جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مائیگرین، درد کی حقیقت اور علاج کی راہیں،تحریر : سدرہ قیوم

نقطہ نظر

مائیگرین کو اکثر لوگ "بس ایک تیز سر درد" سمجھ کر ٹال دیتے ہیں، حالانکہ یہ ایک پیچیدہ اعصابی بیماری ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق یہ دنیا کی سب سے زیادہ معذور کرنے والی بیماریوں میں شمار ہوتی ہے۔ جو شخص مہینے میں کئی دن بستر پر پڑا رہے، روشنی اور آواز سے گھبرائے اور کام سے محروم ہو جائے، اس کے لیے یہ محض سر درد نہیں، پوری زندگی کا امتحان ہے۔

مائیگرین دماغ کی ایک بیماری ہے جو بار بار حملوں کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ عام طور پر درد سر کے ایک طرف ہوتا ہے اور دھڑکتا ہوا محسوس ہوتا ہے، یعنی جیسے کوئی ہتھوڑا مار رہا ہو۔ ایک حملہ چار گھنٹے سے لے کر تین دن تک چل سکتا ہے۔ یہ مرض عورتوں میں مردوں کی نسبت تقریباً تین گنا زیادہ پایا جاتا ہے، اور اکثر 15 سے 50 سال کی عمر میں، یعنی کام کاج کے سب سے اہم برسوں میں، زور پکڑتا ہے۔

مائیگرین کا حملہ کئی مراحل میں آ سکتا ہے:

پیش علامات (چند گھنٹے یا ایک دو دن پہلے): چڑچڑاپن، تھکن، جمائیاں، گردن میں اکڑن، کسی خاص چیز کی طلب یا بھوک میں تبدیلی۔

اورا (تقریباً ایک تہائی مریضوں میں): نظر کے سامنے چمکتی لکیریں یا دھبے، بصارت کا دھندلا جانا، ہاتھ یا چہرے میں سنسناہٹ، بولنے میں دقت۔ یہ عموماً 5 سے 60 منٹ رہتا ہے۔

درد کا مرحلہ: سر کے ایک طرف شدید دھڑکتا درد، متلی، قے، روشنی، شور اور بو سے بے چینی۔ حرکت کرنے سے درد بڑھ جاتا ہے۔

بعد کا مرحلہ: درد ختم ہونے کے بعد بھی ایک یا دو دن تک تھکن، سستی اور ذہنی دھند رہ سکتی ہے۔

اسباب اور محرکات

مائیگرین کی اصل وجہ پوری طرح معلوم نہیں، مگر تحقیق بتاتی ہے کہ اس میں موروثی عوامل اہم ہیں۔ اگر والدین میں سے کسی کو مائیگرین ہو تو اولاد میں امکان خاصا بڑھ جاتا ہے۔ دماغ میں دماغی اعصاب اور خون کی نالیوں کے نظام کی غیر معمولی حساسیت، اور سیروٹونن جیسے کیمیائی پیغام رساں مادوں میں تبدیلی کو اس کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

ہر مریض کے محرکات مختلف ہوتے ہیں، لیکن عام محرکات یہ ہیں:

نیند کی کمی یا ضرورت سے زیادہ نیند

کھانا چھوڑ دینا یا دیر سے کھانا

ذہنی دباؤ اور فکر

تیز روشنی، شور یا تیز خوشبو

موسم کی تبدیلی اور شدید گرمی

پانی کی کمی

تشخیص

مائیگرین کی تشخیص بنیادی طور پر مریض کی کہانی اور علامات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اس کے لیے کوئی ایک ٹیسٹ موجود نہیں۔ معالج درد کی نوعیت، دورانیہ اور تعدد پوچھتا ہے۔ ایم آر آئی یا سی ٹی اسکین عموماً تب کرائے جاتے ہیں جب علامات غیر معمولی ہوں، مثلاً اچانک شدید ترین درد، بخار کے ساتھ گردن کی اکڑن، کمزوری، بولنے میں شدید دقت، یا پچاس برس کی عمر کے بعد پہلی بار درد کا آغاز۔ ایسی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ کسی اور سنگین مسئلے کی علامت ہو سکتی ہیں۔

مائیگرین کا علاج دو حصوں میں ہوتا ہے: حملے کو روکنا یا ختم کرنا، اور حملوں کو آئندہ ہونے سے بچانا۔

حملے کے دوران

ابتدا میں علاج: جتنی جلدی دوا لی جائے اتنا بہتر اثر ہوتا ہے۔ ہلکے سے درمیانے حملوں میں پیراسیٹامول یا آئبوپروفین جیسی عام دوائیں مدد دے سکتی ہیں۔

مخصوص ادویات: شدید حملوں کے لیے ڈاکٹر "ٹرپٹان" گروپ کی ادویات تجویز کرتے ہیں۔ متلی کے لیے الگ دوا دی جاتی ہے۔ نئی ادویات جیسے "گیپینٹ" بھی دستیاب ہیں۔ یہ سب نسخے پر ہی لینی چاہئیں۔

