جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

درد سے خالی دل،تحریر: سید ساجد علی شاہ

نقطہ نظر
sajid ali shah

دنیا میں انسان کی پہچان اس کے لباس دولت عہدے یا شہرت سے نہیں بلکہ اس کے دل میں موجود احساس سے ہوتی ہے کیونکہ احساس ہی وہ دولت ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے کسی دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا کسی بھوکے کی بھوک محسوس کرنا کسی یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنا کسی مجبور کی آنکھوں میں چھپے آنسوؤں کو پڑھ لینا اور کسی بے سہارا انسان کے لیے آسانی پیدا کرنا ہی اصل انسانیت ہے مگر افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں احساس کی جگہ مفادات نے لے لی ہے دل موجود ہیں مگر ان میں درد نہیں آنکھیں موجود ہیں مگر ان میں آنسو نہیں کان موجود ہیں مگر انہیں مظلوم کی فریاد سنائی نہیں دیتی اور زبانیں موجود ہیں مگر ان سے نکلنے والے الفاظ میں محبت کے بجائے نفرت کی تلخی زیادہ محسوس ہوتی ہے ہم ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں کسی انسان کی پریشانی چند لمحوں کی خبر بن کر رہ جاتی ہے کسی غریب کی موت کچھ دیر کی گفتگو کا موضوع بنتی ہے کسی یتیم کی بے بسی پر چند آنسو بہائے جاتے ہیں اور پھر زندگی اسی بے حسی کے ساتھ آگے بڑھنے لگتی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ہمارے سامنے روزانہ ایسے واقعات آتے ہیں جو دل کو ہلا کر رکھ دینے کے لیے کافی ہوتے ہیں مگر ہم چند لمحے افسوس کرتے ہیں اور پھر اپنی دنیا میں واپس چلے جاتے ہیں شاید ہم بھول چکے ہیں کہ آج کسی دوسرے کے گھر میں اندھیرا ہے تو کل ہمارے اپنے گھر کو بھی کسی آزمائش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے آج مہنگائی نے غریب آدمی کی کمر توڑ دی ہے ایک مزدور دن بھر دھوپ میں پسینہ بہانے کے باوجود اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام نہیں کر پاتا ایک باپ بازار میں کھڑے ہو کر بچوں کی پسندیدہ چیزوں کی قیمت پوچھتا ہے اور پھر خاموشی سے آگے بڑھ جاتا ہے کیونکہ اس کی جیب اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنے بچوں کی چھوٹی سی خواہش پوری کر سکے ایک ماں اپنے بچوں کو بھوکا سلا کر خود یہ کہہ دیتی ہے کہ اس کا پیٹ بھرا ہوا ہے حالانکہ اس کے دل میں بھوک سے زیادہ اپنے بچوں کی بے بسی کا درد ہوتا ہے مگر افسوس کہ ایسے والدین کی خاموش قربانیوں کو سمجھنے والے کتنے لوگ ہیں ہماری بے حسی کا عالم یہ ہے کہ اگر کسی غریب کے بچے کے پاس اسکول کی فیس نہ ہو تو اسے تعلیم سے محروم ہونا پڑتا ہے اگر کسی بیمار کے پاس علاج کے پیسے نہ ہوں تو اس کے لیے بیماری سے لڑنا بھی مشکل ہو جاتا ہے اگر کسی مزدور کا روزگار چھن جائے تو اس کے گھر کا چولہا بجھنے لگتا ہے اور اگر کسی یتیم کے سر سے سرپرستی کا سایہ اٹھ جائے تو اس کی زندگی کے کئی راستے بند ہو جاتے ہیں یہ مسائل کسی ایک گھر کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی معاشرے کا وہ چہرہ ہیں جسے دیکھنے کے لیے صرف آنکھیں نہیں بلکہ زندہ ضمیر بھی درکار ہے سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے انسان کی قدر بھی اس کی مالی حیثیت سے وابستہ کر دی ہے