Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

آپ کی یہ چار چیزیں کدھر ہیں ؟تحریر: اظہر حسین بھٹی

نقطہ نظر

کیا آپ جانتے ہیں کہ جب بھی کوئی بڑی بلڈنگ یا پلازہ بنانا مقصود ہوتا ہے تو سب سے پہلے اِن چار چیزوں پر فوکس رکھا جاتا ہے یا آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اِن چار چیزوں کے بغیر کسی بھی طرح کی بلڈنگ کو کھڑی کرنا اُسے ضائع کر دینے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔


1- پارکنگ

2- الیکٹرک وائرنگ

3- کسی ناگہانی صورت میں خارجی راستہ

4- سیوریج


1- پارکنگ

یہ ایک سمجھی سمجھائی بات ہے کہ بڑے پلازے یا اونچی بلڈنگز صرف بڑے شہروں میں ہی بنائی جاتی ہیں، جہاں گھمسان کا رن پڑتا ہو ۔ جہاں روزانہ ہزاروں لوگ کام کاج ،سیرو و تفریح ،ہوٹلنگ یا شاپنگ کرنے کے لیے باہر نکلتے ہوں ۔ کیونکہ یہ صرف ایسی جگہوں پر ہی کارآمد ہوتے ہیں۔ جہاں شہری آبادی زیادہ ہوتی ہے وہیں پارکنگ کا ایشو بھی اہمیت کا حامل رہتا ہے۔ بڑے شہروں میں پارکنگ کے حوالے سے بڑی پریشانی رہتی ہے تو اِسی لیے ہر پلازہ یا بلڈنگ اپنی پارکنگ کے لیے بہت زیادہ جگہ چھوڑتا ہے کیونکہ پلازے کی مینجمنٹ یہ بات اچھی طرح سے جانتی ہے کہ پارکنگ کے مسئلے کو حل کیے بغیر اُن کا پروجیکٹ کامیاب نہیں ہو سکتا۔


بالکل اِسی طرح ہم اپنے خیالوں میں بڑی بڑی بلڈنگز بناتے ہیں۔ اونچے اور بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں لیکن اپنے دماغ میں پارکنگ کی جگہ نہیں چھوڑتے جس کی وجہ سے ہمارا پلان، خواب یا ٹارگٹ اچھا ہونے کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہو پاتا۔ ہم اچھے آئیڈیاز ، محنت ،مستقل مزاجی کو اپنے دماغ میں مستقل جگہ فراہم نہیں کر پاتے۔ یہ چیزیں بس چند گھڑی کے لیے آتی ہیں اور proper پارکنگ نہ ہونے کی وجہ سے واپس لوٹ جاتی ہیں ،جیسے ہم اکثر اپنی روزمرہ کی زندگی میں کئی ایسی جگہوں سے واپس لوٹ جاتے ہیں کہ جہاں پارکنگ نہیں ہوتی۔

اگر کامیاب ہونا ہے تو دماغ میں اچھی چیزوں کو دیرپا رکھنے کے لیے جگہ مہیا کرنا بڑا ضروری ہے۔


2- الیکٹرک وائرنگ

جب کسی بھی بلڈنگ کا نقشہ بنتا ہے تو الیکٹرک وائرنگ کو ٹاپ فہرست پہ رکھا جاتا ہے ۔ ہر کمرے، برآمدے، ٹیرس، ڈرائینگ روم ،واش روم وغیرہ کے لیے ایک proper ورک شیٹ تیار کی جاتی ہے کہ سب جگہوں پر بجلی کیسے فراہم کرنی ہے۔ کیونکہ کوئی بھی بلڈنگ الیکٹرک وائرنگ کے بنا ایسے ہی ہے جیسے جسم بنا روح کے۔


ہمارا جسم بھی ایک بلڈنگ کی طرح ہوتا ہے ،جسے انرجی چاہیے ہوتی ہے۔ ہماری انرجی ہمیں اچھے لوگوں کی صحبت ،وقت کی پابندی، تسلسل ،مفید کتابیں پڑھنا یا محنت وغیرہ سے ملتی ہے۔جیسے ہی ہم اچھی عادت کو چھوڑ کر بری عادات کی طرف راغب ہوتے ہیں ہماری انرجی کا ٹرانسفارمر پٹاخہ مار جاتا ہے۔ ہمارا جسم اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے اور جیسے اندھیرے والی جگہوں پر کوئی جانا یا رہنا پسند نہیں کرتا، بالکل ویسے ہی ہمارے پاس بھی کوئی آنا نہیں چاہتا۔ ہم اکیلا پڑنے لگ جاتے ہیں۔ لوگ ہمارے برے کردار کی وجہ سے ہم سے دور بھاگنے لگتے ہیں جبکہ اچھی عادات ہمارے کردار کو جگمگ جگمگ لائیٹوں سے یوں بھر دیتی ہیں کہ جسے سب پسند کرتے ہیں اور بدلے میں ہم اِس روشنی سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہیں۔


