جمعرات، 29 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خاموشی بولتی ہے،تحریر: نیہا علی

نقطہ نظر
Kitchen and Me, written by: Neha Ali

سوہا کالج کے میدان میں بیٹھی ایک ہی ورق کو دیکھے جا رہی تھی۔ ہوا کے جھونکے سے ورق کانپتا، مگر اس کی نظریں ساکت تھی۔ اس ورق پر کچھ لکھا نہیں تھا، بس ایک خالی پن تھا، جیسا اس کے اندر بھرا ہوا تھا۔


اچانک پیچھے سے ندا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔


"تم یہاں بیٹھی ہو؟ میں تمہیں پورے کالج میں ڈھونڈ رہی تھی۔"


سوہا نے چونک کر دیکھا، پھر لب بھینچ کر بولی، "کیوں؟"


"کیوں کا کیا مطلب؟ مجھے میری دوست نظر نہیں آ رہی تھی کہیں۔ صبح سے غائب ہو۔" ندا اس کے پاس گھاس پر بیٹھ گئی۔


سوہا نے آہستہ سے کتاب بند کی۔ اس کی آنکھوں کے نیچے ہلکی سی سوجن تھی۔


"چلیں ندا، کلاس لیتے ہیں۔"


ندا نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "سوہا، علی بھائی کی کال آئی تھی۔ کہہ رہے تھے تم نے انہیں بلاک کر دیا ہے۔"


سوہا کے ہاتھ کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ وہ کچھ دیر خاموش رہی، پھر بولی، "ندا، تمہیں سب پتہ ہے۔ ممانی کبھی میرے اور علی کے رشتے کے لیے نہیں مانیں گی۔"


"تو اس میں علی بھائی کا کیا قصور ہے؟"


"قصور کسی کا نہیں ہے، ندا۔ میں تھک چکی ہوں۔" اس کی آواز پہلی بار لرزئی۔ "گھر میں بچپن سے ایک ہی ماحول دیکھا ہے۔ امی اور ابو کا کبھی مزاج نہیں ملا۔ ہر روز کبھی امی کی باتیں، تو کبھی ابو کی باتیں۔ اور درمیان میں ہم اولاد پس رہے ہیں۔ میں نہیں چاہتی میری زندگی بھی اسی چیخ و پکار میں گزرے۔"


ندا خاموش ہو گئی۔ اسے معلوم تھا کہ سوہا کے گھر کی دیواروں میں محبت سے زیادہ انا بولتی ہے۔


سوہا کے ابا ایک ریٹائرڈ استاد تھے، اصول پسند اور سخت مزاج۔ امی ایک نرم دل مگر زود رنج خاتون، جنہوں نے ساری عمر سمجھوتہ کیا تھا۔ ان دونوں کے درمیان خاموشی ایک مستقل مہمان تھی۔ وہی خاموشی جو بولتی بہت تھی، مگر سنائی کسی کو نہ دیتی تھی۔ اسی خاموشی میں سوہا جوان ہوئی تھی۔


علی، اس کے ماموں کا بیٹا، واحد شخص تھا جس کے سامنے وہ کھل کر بولتی تھی۔ علی نے اسے ہمیشہ کہا تھا، "تمہاری خاموشی بھی مجھے سنائی دیتی ہے۔"


مگر جب رشتے کی بات ہوئی تو ممانی نے صاف انکار کر دیا۔ "میں اپنی نند کے گھر میں بیٹی نہیں لے لوں گی۔ وہاں روز کا جھگڑا ہے، میری نند نے جو سہا، میں اپنی بہو کو وہ نہیں سہنے دوں گی۔"


یہ جملہ سوہا کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گیا۔ اسے لگا جیسے اس کی ماں کی پوری زندگی کی قربانی کا فیصلہ ایک جملے میں سنا دیا گیا ہو۔


اس دن کے بعد سوہا نے علی کا نمبر بلاک کر دیا۔


"کیا تمہیں لگتا ہے علی تمہیں چھوڑ دے گا؟" ندا نے پوچھا۔


"مجھے لگتا ہے اگر میں اسے خود سے دور کر دوں گی تو اسے تکلیف کم ہو گی۔ وہ مجھ سے زیادہ خوش رہنے کا حقدار ہے۔"


"یہ تمہاری محبت نہیں، تمہاری بزدلی ہے، سوہا۔ تم علی کو سزا دے رہی ہو، کسی اور کے کیے کی۔"


سوہا نے کوئی جواب نہ دیا۔ کلاس کی گھنٹی بج چکی تھی، مگر دونوں وہیں بیٹھی رہیں۔


شام کو سوہا گھر پہنچی تو گھر میں پھر وہی منظر تھا۔ ابو صحن میں اخبار پڑھ رہے تھے، امی کچن میں برتنوں سے الجھ رہی تھی۔ دونوں کے درمیان اتنی خاموشی تھی کہ دیواروں کو بھی سانس لینا مشکل لگ رہا تھا۔


سوہا نے بیگ رکھا اور امی کے پاس گئی۔ امی کی آنکھیں لال تھیں۔


"امی، کیا ہوا؟"


"کچھ نہیں، پیاز کاٹ رہی تھی۔" امی نے مسکرا کر ٹال دیا، مگر وہ مسکراہٹ بھی تھکی ہوئی تھی۔


رات کو سوہا نے امی کو ابو سے کہتے سنا، "آپ کم از کم بچوں کے سامنے تو..."