ماحول: اندھیرے، پرسکون کمرے میں لیٹنا، ماتھے پر ٹھنڈی پٹی رکھنا اور تھوڑی دیر سونے کی کوشش کرنا اکثر آرام دیتا ہے۔

روک تھام

اگر مہینے میں چار یا اس سے زیادہ حملے ہوں، یا حملے زندگی کو شدید متاثر کریں، تو معالج روزانہ لی جانے والی حفاظتی ادویات کا مشورہ دے سکتا ہے۔ ان میں بلڈ پریشر کی بعض ادویات، مرگی کی بعض ادویات اور بعض اینٹی ڈپریسنٹس شامل ہیں۔ نئی دوائیں جو سی جی آر پی نامی پروٹین کو ہدف بناتی ہیں، شدید اور بار بار ہونے والی مائیگرین میں مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔ شدید دائمی مائیگرین میں بوٹوکس کے انجیکشن بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ان سب کا فیصلہ ماہرِ اعصاب کے ساتھ مل کر ہونا چاہیے۔

ایک خطرناک جال: ادویات کا حد سے زیادہ استعمال

بہت سے مریض ہر درد پر گولی کھا لیتے ہیں اور مہینے میں دس پندرہ دن درد کش ادویات لیتے رہتے ہیں۔ نتیجہ الٹ نکلتا ہے: "ادویات کے زیادہ استعمال سے ہونے والا سر درد" پیدا ہو جاتا ہے، جس میں دوا کا اثر اترتے ہی درد دوبارہ لوٹ آتا ہے۔ عام اصول یہ ہے کہ سادہ درد کش مہینے میں پندرہ دن سے زیادہ اور ٹرپٹان جیسی ادویات دس دن سے زیادہ نہ لی جائیں۔ اگر آپ اس حد کے قریب پہنچ رہے ہیں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

طرزِ زندگی: سب سے بڑی دوا

دوا کے ساتھ روزمرہ کی عادات مائیگرین پر غیر معمولی اثر ڈالتی ہیں:

باقاعدہ نیند: روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا، چھٹی کے دن بھی۔

وقت پر کھانا: ناشتہ نہ چھوڑیں اور لمبے وقفے سے بچیں۔

پانی: دن بھر مناسب مقدار میں پانی پئیں، خاص طور پر گرمیوں میں۔

ورزش: ہلکی پھلکی ورزش جیسے تیز چہل قدمی حملوں کی تعداد کم کر سکتی ہے، البتہ اچانک بھاری ورزش درد بھڑکا سکتی ہے۔

ذہنی سکون: گہری سانسوں کی مشق، یوگا یا مراقبہ اور بایو فیڈبیک جیسی تکنیکیں ذہنی دباؤ کم کرتی ہیں۔

کیفین میں اعتدال: دن میں ایک دو کپ سے زیادہ نہیں، اور اچانک بند بھی نہ کریں۔

درد کی ڈائری: حملے کی تاریخ، وقت، کھانے، نیند، موسم اور ماہواری کا ریکارڈ رکھیں۔ چند ہفتوں میں آپ کے ذاتی محرکات واضح ہونے لگتے ہیں اور معالج کو بھی علاج طے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

ہے۔

زندگی کا اچانک شدید ترین درد

بخار، گردن کی اکڑن یا خارش کے ساتھ درد

کمزوری، چہرے کا ٹیڑھا ہونا یا بولنے میں شدید مشکل

سر کی چوٹ کے بعد درد

ہر بار ایک ہی جگہ درد یا دن بدن بگڑتا ہوا درد

ایسی علامات جو معمول کے اورا سے مختلف یا بہت طویل ہوں

معاشرتی پہلو

ہمارے معاشرے میں مائیگرین کے مریض کو اکثر "بہانہ" کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔ کام کی جگہ پر چھٹی مانگنے پر شک کیا جاتا ہے اور گھر میں اسے "ٹینشن کا درد" کہہ کر ہلکا کر دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ مریض کی تکلیف میں اضافہ کرتا ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ مائیگرین ایک حقیقی طبی مسئلہ ہے، اور مناسب علاج، ہمدردی اور تعاون سے اس کے مریض بہتر اور بھرپور زندگی گزار سکتے ہیں۔

مائیگرین کا مکمل علاج ہر کسی کے لیے ممکن نہیں، مگر اس پر قابو پانا ضرور ممکن ہے۔ صحیح تشخیص، بروقت دوا، محرکات کی پہچان اور منظم طرزِ زندگی کے ذریعے حملوں کی تعداد اور شدت دونوں کم کی جا سکتی ہیں۔ اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز اس مرض میں مبتلا ہے تو خود علاجی کے بجائے کسی مستند معالج، خصوصاً ماہرِ اعصاب سے رجوع کریں ۔