ہمارے بگاڑ کی جڑ، جہالت کے ساتھ انا ،تحریر: ام عبد القہار
نقطہ نظر
معاشرے کی بہت سی خرابیاں وہاں جنم لیتی ہیں جہاں انسان اپنی معلومات کو مکمل، اپنی رائے کو آخری اور اپنی غلطی کو ناممکن سمجھ لیتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہمیں کتنا علم حاصل ہے؛ اصل سوال یہ بھی ہے کہ ہمیں اپنی لاعلمی کا کتنا احساس ہے۔ کم علمی کے ساتھ سیکھنے کی خواہش ہو تو راستے کھلتے ہیں، لیکن غلط علمی کے ساتھ انا شامل ہوجائے تو انسان خود بھی بھٹکتا ہے اور دوسروں کو بھی بھٹکاتا ہے۔
کم علمی، لاعلمی اور غلط علمی الگ حالتیں ہیں۔ کم علمی میں کسی موضوع کی چند باتیں معلوم ہوتی ہیں، پوری تصویر سامنے نہیں ہوتی۔ لاعلمی میں متعلقہ بات کا علم نہیں ہوتا۔ غلط علمی میں انسان حقیقت کے خلاف بات کو درست سمجھ رہا ہوتا ہے۔ ان میں سب سے پیچیدہ حالت تب بنتی ہے جب آدمی اپنی غلط معلومات ہی کو قطعی علم سمجھ لے اور اصلاح کی ضرورت سے انکار کردے۔ علمی اصطلاح میں اسے جہلِ مرکب کہا جاتا ہے۔
کسی بات کا معلوم نہ ہونا بذاتِ خود ہر حال میں گناہ نہیں۔ ہر شخص ہر فن کا ماہر نہیں ہوسکتا۔ البتہ اپنی ذمہ داری کا ضروری علم حاصل نہ کرنا، جاننے کا موقع ہوتے ہوئے غفلت برتنا، یا بغیر علم دوسروں کی رہنمائی کرنا نقصان کا دروازہ کھولتا ہے۔ قرآن ہمیں ہدایت دیتا ہے کہ جس بات کا علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو؛ سماعت، بصارت اور دل کی بازپرس ہوگی۔ یہ حکم ہماری زبان، فیصلوں اور پیغامات، سب کو ذمہ دار بناتا ہے۔ (بنی اسرائیل: ۳۶)
جہالت کو صرف ناخواندگی سمجھنا بھی غلط فہمی ہے۔ کوئی شخص پڑھنا لکھنا کم جانتا ہو، مگر حق قبول کرنے، انصاف کرنے اور معذرت کرنے میں آگے ہو۔ دوسری طرف بڑی اسناد رکھنے والا شخص بھی تعصب، تحقیر اور ضد کا شکار ہوسکتا ہے۔ تعلیم معلومات بڑھاتی ہے؛ ان معلومات کو انصاف اور تواضع کے ساتھ برتنا تربیت چاہتا ہے۔ اس لیے کسی کی ڈگری دیکھ کر اس کے ہر فیصلے کو درست سمجھ لینا بھی علمی احتیاط کے خلاف ہے۔
انا اس خرابی کو زیادہ خطرناک بنادیتی ہے۔ یہاں انا سے مراد اپنی عزت کی حفاظت نہیں، بلکہ اپنی بات بچانے کے لیے حق کو رد کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تکبر کی پہچان بیان فرمائی الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ یعنی حق کو ٹھکرانا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔ (صحیح مسلم: ۹۱) اس معیار پر ہمیں اپنی مجلسیں، گھریلو گفتگو اور اختلافات دیکھنے چاہییں۔ کیا دلیل سامنے آنے پر بات مان لیتے ہیں، یا بولنے والے کی عمر، حیثیت اور رتبہ دیکھتے ہیں؟
قرآن میں قومِ عاد کا واقعہ اسی غرور کی عبرت انگیز تصویر ہے۔ انہوں نے اپنی قوت پر ناز کیا اور کہا: ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا کہ ان کا خالق ان سے زیادہ قوت والا ہے۔ پھر ان پر تند ہوا کا عذاب آیا۔ ان کی تباہی محض معلومات کی کمی کا نتیجہ نہیں تھی؛ اس میں کفر، آیات کا انکار اور ناحق تکبر شامل تھا۔ طاقت ان کے پاس تھی، مگر طاقت دینے والے کے سامنے عاجزی نہیں تھی۔ (فصلت: ۱۵، ۱۶)