ابو نے اخبار بند کیا، "میں نے کیا کہا ہے؟ میں تو خاموش ہوں۔"


اور یہی تو مسئلہ تھا۔ وہ خاموشی جو چیخ سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔


سوہا اپنے کمرے میں آئی اور ڈائری نکالی۔ اس نے لکھنا شروع کیا۔ وہ سب کچھ جو وہ کبھی کسی سے کہہ نہ سکی۔


اس نے لکھا کہ وہ کیسے چاہتی ہے کہ کوئی گھر ایسا ہو جہاں شام کو قہقہے گونجیں، جہاں ابو امی کے لیے چائے بنا دیں، جہاں ماں باپ ایک دوسرے کو الزام نہ دیں۔ اس نے لکھا کہ وہ علی سے محبت کرتی ہے، مگر اسے ڈر ہے کہ اس کی محبت بھی اسی خاموشی میں دفن ہو جائے گی۔


اگلے دن کالج میں تقریری مقابلہ تھا۔ موضوع تھا "خاموشی بولتی ہے"۔


ندا نے زبردستی سوہا کا نام لکھوا دیا۔


"میں نہیں بول سکتی۔"


"تمہیں بولنا ہو گا۔ تمہارے اندر جو خاموشی ہے، اسے سب کو سنانا ہو گا۔"


اسٹیج پر سوہا کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ سامنے سینکڑوں طلبہ، اساتذہ۔ پہلی قطار میں علی بھی بیٹھا تھا۔ اسے ندا نے بلایا تھا۔


سوہا نے مائیک سنبھالا۔ اس کی آواز شروع میں بہت دھیمی تھی۔


"خاموشی ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی خاموشی میں پوری نسل کی تھکن بولتی ہے۔ میرے گھر میں میرے امی ابو برسوں سے خاموش ہیں۔ وہ لڑتے نہیں، مگر ان کی خاموشی ہر روز ہمیں بتاتی ہے کہ محبت صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں۔ محبت ایک دوسرے کو سننے کا نام ہے۔"


ہال میں مکمل سناٹا چھا گیا۔


"ہم اولاد اس خاموشی کو سنتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں۔ ہم ڈر جاتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ شاید محبت کا انجام یہی ہے۔ اسی ڈر سے ہم اپنے پیاروں کو خود سے دور کر دیتے ہیں، جیسے میں نے کیا۔ میں نے ایک ایسے شخص کو بلاک کر دیا جو میری خاموشی کو بھی سن لیتا تھا، صرف اس لیے کہ مجھے لگا میری ماں کی کہانی میری کہانی بھی بن جائے گی۔"


اس کی نظر علی پر پڑی۔ علی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔


"آج میں نے سیکھا ہے کہ خاموشی کو توڑنا پڑتا ہے۔ اگر میرے امی ابو نے وقت پر ایک دوسرے سے بات کر لی ہوتی، تو شاید آج ان کی خاموشی نہ بولتی۔ اس لیے اگر آپ کسی سے محبت کرتے ہیں، تو اسے بتائیں۔ اس کی خاموشی کو سنیں، اس سے پہلے کہ وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے۔"


تالیوں کی گونج دیر تک ہال میں رہی۔


تقریب کے بعد علی باہر اس کا منتظر تھا۔


سوہا نے آہستہ سے اپنا فون نکالا اور اس کے سامنے بلاک لسٹ سے اس کا نمبر ان بلاک کیا۔


"میں اب خاموش نہیں رہوں گی، علی۔"


علی نے مسکرا کر کہا، "میں تو کب سے تمہاری خاموشی کا ترجمہ سن رہا تھا۔"


اس شام سوہا جب گھر گئی تو اس نے پہلی بار ہمت کر کے ابو اور امی دونوں کو صحن میں بٹھایا۔ اس نے انہیں اپنی تقریر کی ویڈیو دکھائی۔


ویڈیو ختم ہوئی تو تینوں خاموش تھے۔ پھر ابو نے آہستہ سے امی کی طرف دیکھا اور بولے، "شاید بچی ٹھیک کہہ رہی ہے، ہم نے بہت دیر خاموشی میں گزار دی۔"


امی نے کچھ نہ کہا، بس ابو کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ برسوں بعد اس گھر میں پہلی بار خاموشی نہیں، بلکہ سکون بول رہا تھا۔


سوہا سمجھ گئی تھی کہ بعض اوقات رشتوں کو بچانے کے لیے بولنا پڑتا ہے، اور بعض اوقات بولنے کے لیے خاموشی کو سننا پڑتا ہے۔