پُرتشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش سے فیصلہ کُن طاقت سے نمٹا جائے گا، کور کمانڈر کانفرنس

آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 277 ویں کور کمانڈرز کانفرنس نے واضح کیا گیا کہ ملک میں پُرتشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش سے فیصلہ کن طاقت کے ساتھ بلاامتیاز نمٹا جائے گا، جبکہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں پاکستان کا دفاعی حق ہیں۔
آئی ایس پی آرکے مطابق راولپنڈی میں 2 اکتوبر 2026 کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 277 ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی۔اجلاس کے آغاز میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادرِ وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے معصوم شہریوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کی بے مثال قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
کور کمانڈرز کانفرنس کے شرکا نے اعادہ کیا کہ افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں پاکستان کا دفاعی حق ہیں۔فور م نے واضح کیا کہ ہندوستان کے آلہ کار کے طور پر دہشتگردی کی سرپرستی اور اس کے سنگین نتائج کی تمام تر ذمہ داری صرف اور صرف طالبان کی مخبوط الحواس قیادت پر عائد ہوتی ہے۔
کانفرنس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تسلسل کے ساتھ کامیاب انٹیلی جنس کی بنیاد پر جاری انسدادِ دہشتگردی کی کارروائیوں کو سراہا گیا۔
شرکا نے زور دیا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے زمینی کارروائیوں کے ساتھ بہترین انتظامی اور گورننس کے اقدامات ناگزیر ہیں اور گورننس کو بنیادی سطح پر عوام کے قریب ترین لایا جانا چاہیے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عوام کے ساتھ دہشتگردی کی وجوہات اور عملات پر مؤثر رابطہ کاری اور قومی بیانیے پر کام کیا جائے۔ فورم نے مخصوص عناصر کے زیرِ سایہ چلنے والے ٹیرئیر کرائم‘ گٹھ جوڑ کو توڑنے اور پولیس کی آپریشنل استعدادِ کار کو مزید بڑھانے کو ناگزیر قرار دیا۔
کور کمانڈرز کانفرنس نے واضح کیا کہ پاکستان کے لیے داخلی استحکام انتہائی اہم ہے۔ فورم نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ کسی بھی جواز پر، پُرتشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کو فیصلہ کن طاقت اور قانون کے ساتھ بلاامتیاز اور بلا جھجھک نمٹا جائے گا۔
فورم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھرپور خیر مقدم کیا، کور کمانڈرز کانفرنس نے معاہدے کو دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات اور مشترکہ دفاعی تعاون کے فروغ میں اہم قرار دیا۔
کور کمانڈر زکانفرنس کے شرکاء نے سعودی عرب کیخلاف حوثی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت اور برہمی کا اظہار کیا۔
کانفرنس نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔اپنے اختتامی خطاب میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ہدایت کی کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مضبوط کرنے کے عمل کو جاری رکھا جائے۔انہوں نے تمام فارمیشنز کو ہدایت کی کہ جدید ٹیکنالوجی کے حصول، ٹریننگ اور تمام جنگی جہتوں کے انضمام کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ جاری رکھیں۔
انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ قوم کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
مزید پڑھیں





