دنیا میں انسان کی پہچان اس کے لباس دولت عہدے یا شہرت سے نہیں بلکہ اس کے دل میں موجود احساس سے ہوتی ہے کیونکہ احساس ہی وہ دولت ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے کسی دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا کسی بھوکے کی بھوک محسوس کرنا کسی یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنا کسی مجبور کی آنکھوں میں چھپے آنسوؤں کو پڑھ لینا اور کسی بے سہارا انسان کے لیے آسانی پیدا کرنا ہی اصل انسانیت ہے مگر افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں احساس کی جگہ مفادات نے لے لی ہے دل موجود ہیں مگر ان میں درد نہیں آنکھیں موجود ہیں مگر ان میں آنسو نہیں کان موجود ہیں مگر انہیں مظلوم کی فریاد سنائی نہیں دیتی اور زبانیں موجود ہیں مگر ان سے نکلنے والے الفاظ میں محبت کے بجائے نفرت کی تلخی زیادہ محسوس ہوتی ہے ہم ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں کسی انسان کی پریشانی چند لمحوں کی خبر بن کر رہ جاتی ہے کسی غریب کی موت کچھ دیر کی گفتگو کا موضوع بنتی ہے کسی یتیم کی بے بسی پر چند آنسو بہائے جاتے ہیں اور پھر زندگی اسی بے حسی کے ساتھ آگے بڑھنے لگتی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ہمارے سامنے روزانہ ایسے واقعات آتے ہیں جو دل کو ہلا کر رکھ دینے کے لیے کافی ہوتے ہیں مگر ہم چند لمحے افسوس کرتے ہیں اور پھر اپنی دنیا میں واپس چلے جاتے ہیں شاید ہم بھول چکے ہیں کہ آج کسی دوسرے کے گھر میں اندھیرا ہے تو کل ہمارے اپنے گھر کو بھی کسی آزمائش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے آج مہنگائی نے غریب آدمی کی کمر توڑ دی ہے ایک مزدور دن بھر دھوپ میں پسینہ بہانے کے باوجود اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام نہیں کر پاتا ایک باپ بازار میں کھڑے ہو کر بچوں کی پسندیدہ چیزوں کی قیمت پوچھتا ہے اور پھر خاموشی سے آگے بڑھ جاتا ہے کیونکہ اس کی جیب اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنے بچوں کی چھوٹی سی خواہش پوری کر سکے ایک ماں اپنے بچوں کو بھوکا سلا کر خود یہ کہہ دیتی ہے کہ اس کا پیٹ بھرا ہوا ہے حالانکہ اس کے دل میں بھوک سے زیادہ اپنے بچوں کی بے بسی کا درد ہوتا ہے مگر افسوس کہ ایسے والدین کی خاموش قربانیوں کو سمجھنے والے کتنے لوگ ہیں ہماری بے حسی کا عالم یہ ہے کہ اگر کسی غریب کے بچے کے پاس اسکول کی فیس نہ ہو تو اسے تعلیم سے محروم ہونا پڑتا ہے اگر کسی بیمار کے پاس علاج کے پیسے نہ ہوں تو اس کے لیے بیماری سے لڑنا بھی مشکل ہو جاتا ہے اگر کسی مزدور کا روزگار چھن جائے تو اس کے گھر کا چولہا بجھنے لگتا ہے اور اگر کسی یتیم کے سر سے سرپرستی کا سایہ اٹھ جائے تو اس کی زندگی کے کئی راستے بند ہو جاتے ہیں یہ مسائل کسی ایک گھر کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی معاشرے کا وہ چہرہ ہیں جسے دیکھنے کے لیے صرف آنکھیں نہیں بلکہ زندہ ضمیر بھی درکار ہے سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے انسان کی قدر بھی اس کی مالی حیثیت سے وابستہ کر دی ہے دولت مند کے لیے ہمارے پاس وقت بھی ہے عزت بھی ہے اور تعریفی الفاظ بھی جبکہ غریب ہماری