Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

عظمتِ استاد،تحریر: عائشہ گُل

ayeshagul

زندگی ایک طویل، اندھیری اور پرپیچ راہ کا نام ہے اور استاد اس راہ کا وہ روشن چراغ ہے جو آندھیوں میں بھی بجھنے نہیں دیتا۔ وہ بھٹکے ہوئے قافلے کو ہاتھ سے پکڑ کر اندھیروں کے گھپ اندھیرے سے نکال کر اجالوں کی طرف لے آتا ہے۔ اگر استاد کا وجود نہ ہو تو زندگی کا سارا سفر تاریکی میں ہی گم ہو جائے، انسان کبھی منزل تک نہ پہنچ پائے۔


کہا جاتا ہے کہ ماں کی آغوش بچے کی پہلی درسگاہ ہے، جہاں وہ محبت، ممتا اور رشتوں کا ادب سیکھتا ہے، مگر دوسری اور سب سے وسیع درسگاہ استاد کی گود ہے۔ یہ وہ مقدس درسگاہ ہے جہاں ایک بچہ، ایک انسان اور پھر ایک مکمل کردار بنتا ہے۔ ماں باپ بچے کو اپنی انگلی تھما کر چلنا سکھاتے ہیں اور اس کے نازک و کمزور جسم کی پرورش کرتے ہیں، لیکن استاد اسے زمانے میں جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے اور اس کی روح کو سنوارتا ہے۔ والدین ہمیں زمین پر چلنا سکھاتے ہیں اور استاد ہمیں آسمانوں کی بلندیوں کو چھونا سکھاتا ہے۔


استاد صرف کتاب کے اوراق نہیں پڑھاتا، وہ کردار کی تعمیر کرتا ہے۔ وہ صرف لفظوں کا ذخیرہ نہیں دیتا وہ سوچنے کا زاویہ اور جینے کا نظریہ عطا کرتا ہے۔ وہ سلیٹ یا بلیک بورڈ پر نہیں، وہ تو سیدھا دل کی تختی پر لکھتا ہے اور ایسی روشن تحریر لکھتا ہے جسے زمانے کی کوئی گرد مٹا نہیں سکتی۔ ایک بے قیمت اور عام سے پتھر کو تراش کر قیمتی و نایاب ہیرا بنا دینا یہ کیمیا گری، یہ ہنر صرف اور صرف ایک استاد کے پاس ہے۔ ایک کمہار مٹی سے اینٹ اور برتن بناتا ہے، جبکہ ایک استاد اسی مٹی سے قوموں کے معمار، ڈاکٹر انجینئر اور لیڈر بناتا ہے۔


دینِ اسلام میں استاد کا رتبہ انتہائی بلند، مقدس اور قابلِ رشک ہے۔ ہمارے پیارے نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے خود فرمایا "مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے"۔ ایک استاد کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے کہ محبوبِ خدا ﷺ نے خود کو معلم کہہ کر استاد کے پیشے کو تاجِ عظمت پہنایا۔


حضرت علی المرتضیٰؓ کا وہ تاریخی اور دل دہلا دینے والا فرمان آج بھی اہلِ دل کے سینوں کو روشن کیے ہوئے ہے کہ "جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا، میں اس کا غلام ہوں۔ ذرا تصور کیجیے، شیرِ خدا، بابِ علم، جس کی بہادری اور علم کا دنیا لوہا مانتی ہے، وہ ایک استاد کے سامنے اپنے آپ کو غلام کہہ رہے ہے۔ سکندرِ اعظم جیسے عظیم فاتحِ عالم نے بھی یہی اعتراف کیا تھا کہ میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا اور میرا استاد مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا۔


تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے اساتذہ کو سر کا تاج بنایا، وہی قومیں عروج کی بلندیوں کو چھو گئیں۔ جب عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے صاحبزادے اپنے استاد کے ہاتھوں پر پانی ڈال رہے تھے تو ہارون الرشید نے فخر سے کہا تھا کہ یہی ادب تمہیں کل کا عظیم بادشاہ بنائے گا۔


