کبھی کبھی معمولی سی بات پر لوگوں کے بدلتے ہوئے رویّے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ کسی کی بات پسند نہ آئے تو چہرے کے تاثرات بدل جاتے ہیں، کوئی ہماری رائے سے اختلاف کر لے تو اسے غلط ثابت کرنے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے، اور اگر کوئی ہماری توقع کے مطابق جواب نہ دے تو ہم اسے اپنی توہین سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم سب کو اپنی بات کہنے کا حق تو چاہیے، مگر دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ آہستہ آہستہ کھوتے جا رہے ہیں۔
آخر ہمارے اندر برداشت کی کمی کیوں پیدا ہوتی جا رہی ہے؟
زندگی میں اختلاف ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ ہر انسان کی سوچ، مزاج، تربیت اور حالات دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ جو بات ایک شخص کو درست لگے، وہ دوسرے کو بھی اسی طرح درست محسوس ہو۔ پہلے بھی لوگ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے تھے، ناراض ہوتے تھے اور کبھی کبھار بحث بھی کر لیتے تھے، لیکن اختلاف کے باوجود تعلقات کو قائم رکھنے کی گنجائش موجود رہتی تھی۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ بعض اوقات ایک معمولی سی بات بھی دلوں میں فاصلے پیدا کرنے کے لیے کافی ہو جاتی ہے۔
ہم روزمرہ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ کسی دکان دار سے بات کرتے ہوئے، راستے میں کسی اجنبی سے معاملہ کرتے ہوئے، گھر میں کسی کی بات سنتے ہوئے یا دوستوں کی محفل میں اپنی رائے پیش کرتے ہوئے ہمارا رویّہ کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔ ایک نرم لہجہ بگڑتی ہوئی بات کو سنبھال سکتا ہے، لیکن تلخ الفاظ ایک معمولی معاملے کو بھی جھگڑے میں بدل سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم اکثر اپنے الفاظ کے انتخاب سے زیادہ اپنے غصے کے اظہار کو اہمیت دیتے ہیں۔ اس لمحے یہ یاد نہیں رہتا کہ بات صرف کہنے کی نہیں، کہنے کے انداز کی بھی ہوتی ہے۔
برداشت کی کمی کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ ہم اپنی ذات کو دوسروں کی نسبت زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں۔ اپنی پریشانی ہمیں بہت بڑی محسوس ہوتی ہے، اپنی تھکن کا احساس ہمیں شدت سے ہوتا ہے اور اپنی مجبوریوں کے لیے ہم فوراً گنجائش نکال لیتے ہیں۔ لیکن جب یہی صورتِ حال کسی دوسرے کے ساتھ پیش آئے تو ہم اسے سمجھنے کے بجائے اس کے رویّے پر فیصلہ صادر کر دیتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے حالات کو سمجھیں، ہماری غلطیوں کو معاف کریں اور ہماری بات کو اہمیت دیں، مگر دوسروں کے لیے یہی گنجائش پیدا کرنا ہمیں مشکل محسوس ہوتا ہے۔
ذرا غور کیجیے، کتنی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخص کا جواب ہماری توقع کے مطابق نہیں آتا اور ہم اس کے پیچھے موجود حالات جانے بغیر اس کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔ ممکن ہے وہ کسی پریشانی میں ہو، کسی مسئلے سے گزر رہا ہو یا محض تھکا ہوا ہو۔ ہر خاموشی بے رخی نہیں ہوتی، ہر اختلاف مخالفت نہیں ہوتا اور ہر انکار بے احترامی کی علامت نہیں ہوتا۔ لیکن جب ہم ہر بات کو اپنی ذات سے جوڑ کر دیکھنے لگتے ہیں تو دوسروں کے لیے ہمارے دل میں گنجائش کم ہوتی جاتی ہے۔
یہی رویّہ گھروں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ والدین چاہتے ہیں کہ بچے ان کی بات مانیں، مگر کبھی ان کی بات سننے کے لیے وقت نہیں نکالتے۔ بہن بھائی ایک دوسرے سے محبت تو کرتے ہیں، لیکن معمولی اختلاف پر پرانی باتیں دہرانے لگتے ہیں۔ دوستوں کے درمیان ایک رائے کا فرق تعلق میں سرد مہری پیدا کر دیتا ہے اور رشتہ داروں میں بعض اوقات ایک جملہ برسوں کی ناراضی کا سبب بن جاتا ہے۔ مسئلہ ہمیشہ اختلاف نہیں ہوتا، بلکہ اکثر وہ انداز ہوتا ہے جس میں اختلاف کو قبول کیا جاتا ہے۔
ہمارے رویّوں کا ایک پہلو سوشل میڈیا پر بھی نمایاں ہے۔ کسی کی رائے پسند نہ آئے تو اسے سمجھنے یا اس سے اختلاف کرنے کے بجائے تضحیک کا نشانہ بنانا آسان محسوس ہوتا ہے۔ دوسروں کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ہم سخت الفاظ استعمال کرنے میں دیر نہیں لگاتے، لیکن جب کوئی ہمارے بارے میں ایسا ہی رویّہ اختیار کرے تو ہمیں احترام اور شائستگی یاد آنے لگتی ہے۔ دوسروں کے لیے وہی اصول کیوں نہیں اپنائے جاتے جن کی توقع ہم اپنے لیے رکھتے ہیں؟