دولت مند کے لیے ہمارے پاس وقت بھی ہے عزت بھی ہے اور تعریفی الفاظ بھی جبکہ غریب ہماری محفلوں میں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کسی بڑے عہدے پر فائز شخص کی آمد پر لوگ استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں مگر کسی غریب اور مجبور انسان کی فریاد سننے کے لیے چند لمحے نکالنا بھی مشکل محسوس کرتے ہیں حالانکہ انسان کی اصل عظمت اس بات میں نہیں کہ وہ کتنے لوگوں سے سلام کرواتا ہے بلکہ اس میں ہے کہ کتنے دکھی انسان اس کے پاس آ کر سکون محسوس کرتے ہیں ہم مذہب کی بات کرتے ہیں اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں دوسروں کو اچھائی کا درس دیتے ہیں اور اپنے بچوں کو سچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں مگر کیا ہم نے کبھی اپنے کردار کا جائزہ لیا ہے کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے پڑوس میں کوئی بھوکا تو نہیں کوئی بیمار علاج کا منتظر تو نہیں کوئی بیوہ اپنی بنیادی ضروریات کے لیے پریشان تو نہیں کوئی یتیم تعلیم سے محروم تو نہیں اگر ہم ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے لگیں تو شاید ہمیں اندازہ ہو کہ انسانیت کی خدمت کے لیے بڑے بڑے دعووں کی نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے عملی اقدامات کی ضرورت ہے سوشل میڈیا نے ہمیں ایک دوسرے کے قریب بھی کیا ہے مگر کہیں نہ کہیں ہمارا احساس بھی محدود کر دیا ہے ہم کسی حادثے کی تصویر دیکھ کر اسے آگے بھیج دیتے ہیں کسی مظلوم کی فریاد پر تبصرہ کر دیتے ہیں کسی غریب کی مدد کی اپیل پر افسوس کا اظہار کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا حالانکہ کسی کی تصویر شیئر کرنے سے اس کی بھوک ختم نہیں ہوتی کسی کی تکلیف پر افسوس لکھنے سے اس کا علاج نہیں ہوتا اور کسی مظلوم کے حق میں نعرہ لگانے سے اس کی زندگی کے مسائل حل نہیں ہوتے جب تک ہمارے الفاظ عمل میں تبدیل نہیں ہوں گے ہماری ہمدردی ادھوری رہے گی ہمارے معاشرے میں ایک خطرناک رویہ یہ بھی پیدا ہو گیا ہے کہ ہم دوسروں کی تکلیف کو اس وقت تک اہمیت نہیں دیتے جب تک وہ تکلیف ہمارے اپنے گھر تک نہ پہنچ جائے کسی کے بچے کے ساتھ ظلم ہو تو ہم اسے ایک واقعہ سمجھتے ہیں کسی کے گھر کا چراغ بجھ جائے تو اسے ایک خبر قرار دیتے ہیں کسی کی عزت پامال ہو تو ہم اس کے کردار پر سوال اٹھانے لگتے ہیں اور کسی غریب کے ساتھ ناانصافی ہو تو ہم خاموشی اختیار کر لیتے ہیں لیکن جب یہی حالات ہمارے اپنے خاندان کو پیش آتے ہیں تو ہمیں انصاف بھی یاد آتا ہے اور انسانیت بھی حالانکہ دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کے لیے اپنے اوپر مصیبت آنے کا انتظار کرنا بے حسی کی علامت ہے حکمرانوں سے لے کر عام شہری تک ہر شخص کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشرے صرف سڑکوں پلوں عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں سے ترقی یافتہ نہیں بنتے بلکہ ان کی اصل ترقی اس وقت سامنے آتی ہے جب کمزور کو انصاف ملتا ہے غریب کو روزگار میسر آتا ہے بیمار کو علاج ملتا ہے بچے کو تعلیم ملتی ہے اور مظلوم کی آواز سنی جاتی ہے اگر کسی ملک میں بلند و بالا عمارتیں تعمیر ہو جائیں مگر انسان کے دل میں رحم پیدا نہ ہو اگر