مگر افسوس صد افسوس! آج ہم نے اسی ادب کی عظیم روایت کو فراموش کر دیا ہے۔ وہ استاد جس کے سامنے کبھی وقت کے بادشاہ بھی سراپا ادب بن کر سر جھکا دیا کرتے تھے، آج وہی استاد تنہا، بے بس اور بے سہارا کھڑا نظر آتا ہے۔ آج کلاس میں بیٹھا شاگرد اپنے آپ کو اپنے استاد سے زیادہ عقلمند اور زیادہ دانا سمجھتا ہے۔ آج سوشل میڈیا پر استاد کے وقار کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ہم بھول چکے ہیں کہ استاد کی بے ادبی درحقیقت اپنے ہی روشن مستقبل کی بے ادبی ہے۔


یہ ایک اٹل اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جو قوم اپنے استاد کو بھول جاتی ہے، وہ خود تاریخ کے بے رحم اوراق میں سے مٹ جاتی ہے۔ اور جو قومیں ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں، جو دنیا پر علم و عمل کی حکمرانی کر رہی ہیں، وہ اپنے اساتذہ کو سب سے زیادہ عزت، مقام اور پروٹوکول دیتی ہیں۔ جاپان جیسی ترقی یافتہ قوم میں استاد کو وی آئی پی کا درجہ حاصل ہے، کیوں؟ کیونکہ وہ اس راز کو جان چکے ہیں کہ استاد ہی اصل میں قوم بناتا ہے۔


عظمتِ استاد کسی ایک دن، کسی ایک تقریب، یومِ اساتذہ، یا کسی ایک گُلدستے کا نام نہیں۔ یہ عمر بھر کا ادب ہے، یہ سانس سانس کا قرینہ ہے۔ استاد کی عظمت کا تقاضا یہ نہیں کہ سال میں ایک دن اسے ایک پھول پیش کر دیا جائے اور سارا سال اسے فراموش کر دیا جائے۔ اصل عظمت اور اصل ادب یہ ہے کہ اس کی بات کو دل کے کانوں سے سنا جائے، اس کے سامنے اپنی آواز کو ہمیشہ پست رکھا جائے، اس کے سامنے اپنی نگاہوں کو جھکا دیا جائے اور اس کے علم کے سمندر کے سامنے اپنی انا کے قطرے کو ختم کر دیا جائے۔


ہوم استاد ہو یا سکول کا استاد، مدرسے کا معلم ہو یا کالج و یونیورسٹی کا پروفیسر، سب یکساں طور پر قابلِ احترام اور لائقِ تکریم ہیں۔ اور خاص طور پر وہ ہوم استاد جو اپنا گھر، اپنا آرام اور اپنا سکون چھوڑ کر کڑکتی دھوپ اور ٹھٹھرتی سردی میں آپ کے بچے کا مستقبل سنوارنے کے لیے آپ کی دہلیز پر آتا ہے، وہ تو دوہرے احترام اور دوگنی عزت کا مستحق ہے۔


آخر میں بس یہی ایک راز ہے، یہی زندگی کا حاصل اور سچ ہے کہ


با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب۔


جو شخص جتنا زیادہ جھکتا ہے اپنے استاد کے ادب میں، وہ اتنا ہی زیادہ اٹھتا ہے نصیب کی بلندیوں میں۔ وہ اپنی جھولی میں رحمتیں، برکتیں، عزتیں اور کامیابیاں سمیٹ لیتا ہے۔ اس کا علم بڑھتا ہے، اس کا رزق بڑھتا ہے، اس کی عمر میں برکت ہوتی ہے۔ اور جو بدبخت ادب کی راہ سے منہ موڑ لیتا ہے، تکبر کرتا ہے اور اپنے استاد کی دل آزاری کا باعث بنتا ہے، اس کے حصے میں سوائے حسرت، ناکامی، اندھیرے اور ابدی خسارے کے کچھ نہیں آتا۔ وہ ڈگریاں تو حاصل کر لیتا ہے مگر حقیقی علم کی روشنی سے محروم رہتا ہے۔


فیصلے کا اختیار ابھی بھی ہمارے ہاتھوں میں ہے، ابھی بھی وقت ہے کہ ہم سوچیں کہ ہم نے با نصیبوں کی روشن صف میں شامل ہونا ہے یا بے نصیبوں کی تاریک بھیڑ میں۔


اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے اساتذہ کا ادب کرنے اور ان کی دعائیں لینے والا بنائے۔ آمین۔