عورت,خاموش طاقت کی بلند آواز،تحریر: عائشہ گُل
نقطہ نظر
پیدا ہوتے ہی یہ اپنے ساتھ خیر اور رحمتیں لے کر نازل ہوتی ہے۔ جب کسی گھر میں پیدا ہوتی ہے۔ تو اس گھر میں رحمت کا باعث بنتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس گھر کا نگہبان بن جاتا ہے۔ بیٹی ہوتی ہے تو باپ کے لیے جنت میں جانے کا سبب بنتی ہے۔ اور جب کسی بھائی کی شفقت میں آتی ہے۔ تو پھر محبت کی اعلیٰ مثال قائم کرتی ہے۔ اور جب کسی کے نکاح میں آ جاتی ہے۔ تو اس کا آدھا ایمان مکمل کر دیتی ہے۔پھر جب ماں بنتی ہے تو جنت اس کے قدموں تلے رکھ دی جاتی ہے۔
وہ اکثر خاموش رہتی ہے، اس لیے لوگ اسے کمزور سمجھ لیتے ہیں۔ وہ معصوم ہے تو رحمت، بیوی ہے تو محبت، ماں ہے تو جنت، مگر وہ صرف یہی نہیں - خدا نے عورت کو نازک اس لیے بنایا تھا کہ طاقت ہمیشہ نازک ہاتھوں میں ہی زیادہ محفوظ رہتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسی عورت نے آزمائش میں پہاڑوں کو سر کیا، بی بی ہاجرہ نے صحرا میں تنہا صفا و مروہ کے چکر لگا کر سعی کو قیامت تک حج کا رکن بنا دیا، حضرت مریم نے سوکھے درخت سے توکل سے تازہ پھل پا لیے اور سیدہ فاطمۃ الزہرا نے خاتونِ جنت ہو کر بھی چکی پیسی۔
اور پھر ایک وقت آتا ہے۔جب یہی خاموشی سے سب کچھ سہنے والی عورت معاشرے کے لیے فیصلہ کن موڑ ثابت ہوتی ہے۔ عورت جب خاموشی کو اپنا لیتی ہے تو یہ اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی سب سے بڑی حکمت ہوتی ہے، وہ چیختی نہیں بلکہ بہت سے بگڑے معاملات کو اپنی خاموش حکمت سے سنبھال لیتی ہے، جہاں مرد غصے میں رشتے توڑ دیتا ہے وہاں عورت اپنی صبر بھری خاموشی اور مسکراہٹ سے انہیں جوڑ دیتی ہے، یہ خاموشی ہار نہیں جیت ہے۔
آخر میں آج کی عورت اسی خاموش طاقت کی سب سے روشن تصویر ہے، وہ صبح بچوں کو اسکول بھیجتی ہے تو وہی ہاتھ قلم اٹھاتا ہے، لیپ ٹاپ کھولتا ہے، کھیتوں میں کام کرتا ہے، ہسپتالوں میں زندگیاں بچاتا ہے اور کلاس روم میں نسلوں کو پڑھاتا ہے۔ دراصل عورت کی اصل جیت اسی میں ہے کہ وہ اللہ کی حدود اور اپنی حیا و وقار کی چادر میں لپٹی رہ کر زمانے کو فتح کرے، کیونکہ جو عورت اپنی حد میں رہ کر اڑتی ہے، آسمان بھی اس کے قدم چومتا ہے۔
مزید پڑھیں