بازار روشن ہو جائیں مگر غریب کے گھر میں اندھیرا رہے اور اگر ترقی کے دعوے بلند ہوں مگر عام آدمی کی زندگی مشکلات سے بھری رہے تو ایسی ترقی کے دعووں کا جائزہ لینا ضروری ہے ہمیں اپنے رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے کسی کی مدد کرنا احسان جتانے کا نام نہیں بلکہ انسان ہونے کا تقاضا ہے کسی بھوکے کو کھانا کھلانا کسی طالب علم کی کتابوں کا انتظام کرنا کسی مریض کے علاج میں حصہ ڈالنا کسی بے روزگار کو روزگار کی راہ دکھانا اور کسی پریشان حال انسان کی بات توجہ سے سن لینا ایسے کام ہیں جن کے لیے دولت مند ہونا ضروری نہیں بلکہ درد سے بھرا دل ہونا ضروری ہے بعض اوقات ایک نرم جملہ کسی ٹوٹے ہوئے انسان کو حوصلہ دے دیتا ہے اور کبھی ایک چھوٹی سی مدد کسی خاندان کی زندگی میں امید کا چراغ روشن کر دیتی ہے ہمیں اپنے بچوں کو صرف کامیابی حاصل کرنے کا طریقہ نہیں سکھانا چاہیے بلکہ دوسروں کے لیے مفید انسان بننے کی تربیت بھی دینی چاہیے انہیں بتانا چاہیے کہ کسی کمزور کا مذاق اڑانا بہادری نہیں کسی مجبور کو حقیر سمجھنا بڑائی نہیں اور کسی کے دکھ سے بے پروا رہنا عقل مندی نہیں بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے علم دولت اور صلاحیتوں سے دوسروں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرے یاد رکھیے کہ زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی آج جو شخص کسی کی مدد کرنے کی طاقت رکھتا ہے کل وہ خود بھی کسی کے سہارے کا محتاج ہو سکتا ہے آج جو ہاتھ کسی گرتے ہوئے انسان کو تھام لیتا ہے کل اسی ہاتھ کو سہارا دینے کے لیے کوئی دوسرا ہاتھ آگے بڑھ سکتا ہے اس لیے انسانوں کے ساتھ محبت کیجیے ان کی مجبوریوں کا مذاق نہ اڑائیے ان کے دکھوں کو معمولی نہ سمجھیے اور کسی کی خاموشی کو اس بات کی دلیل نہ بنائیے کہ اسے تکلیف نہیں ہے کیونکہ بعض لوگ اپنے آنسو چھپا کر بھی زندگی کی سب سے بڑی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دلوں میں احساس کی شمع دوبارہ روشن کریں اپنے ضمیر کو جگائیں اپنی ترجیحات کا جائزہ لیں اور یہ عہد کریں کہ جہاں ممکن ہوا کسی مجبور کا سہارا بنیں گے کسی مظلوم کی آواز بنیں گے اور کسی دکھی انسان کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کریں گے کیونکہ معاشرے کی اصلاح صرف حکومتوں کے اقدامات سے نہیں بلکہ افراد کے کردار سے بھی ہوتی ہے آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ درد سے خالی دل رکھنے والا انسان بظاہر زندہ ہو سکتا ہے مگر اس کی انسانیت اس وقت کمزور پڑنے لگتی ہے جب اسے دوسروں کی تکلیف محسوس ہونا بند ہو جاتی ہے ہمیں اپنے دلوں کو دولت کی چمک سے نہیں بلکہ محبت کی روشنی سے آباد کرنا ہوگا کیونکہ دنیا میں سب کچھ حاصل کرنے کے باوجود اگر ہمارے اندر احساس باقی نہیں رہا تو ہماری کامیابی ادھوری ہے آئیے ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں کسی غریب کی آہ بے اثر نہ ہو جہاں کسی یتیم کی آنکھ آنسوؤں سے نہ بھرے جہاں کسی مجبور کو تنہا نہ چھوڑا جائے اور جہاں انسان کی پہچان اس کی دولت نہیں بلکہ اس کا کردار ہو کیونکہ جس دن ہمارے دل دوسروں کے درد کو محسوس کرنا شروع کر دیں گے اسی دن انسانیت کی حقیقی بحالی کا سفر شروع ہو جائے گا