پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اصل ماجرا کیا ہے؟ تحریر:پروفیسر عامر زریں

نقطہ نظر

اکتوبر 2026ء میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے عہدیداروں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل ایران پر دوبارہ حملے کرتے ہیں تو آبنائے ہرمز کے نیچے موجود اہم مواصلاتی کیبلز کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے نیچے موجود انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی دھمکی کی خبریں واقعی سامنے آئی ہیں۔ تاہم یہ کہنا کہ ان کیبلز کو کاٹنے سے پورا مشرقِ وسطیٰ مفلوج ہو جائے گا یا دنیا کا انٹرنیٹ بند ہو جائے گا، مبالغہ آرائی ہے۔


21 اکتوبر کے قریب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بریگیڈیئر جنرل یداللہ جوانی نے سات اہم انٹرنیٹ کیبلز کا ذکر کیا، جبکہ 23 اکتوبر کو رائٹرز نے ایرانی سکیورٹی حکام کے حوالے سے خبر دی کہ ممکنہ حملوں اور ان کی مرمت روکنے کے منصوبوں پر بھی غور کیا گیا ہے۔یہ زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز ہیں جن کے ذریعے مختلف ممالک کے درمیان انٹرنیٹ، مالیاتی لین دین، کاروباری معلومات اور ڈیجیٹل خدمات کا ڈیٹا منتقل ہوتا ہے۔ یہ کوئی خیالی ٹیکنالوجی یا محض سوشل میڈیا کی کہانی نہیں۔


کیا سات انٹرنیٹ کیبلز واقعی موجود ہیں؟…………بنیادی طور پر درست۔ آبنائے ہرمز کے راستے متعدد زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز گزرتی ہیں۔ ایرانی عہدیداروں نے سات اہم کیبلز کا ذکر کیا ہے، البتہ بین الاقوامی کیبل پروٹیکشن کمیٹی کی معلومات میں اس آبنائے سے گزرنے والے فعال کیبل سسٹم کے حصوں کی تعداد پانچ بتائی گئی ہے۔ تعداد میں فرق کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ مختلف ذرائع کیبلز اور ان کے حصوں کو الگ طریقے سے شمار کرتے ہیں۔


کیا ایران انہیں نشانہ بنانے کی دھمکی دے چکا ہے؟…………درست۔ اکتوبر 2026ء کی رپورٹوں میں ایرانی عہدیداروں کی جانب سے ایسی دھمکیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ تاہم دھمکی دینے اور عملی طور پر تمام کیبلز کاٹ دینے میں واضح فرق ہے۔


کیا پورا مشرقِ وسطیٰ مفلوج ہو سکتا ہے؟…………یہ دعویٰ مبالغہ آمیز ہے۔ متعدد کیبلز کو نقصان پہنچنے سے خلیجی ممالک میں انٹرنیٹ، بینکاری، کلاؤڈ سروسز اور کاروباری رابطوں میں شدید خلل پڑ سکتا ہے۔ لیکن متبادل زیرِ سمندر اور زمینی راستوں کی موجودگی کے باعث پورے خطے کا انٹرنیٹ لازماً بند نہیں ہوگا۔


کیا دنیا کا تقریباً تمام انٹرنیٹ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے؟…………غلط۔ یہ بات درست ہے کہ دنیا کی تقریباً 99 فیصد بین الاقوامی انٹرنیٹ ترسیل زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے ہوتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ 99 فیصد ڈیٹا آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق عالمی بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبنائے سے گزرتا ہے۔


امریکہ اور عالمی معیشت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟…………اس خطرے کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ جدید معیشت صرف بجلی اور تیل پر نہیں بلکہ ڈیجیٹل رابطوں پر بھی چلتی ہے۔


* خلیجی ممالک: انٹرنیٹ کی رفتار اور بین الاقوامی رابطوں میں خلل پڑ سکتا ہے۔…………* بینکاری و تجارت: بین الاقوامی ادائیگیوں، آن لائن کاروبار اور مالیاتی خدمات میں تاخیر ہو سکتی ہے۔…………* مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز: کلاؤڈ سروسز کے رابطے متاثر ہونے سے بعض کاروباری خدمات میں رکاوٹ آ سکتی ہے۔…………* امریکہ: امریکی کمپنیوں اور خلیجی منڈیوں میں سرمایہ کاری کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں، لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ امریکہ کا پورا انٹرنیٹ نظام بند ہو جائے گا۔


پاکستان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟…………پاکستان کے لیے بھی یہ صورتِ حال اہم ہے۔ خلیجی ممالک سے ہمارے تجارتی، مالیاتی اور ڈیجیٹل روابط ہیں۔ اگر خطے کی مواصلاتی کیبلز کو نقصان پہنچتا ہے تو بین الاقوامی رابطوں میں تاخیر، بعض آن لائن خدمات میں خلل اور کاروباری اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش یا شدید تعطل کو یقینی قرار دینے کے لیے مخصوص پاکستانی نیٹ ورک روٹس اور متبادل رابطوں کی معلومات درکار ہوں گی۔


یہ محض افواہ نہیں؛ اس کے پیچھے حقیقی جغرافیائی اور عسکری خطرہ موجود ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کی سرخی اس خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے۔ایران کے لیے ان کیبلز کو نشانہ بنانے کی دھمکی ایک تزویراتی دباؤ کا ذریعہ ہو سکتی ہے۔ اگر جنگ کی صورت میں واقعی کیبلز کو نقصان پہنچایا گیا اور مرمت بھی روک دی گئی تو خلیجی خطے کو نمایاں ڈیجیٹل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لیکن اس سے پوری دنیا کا انٹرنیٹ بند ہونے یا پورے مشرقِ وسطیٰ کے لازماً مفلوج ہو جانے کا دعویٰ دستیاب شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