فرعون اور اس کے لوگوں کے بارے میں قرآن بتاتا ہے کہ انہوں نے ظلم اور بڑائی کی وجہ سے نشانیوں کا انکار کیا، حالاں کہ ان کے دل یقین کرچکے تھے۔ (النمل: ۱۴) یہاں مسئلہ سمجھ نہ آنے کا نہیں، سمجھنے کے باوجود تسلیم نہ کرنے کا تھا۔ یہ واقعہ ہمیں اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دیتا ہے: کہیں ہم بھی اپنی کرسی، روایت یا برتری بچانے کے لیے واضح غلطی کا دفاع تو نہیں کررہے؟ قرآنی واقعات پہلے اپنے احتساب کے لیے پڑھنے چاہییں، دوسروں پر القاب چسپاں کرنے کے لیے نہیں۔
البتہ آج کی ہر مصیبت کو کسی فرد یا قوم کے لیے قطعی عذاب قرار دینا درست نہیں۔ ہمارے لیے سبق ظلم، انکار اور تکبر سے بچنا ہے؛ دوسروں کی آزمائشوں پر خدائی فیصلے سنانا ہمارا منصب اور اختیار ہرگز نہیں ہے۔
روزمرہ نفسیاتی مشاہدہ ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی رائے کو اپنی ذات کے ساتھ باندھ لیتا ہے۔ تب رائے کی اصلاح اسے اپنی توہین محسوس ہوتی ہے۔ وہ بات سمجھنے کے بجائے جواب تیار کرتا ہے، اپنی تائید کرنے والی باتیں چنتا ہے اور مخالف دلیل کو نظرانداز کردیتا ہے۔ یوں گفتگو مقابلہ بن جاتی ہے۔ اس کیفیت سے نکلنے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی ایک بات میں غلط ہونا ہماری پوری شخصیت کے بے قدر ہوجانے کا اعلان نہیں۔
گھروں میں یہی رویہ رشتوں کو زخمی کرتا ہے۔ والدین بچے کی بات سنے بغیر فیصلہ سنادیں، میاں بیوی ایک دوسرے کی نیت خود طے کرلیں، یا بڑے اپنی ہر سختی کو تربیت کا نام دے دیں، تو اصلاح کی جگہ خوف بڑھ سکتا ہے۔ اداروں میں ذمہ دار فرد غلطی ماننے سے انکار کرے تو ماتحت سچ بتانے سے گھبراتے ہیں۔ پھر خامیاں چھپتی ہیں اور نقصان بڑھتا ہے۔ اختیار کے ساتھ مشورہ، جواب دہی اور اپنی اصلاح کی گنجائش ضروری ہے۔
دینی معاملات میں یہ ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ ادھورا کلپ، بے حوالہ روایت یا سنی سنائی بات مکمل حکم کی جگہ نہیں لے سکتی۔ معتبر اہلِ علم سے پوچھنا، عبارت کا سیاق سمجھنا اور اختلاف کی نوعیت جاننا ضروری ہے۔ اسی طرح ہر اختلاف جہالت نہیں اور ہر مخالف متکبر نہیں۔ کبھی دوسرے کے پاس ایسی دلیل یا معلومات ہوتی ہیں جو ہمارے سامنے نہیں ہوتیں۔ قرآن کا اہلِ ذکر سے پوچھنے کا حکم ہمیں اپنی علمی حد پہچاننے کی تربیت بھی دیتا ہے۔ (النحل: ۴۳)
اصلاح کی ابتدا چند سچے جملوں سے ہوسکتی ہے: مجھے معلوم نہیں؛ میں تحقیق کرلوں؛ آپ کی بات درست ہوسکتی ہے؛ مجھ سے غلطی ہوئی۔ جس کی حق تلفی ہوئی ہو، اس سے معافی اور تلافی بھی ضروری ہے۔ بچوں کو سوال کرنے کا حوصلہ دیں، اپنی رائے کا ماخذ پوچھیں اور خبر آگے بڑھانے سے پہلے تصدیق کریں۔ علم کا حسن یہ ہے کہ وہ ہمیں حقیقت کے قریب اور تکبر سے دور کرے۔ معاشرہ تب سنورے گا جب ہم دوسروں کو خاموش کرانے سے زیادہ خود صحیح بات سننے اور ماننے کی صلاحیت پیدا کریں گے۔
مزید پڑھیں




