں کہ میں اپنی پرانی الماری صاف کر رہی تھی۔ اس میں میری دسویں جماعت کی اٹلس پڑی تھی۔ اس میں دنیا کے سارے نقشے تھے۔ لیکن آخر میں تین صفحے خالی تھے۔ ان پر ہلکے لفظوں میں لکھا تھا، ”اپنے انجان راستوں کے لیے۔“ میں نے کبھی ان خالی صفحوں پر توجہ نہیں دی تھی۔ ہم ہمیشہ بنے ہوئے نقشے دیکھتے ہیں، خالی صفحوں کو ردی سمجھ کر پلٹ دیتے ہیں۔

کل رات سوچا، کیوں نہ آج انہی راستوں پر سفر کیا جائے، جو میں نے زندگی میں چھوڑ دیے تھے۔ نہ بس، نہ ٹرین، بس دل کے قدموں سے۔

میرا پہلا انجان راستہ وہ تھا، جو میرے گھر کے صحن سے امی کے کچن تک جاتا ہے۔ ہم روز اس پر چلتے ہیں، مگر کبھی دیکھا نہیں۔ میں ننگے پاؤں اس پر چلی۔ وہاں آٹے کے نشان تھے، گرے ہوئے چاول کے دانے تھے، اور امی کی چپل کے گھسے ہوئے نشان۔ یہ وہ راستہ تھا، جس پر چل کر امی نے تیس سال ہماری بھوک مٹائی۔ میں وہیں بیٹھ گئی۔ لگا، یہ قربانی کی شاہراہ ہے، کسی سیاحت سے کم نہیں۔

دوسرا راستہ، میرے ابو کی پیشانی کی لکیروں کا تھا۔ شام کو جب ابو وضو کر رہے تھے، میں نے قریب سے دیکھا۔ وہاں تین گہری لکیریں تھیں۔ ایک وہ، جب میری فیس کے لیے انہوں نے رات کو رکشہ چلایا۔ دوسری، جب میرے بھائی کو بخار تھا اور وہ ساری رات جاگے۔ تیسری کا مجھے آج تک علم نہیں، شاید میری کسی نادانی پر بنی ہوگی۔ میں اس راستے پر انگلی رکھ کر چلتی رہی۔ لگا، کسی پرانی وادی میں ہوں، جہاں ہر موڑ پر ایک قربانی کھڑی ہے۔ یہ راستہ اٹلس میں نہیں ملتا۔

تیسرا راستہ سب سے انجان تھا۔ میری ڈائری کے دو لفظوں کے درمیان کا خالی سفید راستہ۔ ہم لفظ لکھتے ہیں، مگر لفظوں کے بیچ کے خلا پر سفر نہیں کرتے۔ میں نے ڈائری کھولی، جہاں لکھا تھا، ”کاش میں۔“ اس کے بعد صفحہ خالی تھا۔ کاش میں معاف کر دیتی، کاش میں ہاں کہہ دیتی، کاش میں کوشش کرتی۔ وہ خالی جگہ ہی اصل انجان راستہ تھی، جس پر میں کبھی چلی ہی نہیں۔ ہم ادھورے جملے چھوڑ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہانی ختم، حالانکہ اصل کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

چوتھا راستہ، امی کی تسبیح کے دانوں کا تھا۔ سو دانے، سو قدم۔ میں نے ہر دانے پر ایک دعا کا سفر کیا۔ یہ وہ راستہ تھا، جو زمین سے سیدھا آسمان تک جاتا ہے، بغیر کسی ویزے کے۔ اس پر رش نہیں ہوتا۔

مجھے سمجھ آیا، ہم ساری زندگی دوسرے ملکوں کے راستے ڈھونڈتے ہیں، جبکہ سب سے انجان راستے ہمارے اندر ہیں۔ وہ راستہ، جو معافی مانگنے سے پہلے دل میں بنتا ہے۔ وہ، جو سچ بولنے سے پہلے زبان تک آتا ہے۔ وہ، جو آنسو سے آنکھ تک آتا ہے۔

شام کو امی نے پوچھا: ”کہاں گئی تھی؟ سارا دن کمرے میں تھی۔“

میں نے کہا: ”انجان راستوں پر۔“

وہ ہنسیں: ”گھر سے تو نکلی ہی نہیں۔“

میں نے کہا: ”امی! یہی تو کمال ہے۔ ان کے لیے ٹکٹ نہیں چاہیے، جوتی نہیں گھستی، بس آنکھیں بند کر کے دیکھنا پڑتا ہے۔“

اس سفر سے سیکھا کہ ناران، کاغان سے پہلے ہمیں ان راستوں پر چلنا چاہیے، جو ہمارے گھر میں، ہمارے چہروں پر اور ادھورے جملوں میں چھپے ہیں۔ کیونکہ جانے پہچانے راستے دنیا دکھاتے ہیں، لیکن انجان راستے آپ کو آپ سے ملوا دیتے ہیں۔ اور یہی وہ سفر ہے، جو آج تک کسی نے نہیں لکھا، کیونکہ سب باہر کا راستہ ڈھونڈتے رہے، اندر کا کسی نے دیکھا ہی نہیں۔