محفلوں میں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کسی بڑے عہدے پر فائز شخص کی آمد پر لوگ استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں مگر کسی غریب اور مجبور انسان کی فریاد سننے کے لیے چند لمحے نکالنا بھی مشکل محسوس کرتے ہیں حالانکہ انسان کی اصل عظمت اس بات میں نہیں کہ وہ کتنے لوگوں سے سلام کرواتا ہے بلکہ اس میں ہے کہ کتنے دکھی انسان اس کے پاس آ کر سکون محسوس کرتے ہیں ہم مذہب کی بات کرتے ہیں اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں دوسروں کو اچھائی کا درس دیتے ہیں اور اپنے بچوں کو سچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں مگر کیا ہم نے کبھی اپنے کردار کا جائزہ لیا ہے کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے پڑوس میں کوئی بھوکا تو نہیں کوئی بیمار علاج کا منتظر تو نہیں کوئی بیوہ اپنی بنیادی ضروریات کے لیے پریشان تو نہیں کوئی یتیم تعلیم سے محروم تو نہیں اگر ہم ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے لگیں تو شاید ہمیں اندازہ ہو کہ انسانیت کی خدمت کے لیے بڑے بڑے دعووں کی نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے عملی اقدامات کی ضرورت ہے سوشل میڈیا نے ہمیں ایک دوسرے کے قریب بھی کیا ہے مگر کہیں نہ کہیں ہمارا احساس بھی محدود کر دیا ہے ہم کسی حادثے کی تصویر دیکھ کر اسے آگے بھیج دیتے ہیں کسی مظلوم کی فریاد پر تبصرہ کر دیتے ہیں کسی غریب کی مدد کی اپیل پر افسوس کا اظہار کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا حالانکہ کسی کی تصویر شیئر کرنے سے اس کی بھوک ختم نہیں ہوتی کسی کی تکلیف پر افسوس لکھنے سے اس کا علاج نہیں ہوتا اور کسی مظلوم کے حق میں نعرہ لگانے سے اس کی زندگی کے مسائل حل نہیں ہوتے جب تک ہمارے الفاظ عمل میں تبدیل نہیں ہوں گے ہماری ہمدردی ادھوری رہے گی ہمارے معاشرے میں ایک خطرناک رویہ یہ بھی پیدا ہو گیا ہے کہ ہم دوسروں کی تکلیف کو اس وقت تک اہمیت نہیں دیتے جب تک وہ تکلیف ہمارے اپنے گھر تک نہ پہنچ جائے کسی کے بچے کے ساتھ ظلم ہو تو ہم اسے ایک واقعہ سمجھتے ہیں کسی کے گھر کا چراغ بجھ جائے تو اسے ایک خبر قرار دیتے ہیں کسی کی عزت پامال ہو تو ہم اس کے کردار پر سوال اٹھانے لگتے ہیں اور کسی غریب کے ساتھ ناانصافی ہو تو ہم خاموشی اختیار کر لیتے ہیں لیکن جب یہی حالات ہمارے اپنے خاندان کو پیش آتے ہیں تو ہمیں انصاف بھی یاد آتا ہے اور انسانیت بھی حالانکہ دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کے لیے اپنے اوپر مصیبت آنے کا انتظار کرنا بے حسی کی علامت ہے حکمرانوں سے لے کر عام شہری تک ہر شخص کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشرے صرف سڑکوں پلوں عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں سے ترقی یافتہ نہیں بنتے بلکہ ان کی اصل ترقی اس وقت سامنے آتی ہے جب کمزور کو انصاف ملتا ہے غریب کو روزگار میسر آتا ہے بیمار کو علاج ملتا ہے بچے کو تعلیم ملتی ہے اور مظلوم کی آواز سنی جاتی ہے اگر کسی ملک میں بلند و بالا عمارتیں تعمیر ہو جائیں مگر انسان کے دل میں رحم پیدا نہ ہو اگر بازار روشن ہو جائیں مگر غریب کے گھر میں