3- کسی ناگہانی صورت میں خارجی راستہ

بلڈنگ جتنی بڑی ہوتی ہے کسی ناگہانی آفت یا کسی رونما ہوانے والے عجیب واقعے کی صورت میں اُس مصیبت سے نکلنا اُتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے اِسی لیے ہر بڑے پروجیکٹ کے لیے ایک ایسا راستہ بھی لازمی بنایا جاتا ہے کہ اچانک پڑنے والی کسی مصیبت میں اُس راستے کے ذریعے وہاں سے جلد سے جلد نکلا جا سکے۔


ہماری زندگی میں بھی کئی دفعہ ایسے واقعات رونما ہو جاتے ہیں ، زندگی ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے کہ لگتا ہے جیسے سارے راستے بند ہو گئے ہیں۔ ہم اِس مصیبت یا تکلیف میں گھبرانے لگتے ہیں اور مارے گھبراہٹ کے اِس آزمائش سے نکلنے کا راستہ بھی سجھائی دینا بند ہو جاتا ہے۔جبکہ اللہ کسی انسان پہ اُس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اور ایسی کوئی آزمائش نہیں دیتا کہ جس سے نکلنے کا راستہ کوئی نہ ہو۔


تو ہمیں اپنی زندگی کو کچھ اِس طرح سے پلان کرنا چاہیے کہ اگر بُرے حالات آ ٹپکیں تو اِن سے نکلنے کا راستہ ہمیں اچھی طرح سے معلوم ہو۔ کسی بھی ناگہانی صورت میں ہم خود کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کر سکیں۔ اگر دماغ کسی زیادہ دباؤ میں آ گیا ہے تو اسے ریلیکس کرنے کے لیے جگہ بدل لیں ، سفر کرنا شروع کر دیں۔ خود کو ریلیکس رکھنے کے لیے یہ بہت اچھا راستہ ہوتا ہے۔


4- سیوریج

فرض کرتے ہیں کہ بلڈنگ پندرہ فلورز پر مشتمل ہے اور اگر کوئی آخری منزل کا رہائشی ہو تو لازمی بات ہے کہ اُسے حاجت کرنے کے لیے واش روم کی ضرورت تو پڑے گی تو اگر ہم وہاں پر ٹوائلٹ بنانا بھول گئے ہیں تو امیجن کریں کہ وہاں کی رہائشی افراد کس صورتِ حال کا سامنا کریں گے۔ کیونکہ یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جس کو کیے بغیر گزارہ نہیں ہے۔ لوگ ہر جگہ آباد نہیں ہیں لیکن جہاں آبادی ہے وہاں واش روم کی سہولت لازمی موجود ہوتی ہے۔


اِسی طرح ہمارے دماغ میں بھی کئی ایسی سوچیں جمع ہو جاتی ہیں کہ جو اچھی نہیں ہوتیں، لوگوں کی طنز،طعنے، تنقید ،مایوسی، نا امیدی وغیرہ کی سوچوں سے جان چھڑانے کے لیے ہمارے پاس سیوریج سسٹم ہی نہیں ہوتا۔ جبکہ لازمی ہونا چاہیے۔ کیونکہ بری سوچیں ہمارے اندر عجیب طرح کی بدبو پھیلانا شروع کر دیتی ہیں کہ جس کے ساتھ رہنا بڑا مشکل یا یوں کہہ لیں ناممکن ہو جاتا ہے۔ اِسی لیے ہمیں اپنی بری سوچوں کے لیے بھی ایک سیوریج سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس کو استعمال میں لاتے ہوئے آسانی سے ہم جان چھڑوا سکیں۔ اب یہ سوچنا آپ کا کام ہے کہ آپ کا کموڈ کدھر ہے؟


جیسے کوئی بھی بلڈنگ اِن چار نقطوں کے بغیر ادھوری اور نامکمل ہوتی ہے بالکل ویسے ہی ہم انسان بھی اِن چار چیزوں سے ہی مکمل انسان کہلاتے ہیں۔ ہر انسان کامیاب نہیں ہو سکتا مگر جو انسان کامیاب ہے، اُس میں یہ چاروں خصوصیات ضرور ہوتی ہیں۔ تو اگر خود کو اونچا بنانا ہے ، بڑا کرنا ہے تو خود کو ٹٹول کر دیکھیں کہ کیا آپ میں یہ چاروں چیزیں موجود ہیں؟