آج کا شاعر,کیفیتوں کا تماشائی یا حقیقتوں کا ترجمان،تحریر: یاسمین اختر طوبیٰ
نقطہ نظر
شاعر حضرات بھی واقعی کمال مخلوق ہوتے ہیں۔ ایک عام انسان بارش دیکھ کر چھتری تلاش کرتا ہے، مگر شاعر اسی بارش میں بھیگ کر محبوب کی یادوں کا سیلاب بہا دیتا ہے۔ دھوپ نکلے تو ہم سایہ ڈھونڈتے ہیں اور شاعر کو فوراً محبوب کی زلفوں کی گھنی چھاؤں یاد آ جاتی ہے۔ سردی بڑھے تو ہم لحاف میں گھس جاتے ہیں لیکن شاعر کے دل میں گرم آہیں اور اداس مصرعے کروٹیں لینے لگتے ہیں۔ گویا موسم بدلتا نہیں، شاعر کی کیفیت بدلتی رہتی ہے۔
شاعر کا دل بھی بڑی دلچسپ شے ہے، ٹوٹ جائے تو غزل بن جاتی ہے، جُڑ جائے تو نظم اور اگر محبوب کی طرف سے "seen" آ کر جواب نہ آئے تو پورا دیوان تیار ہو جاتا ہے۔ بعض شاعر تو ایسے بھی ہوتے ہیں کہ درد کی تلاش میں رہتے ہیں لیکن اگر کہیں سے درد نہ ملے تو معمولی سی بات کو بھی ایسا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں کہ سننے والا سمجھے کوئی عظیم سانحہ گزر گیا ہے۔
اب ذرا شاعر کی روزمرہ زندگی پر بھی نظر ڈالیں، چائے کا کپ سامنے ہو تو وہ صرف چائے نہیں پیتا بلکہ اس میں ڈوبی ہوئی یادوں کو گھونٹ گھونٹ پی جاتا ہے۔ بسکٹ چائے میں ذرا سا ٹوٹ جائے تو فوراً "ٹوٹے ہوئے رشتوں" پر ایک عدد نظم تیار ہو جاتی ہے۔ اگر قلم نہ ملے تو انگلی سے ہوا میں شعر لکھنے لگتا ہے اور اگر کاغذ مل جائے تو پھر کاغذ بیچارہ اپنی قسمت پر آنسو بہاتا ہے۔
سوشل میڈیا نے تو شاعروں کو مزید پر لگا دیے ہیں، اسٹیٹس (status) لگایا "خاموش ہوں" اور ساتھ طویل اشعار کی قطار۔ کوئی پوچھ بیٹھے "خیریت؟" تو جواب میں پوری غزل بھیج دی جاتی ہے۔ صبح کو "Good morning" بھی ایسے انداز میں کہا جاتا ہے کہ پڑھنے والا طے نہ کر سکے کہ یہ دعا ہے، نظم ہے یا کسی دل کا خفیہ حال۔
اور مزے کی بات یہ ہے کہ شاعر کی تنہائی بھی بڑی زرخیز ہوتی ہے "WiFi" چلا جائے، موبائل کی بیٹری ختم ہو جائے، یا دوست مصروف نکلیں، تو فوراً تنہائی، بے وفائی اور زمانے کی ستم ظریفی پر کئی اشعار تیار ہو جاتے ہیں۔ بلکہ بعض شاعر تو ایسے بھی ہیں جو احتیاطاً خوشی کے عالم میں بھی ایک اداس نظم لکھ لیتے ہیں کہ کہیں مسرت زیادہ دیر نہ ٹھہر جائے۔
یہاں تک کہ شاعر کے خواب بھی عام نہیں ہوتے، کوئی خواب دیکھے تو بس ایک منظر ہوتا ہے، مگر شاعر کا خواب بھی تشبیہوں، استعاروں اور علامتوں کی بارات لے کر آتا ہے۔ جاگنے کے بعد بھی وہ خواب ختم نہیں ہوتا بلکہ ایک مکمل نظم کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
اور اگر کبھی کسی محفل میں شاعر کو مائیک مل جائے تو پھر سامعین کی خیر نہیں، ایک شعر پر "داد" کم ملے تو اگلے پانچ اشعار بطورِ وضاحت پیش کر دیے جاتے ہیں، اور اگر داد زیادہ مل جائے تو اسی شعر کی تین مختلف تشریحات بھی ساتھ شامل کر دی جاتی ہیں۔
یوں لگتا ہے جیسے شاعر کے پاس ہر کیفیت کا ادبی ورژن پہلے سے محفوظ ہوتا ہے، دل خوش ہو تو بھی شعر، دل دکھی ہو تو بھی شعر، اور اگر کچھ سمجھ نہ آئے تو "دل کی کیفیت بیان سے باہر ہے" لکھ کر بھی محفل لوٹ لی جاتی ہے۔
گویا شاعر صرف لفظ نہیں لکھتا، وہ لمحوں کو قید کرتا ہے، احساسات کو آواز دیتا ہے اور معمولی باتوں کو ایسی معنویت بخش دیتا ہے کہ عام زندگی بھی ایک داستان معلوم ہونے لگتی ہے۔ اسی لیے چاہے ہم جتنی بھی ہنسی مذاق کر لیں، جب دل واقعی بولنے لگتا ہے تو زبان نہیں، شاعر ہی کام آتا ہے اور تب احساس ہوتا ہے کہ یہ "عجیب مخلوق" دراصل ہماری خاموشیوں کی سب سے خوبصورت ترجمان ہے
اور شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا بدلتی رہتی ہے، زمانے نئے ہو جاتے ہیں، اندازِ گفتگو بدل جاتے ہیں، مگر شاعر کبھی پرانا نہیں ہوتا، وہ ہر دور میں نئے لفظوں کے ساتھ وہی پرانے احساسات زندہ رکھتا ہے۔ جب سب کچھ کہہ کر بھی کچھ باقی رہ جائے، تو وہی باقی ماندہ کیفیت شاعر کے قلم سے جنم لیتی ہے اور یہی اس کا اصل کمال ہے۔
مزید پڑھیں




