جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

عورت ،شعور، خودداری اور معاشرے میں کردار،تحریر:شگفتہ خان

نقطہ نظر
shagufta khan blog

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ


بے شک یہ بات بالکل درست ہے لیکن اس کے ساتھ عورت معاشرے کا اہم اور با وقار ستون بھی ہے۔ دنیا میں اللہ تعالی کی خوبصورت تخلیقات میں عورت کا شمار "صف اول" میں ہوتا ہے۔

ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہر روپ میں یہ رشتہ مقدس اور قابل احترام رہا ہے۔ عورت نے ہر رشتے میں اپنا کردار بخوبی سر انجام دیا ہے۔ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ لگانا ہو تو پہلے دیکھیں وہاں کی عورت کو معاشرے میں کیا مقام و مرتبہ دیا گیا ہے۔ کیا وہاں کی عورت کو معاشرے کی ترقی میں اہم ستون سمجھ کر مواقع میسر کئے جا رہے ہیں۔


با شعور عورت اپنی ذات اور رشتوں کو سمجھتی ہے۔ ان کو نبھانا اور ان میں توازن رکھنا جانتی ہے۔ زندگی کی حقیقت کا سمجھتی ہے۔ دوسروں کی اندھی تقلید نہیں کرتی۔ خود اعتمادی سے فیصلہ کر کے اپنے اصولوں کے مطابق زندگی گزارتی ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں نہ حوصلہ و ہمت ہارتی، نہ ہوش گنواتی۔ جذباتی نہیں سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتی ہے۔ کتابوں کے ساتھ وقت، حالات، تجربات اور مشاہدات سے بھی سیکھتی ہے۔ بوجھ بننے کے بجائے بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بچوں کی تربیت کے ساتھ گھر اور خاندان کو جوڑے رکھنے کا ہنر بھی جانتی ہے۔ اپنے لئے بلکہ اپنے آس پاس رہنے والوں کے لئے بھی درست فیصلہ کر سکتی ہے۔ تعلیم سے شعور آتا ہے جو عورت کی شخصیت کو مضبوط بناتا ہے۔ کسی دانا نے کہا ہے کہ " ایک مرد کی تعلیم، ایک فرد کی تعلیم ہے اور ایک عورت کی تعلیم سمجھو ایک نسل کی تعلیم ہے۔" تعلیم یافتہ اور با شعور عورت نسلیں سنوار سکتی ہے۔


خود داری کو تکبر کے معنی میں نہ لیں تو ہر عورت میں یہ وصف ہونا چاہئے۔ اپنی عزت و وقار اور اصولوں کی حفاظت کرنا ہر عورت کا بنیادی حق ہے۔ دوسروں کا احترام ضرور کرے لیکن نا مناسب رویے اور دباؤ بالکل بھی برداشت نہ کرے۔ نہ اپنے اصول اور عزت و وقار کو پامال ہونے دے۔ خود پر اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد رکھے۔ خود دار عورت اپنی عزت نفس اور اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتی۔ وہ مادی فائدے کےلئے اپنی عزت نفس کبھی داؤ پر نہیں لگاتی۔ مشکل حالات بھی اس کی استقامت میں لغزش کا سبب نہیں بنتے۔


بے شک عورت گھر کی زینت ہے۔ اس کا اصل مقام گھر ہی ہے۔ گھر سنبھلتے اور بنتے بھی عورت سے ہیں۔ مرد اپنی کمائی عورت کے حوالے کر کے ہر ذمہ داری سے بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ گھر کی ساری ذمہ داریاں عورت کے سر پر ہوتی ہے۔ گھر کو سجانا، سنوارنا، کچن کا کام، مہمانوں کی خاطر تواضع، وقت پر سب کو دھلے ہوئے اور استری شدہ کپڑے بھی پہنچانا عورت کی ہی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔

ماں کی گود کو بچے کی پہلی درسگاہ کہا جاتا ہے۔ اس نے یہاں سے، گھر کے ماحول سے جو سیکھنا ہے وہ اس کی بنیاد بنے گا۔ ماں اس کو محبت، ہمدردی و خلوص، عزت و احترام، اخلاقی اقدار، مذہبی اوصاف سکھاتی ہے تو وہ اچھی تربیت کر کے معاشرے کا ایک اچھا شہری تیار کر رہی ہے۔ بیٹا ہو یا بیٹی اچھی تربیت ہو تو وہ جہاں بھی جائیں گے ایک واضح شناخت رکھیں گے۔ عورت کسی بھی رشتے میں ہو نسلیں سنوار دیتی ہے۔ ماں اپنے بچوں کی تربیت تو کرتی ہے۔ بہن کے کندھوں پہ یہ ذمہ داری آجائے تو پیچھے وہ بھی نہیں ہٹتی۔ گھریلو عورت بھی کسی نہ کسی طرح معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن آج کی عورت گھر اور بچوں کی خاطر اپنے شوہر کا ساتھ دینے کےلئے گھر سے باہر بھی نکل آئی ہے۔ ہر شعبہ ہائے زندگی میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئی نظر آتی ہیں۔ تعلیم، صحت، صنعت، کھیل اور اب تو زراعت کے شعبہ میں بھی خواتین نظر آتی ہیں۔ اب عورت کے کندھوں پہ دوہری ذمہ داری آگئی ہے۔ نوکری اور پھر گھر بھی۔ ایسے میں عورت معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ عورت علم اور ذمہ داری کو شعار بنائے تو اس کے اثرات پوری نسل پر نظر آتے ہیں۔ اسلام نے عورت کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر معاشرے میں ایک عزت و احترام کا اعلی مقام و مرتبہ عطا کیا ہے۔ حقوق دیے ہیں۔ ماں قدموں میں جنت رکھ کر رب کائنات نے عورت کا رتبہ و مقام بتادیا ہے کہ وہ کتنی عزت و احترام کے قابل ہستی ہے۔

الغرض معاشرے کی ترقی میں عورت ضرور شامل ہو لیکن اپنی حدود میں رہ کر۔ اپنا مرتبہ اور مقام کہیں بھی نہ بھولے۔ جس عہدے، جس مقام پر پہنچ جائے کبھی اپنا اصل نہ بھولے۔ اس کی اولین ترجیح اس کی اولاد اور ان کی تربیت ہونی چاہئے کہ بہرحال وہ ایک " ماں" ہے۔ خدارا اپنے "ماں" ہونے کے رتبہ کو پہچانو اور نبھاؤ بھی۔