شاید ہم نے اختلاف کو ذاتی مسئلہ بنا لیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر کوئی ہماری بات سے متفق نہیں تو وہ ہماری قدر بھی نہیں کرتا۔ اگر کوئی ہماری خواہش پوری نہیں کرتا تو وہ خود غرض ہے، اور اگر کوئی ہمارے نقطۂ نظر کو قبول نہیں کرتا تو اسے سمجھ کی کمی ہے۔ حالاں کہ کسی دوسرے کی رائے مختلف ہونے سے ہماری اہمیت کم نہیں ہو جاتی۔ ہر انسان کو اپنی سوچ رکھنے اور اپنے تجربات کی روشنی میں فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ ضروری یہ ہے کہ اختلاف کے دوران بھی دوسرے انسان کی عزت برقرار رہے۔
برداشت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان ہر بات خاموشی سے سہتا رہے، اپنی رائے چھوڑ دے یا غلط بات کو درست مان لے۔ بعض معاملات میں اختلاف کرنا، اپنی حدود واضح کرنا اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہوتا ہے۔ اصل فرق یہ ہے کہ ہم اپنی بات کس انداز میں کہتے ہیں۔ مضبوط مؤقف رکھنے کے لیے تلخ زبان ضروری نہیں، اور کسی بات سے اختلاف کرنے کے لیے دوسرے کی تذلیل کرنا بھی لازم نہیں۔ انسان شائستگی کے ساتھ اپنی بات پر قائم رہ سکتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر بات کا فوری جواب دینا ضروری نہیں۔ کبھی چند لمحے رک جانا، بات کو دوبارہ سمجھنا اور اپنے جذبات پر قابو پانا بہت سے مسائل کو بڑھنے سے روک سکتا ہے۔ غصے کی حالت میں کہے گئے الفاظ اکثر وہ نقصان پہنچا دیتے ہیں جس کی تلافی بعد میں معافی مانگنے سے بھی پوری طرح نہیں ہو پاتی۔ اس لیے خاموشی ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی؛ کبھی یہ اپنے الفاظ اور اپنے تعلقات کی حفاظت کا ایک بہتر طریقہ ہوتی ہے۔
معاشرے میں بہتری صرف دوسروں کو نصیحت کرنے سے نہیں آئے گی۔ اس کے لیے ہر شخص کو اپنے رویّے پر بھی نظر ڈالنا ہوگی۔ ہم دوسروں سے صبر، احترام اور اچھے اخلاق کی توقع رکھتے ہیں، لیکن کیا ہم خود بھی ان صفات کو اپنی روزمرہ زندگی میں جگہ دیتے ہیں؟ کیا ہم کسی کی بات مکمل ہونے سے پہلے جواب تیار کرنا چھوڑ سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی غلطی تسلیم کرنے اور کسی دوسرے کے نقطۂ نظر کو سننے کا حوصلہ پیدا کر سکتے ہیں؟ یہ چھوٹی چھوٹی عادتیں بظاہر معمولی ہیں، لیکن ان کے اثرات ہمارے تعلقات اور معاشرتی ماحول پر بہت گہرے ہوتے ہیں۔
زندگی میں ہر شخص اپنی کسی نہ کسی الجھن سے گزر رہا ہے۔ کسی کی پریشانی ہمیں دکھائی دیتی ہے اور کسی کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپی تھکن ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ اگر ہم ہر شخص سے کامل رویّے کی توقع کرنے کے بجائے اسے انسان سمجھ کر دیکھیں تو شاید ہمارے ردِعمل میں کچھ نرمی پیدا ہو جائے۔ اس کا مطلب غلطیوں کو نظرانداز کرنا نہیں، بلکہ دوسروں کو سمجھنے کا موقع دینا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہم اپنے لیے چاہتے ہیں۔
معاشرے کو صرف زیادہ تعلیم یافتہ لوگوں کی نہیں، بلکہ اپنے علم کو اپنے رویّوں میں اتارنے والے لوگوں کی بھی ضرورت ہے۔ اچھے اخلاق کا امتحان صرف اس وقت نہیں ہوتا جب سب کچھ ہماری مرضی کے مطابق ہو، بلکہ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کوئی ہماری بات نہ مانے، ہم سے اختلاف کرے یا ہماری توقعات پوری نہ کر سکے۔
ہمیں دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنے ردِعمل کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہر اختلاف کو لڑائی، ہر انکار کو بے احترامی اور ہر غلطی کو ناقابلِ معافی سمجھنے کے بجائے اگر ہم تھوڑا سا تحمل پیدا کر لیں تو بہت سے فاصلے پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہو سکتے ہیں۔
ایک بہتر معاشرہ صرف بڑے دعووں اور اچھی باتوں سے نہیں بنتا۔ وہ اس وقت بنتا ہے جب ہم روزمرہ زندگی میں ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کرتے ہیں، اپنی زبان اور رویّے کا خیال رکھتے ہیں اور اختلاف کے باوجود انسان کی عزت کرنا نہیں بھولتے۔ دوسروں کو برداشت کرنا صرف ان کے لیے آسانی پیدا کرنا نہیں، بلکہ اپنے اندر انسانیت، شعور اور اخلاق کو زندہ رکھنا بھی ہے۔
مزید پڑھیں