اندھیرا رہے اور اگر ترقی کے دعوے بلند ہوں مگر عام آدمی کی زندگی مشکلات سے بھری رہے تو ایسی ترقی کے دعووں کا جائزہ لینا ضروری ہے ہمیں اپنے رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے کسی کی مدد کرنا احسان جتانے کا نام نہیں بلکہ انسان ہونے کا تقاضا ہے کسی بھوکے کو کھانا کھلانا کسی طالب علم کی کتابوں کا انتظام کرنا کسی مریض کے علاج میں حصہ ڈالنا کسی بے روزگار کو روزگار کی راہ دکھانا اور کسی پریشان حال انسان کی بات توجہ سے سن لینا ایسے کام ہیں جن کے لیے دولت مند ہونا ضروری نہیں بلکہ درد سے بھرا دل ہونا ضروری ہے بعض اوقات ایک نرم جملہ کسی ٹوٹے ہوئے انسان کو حوصلہ دے دیتا ہے اور کبھی ایک چھوٹی سی مدد کسی خاندان کی زندگی میں امید کا چراغ روشن کر دیتی ہے ہمیں اپنے بچوں کو صرف کامیابی حاصل کرنے کا طریقہ نہیں سکھانا چاہیے بلکہ دوسروں کے لیے مفید انسان بننے کی تربیت بھی دینی چاہیے انہیں بتانا چاہیے کہ کسی کمزور کا مذاق اڑانا بہادری نہیں کسی مجبور کو حقیر سمجھنا بڑائی نہیں اور کسی کے دکھ سے بے پروا رہنا عقل مندی نہیں بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے علم دولت اور صلاحیتوں سے دوسروں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرے یاد رکھیے کہ زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی آج جو شخص کسی کی مدد کرنے کی طاقت رکھتا ہے کل وہ خود بھی کسی کے سہارے کا محتاج ہو سکتا ہے آج جو ہاتھ کسی گرتے ہوئے انسان کو تھام لیتا ہے کل اسی ہاتھ کو سہارا دینے کے لیے کوئی دوسرا ہاتھ آگے بڑھ سکتا ہے اس لیے انسانوں کے ساتھ محبت کیجیے ان کی مجبوریوں کا مذاق نہ اڑائیے ان کے دکھوں کو معمولی نہ سمجھیے اور کسی کی خاموشی کو اس بات کی دلیل نہ بنائیے کہ اسے تکلیف نہیں ہے کیونکہ بعض لوگ اپنے آنسو چھپا کر بھی زندگی کی سب سے بڑی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دلوں میں احساس کی شمع دوبارہ روشن کریں اپنے ضمیر کو جگائیں اپنی ترجیحات کا جائزہ لیں اور یہ عہد کریں کہ جہاں ممکن ہوا کسی مجبور کا سہارا بنیں گے کسی مظلوم کی آواز بنیں گے اور کسی دکھی انسان کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کریں گے کیونکہ معاشرے کی اصلاح صرف حکومتوں کے اقدامات سے نہیں بلکہ افراد کے کردار سے بھی ہوتی ہے آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ درد سے خالی دل رکھنے والا انسان بظاہر زندہ ہو سکتا ہے مگر اس کی انسانیت اس وقت کمزور پڑنے لگتی ہے جب اسے دوسروں کی تکلیف محسوس ہونا بند ہو جاتی ہے ہمیں اپنے دلوں کو دولت کی چمک سے نہیں بلکہ محبت کی روشنی سے آباد کرنا ہوگا کیونکہ دنیا میں سب کچھ حاصل کرنے کے باوجود اگر ہمارے اندر احساس باقی نہیں رہا تو ہماری کامیابی ادھوری ہے آئیے ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں کسی غریب کی آہ بے اثر نہ ہو جہاں کسی یتیم کی آنکھ آنسوؤں سے نہ بھرے جہاں کسی مجبور کو تنہا نہ چھوڑا جائے اور جہاں انسان کی پہچان اس کی دولت نہیں بلکہ اس کا کردار ہو کیونکہ جس دن ہمارے دل دوسروں کے درد کو محسوس کرنا شروع کر دیں گے اسی دن انسانیت کی حقیقی بحالی کا سفر شروع ہو جائے گا






