پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سوشل میڈیا کا تحفظ، آزادیٔ اظہار اور قانون کی بالادستی،تحریر:سید علی جبران نقوی

نقطہ نظر
مصنف:

پاکستان میں ڈیجیٹل صحافت، سوشل میڈیا اور آن لائن ابلاغ کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے ریاست کے سامنے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ ایک طرف شہریوں کو جھوٹی خبروں، کردار کشی، ہراسانی، بلیک میلنگ، آن لائن فراڈ اور ڈیجیٹل جرائم سے تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے، تو دوسری طرف آزادیٔ اظہار، صحافتی آزادی، شہریوں کی نجی زندگی اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ بھی جمہوری ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔

اسی اہم قومی تناظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے بیرسٹر سید اظفر علی ناصر صاحب کو سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (SMPRA) کا چیئرپرسن مقرر کرنے کا فیصلہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات کے 30 اکتوبر 2026ء کے نوٹیفکیشن نمبر 01-RECRUITMENT-SM-0002 کے مطابق ان کی تعیناتی پانچ سال کے لیے کی گئی ہے۔

سید اظفر علی ناصر اس سے قبل پنجاب کی نگران کابینہ میں صوبائی وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں، جہاں ان کے پاس ہاؤسنگ، شہری ترقی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، اوقاف، مذہبی امور اور زکوٰۃ و عشر جیسے اہم شعبوں کی ذمہ داریاں رہیں۔ وہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (RUDA) اور پنجاب سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CBD Punjab) سے بھی انتظامی سطح پر وابستہ رہے ہیں۔ یہ تجربات ان کے نئے منصب پر انتظامی اور ادارہ جاتی قیادت کے لیے اہم بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔

تاہم SMPRA کی چیئرمین شپ محض ایک انتظامی عہدہ نہیں بلکہ آئندہ برسوں میں پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل، شہری آزادیوں اور ریاستی نظم و نسق پر اثرانداز ہونے والی قومی ذمہ داری ہے۔

اس اتھارٹی کی قانونی بنیاد پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016ء میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (ترمیمی) ایکٹ 2025ء کے ذریعے شامل کی گئی دفعات ہیں۔ قانون کی دفعہ 2B کے تحت اتھارٹی کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن، آن لائن تحفظ، غیر قانونی مواد کے خلاف قانونی کارروائی، شکایات کے ازالے، آگاہی، تحقیق اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون سمیت متعدد اختیارات اور فرائض دیے گئے ہیں۔

اس قانون کی ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو قانونی ضابطوں کا پابند بنایا جائے، شہریوں کو آن لائن ہراسانی اور نقصان دہ سرگرمیوں سے تحفظ ملے اور شکایات کے لیے مؤثر نظام قائم ہو۔ تاہم ان اختیارات کا استعمال قانون میں مقرر کردہ طریقۂ کار، تحریری وجوہات اور متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

پاکستان کا آئین اس حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 19 شہریوں کو آزادیٔ اظہار اور پریس کی آزادی دیتا ہے، جس پر صرف آئین میں بیان کردہ معقول قانونی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ آرٹیکل 19-A عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق تسلیم کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 10-A منصفانہ سماعت اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 14 انسانی وقار اور گھر کی نجی زندگی کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔

لہٰذا چیئرمین SMPRA صاحب کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہوگا کہ وہ ڈیجیٹل جرائم کے خلاف مؤثر اقدامات اور جائز اختلافِ رائے کے تحفظ کے درمیان آئینی توازن قائم رکھیں۔ صحافی، کالم نگار، سیاسی کارکن، محقق، کاروباری افراد اور عام سوشل میڈیا صارفین سبھی قانون کے یکساں تحفظ کے مستحق ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اتھارٹی شفاف شکایتی نظام، واضح ضابطۂ اخلاق، مؤثر اپیل اور نظرثانی کے طریقۂ کار، آزادانہ نگرانی، عوامی آگاہی اور ماہرین کی مشاورت کو ترجیح دے۔ مواد ہٹانے یا پلیٹ فارم کے خلاف کارروائی میں غیر جانب داری، تحریری وجوہات اور قانونی جواب دہی یقینی بنائی جائے۔ صحافیوں، وکلا، ٹیکنالوجی ماہرین اور انسانی حقوق کے نمائندوں کی بامعنی شمولیت بھی ادارے کی ساکھ مضبوط کر سکتی ہے۔

بیرسٹر سید اظفر علی ناصرصاحب کے لیے یہ پانچ سال اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، قانونی فہم اور انتظامی تجربے کو قومی خدمت میں تبدیل کرنے کا اہم موقع ہیں۔ ان کی کامیابی اسی وقت معتبر ہوگی جب پاکستان میں سوشل میڈیا شہریوں کے لیے محفوظ بھی ہو، آزادانہ اظہار کا ذریعہ بھی رہے اور کسی فرد یا ادارے کے خلاف غیر قانونی انتقامی کارروائی کا وسیلہ نہ بنے۔

ریاست کی مضبوطی صرف قوانین بنانے سے نہیں بلکہ ان قوانین کے عادلانہ و منصفانہ، شفاف اور بلاامتیاز نفاذ سے ممکن ہوتی ہے۔ چیئرمین SMPRA کی اصل کامیابی ایک ایسے ڈیجیٹل پاکستان کی تشکیل ہوگی جہاں قانون کی بالادستی، شہریوں کا تحفظ، صحافت کی آزادی اور انسانی وقار ایک ساتھ محفوظ رہیں۔