پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

باغی انسان ،تحریر: بنت محبوب

نقطہ نظر

باغی انسان کوئی پیدائشی طور پر نہیں ہوتا، کوئی ماں اپنے بچے کو باغی پیدا نہیں کرتی۔ انسان پیدا تو آزاد ہوتا ہے مگر جیتا غلامیوں میں ہے، کبھی رسم و رواج کی غلامی، کبھی رشتوں کی غلامی، کبھی نوکری اور نظام کی غلامی اور کبھی اپنے ہی خوف کی غلامی۔ وہ ساری زندگی سمجھوتے کرتا رہتا ہے، لوگ کیا کہیں گے، خاندان کیا سوچے گا، نوکری چلی جائے گی، رشتہ ٹوٹ جائے گا۔ اسی ڈر میں وہ ہر ناانصافی پر چپ رہتا ہے، ہر غلط بات پر سر جھکا دیتا ہے۔


پھر ایک وقت آتا ہے جب اس کے اندر برداشت کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔ وہ سالوں سے سہہ رہا ہوتا ہے، سن رہا ہوتا ہے، لیکن ایک چھوٹا سا جملہ، ایک چھوٹی سی ناانصافی اس کے اندر کے سارے بند توڑ دیتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک عام انسان باغی بن جاتا ہے۔ یہ بغاوت اس وقت بھی جنم لیتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ محنت اس کی ہے اور پھل کوئی اور کھا رہا ہے، سچ اس کا ہے اور انعام جھوٹ کو مل رہا ہے۔ اس کا ضمیر اس سے سوال کرنے لگتا ہے کہ کیا تو یہی زندگی جینے آیا تھا، کیا یہی تیرا فیصلہ تھا۔ اور جب انسان اپنے ضمیر کے اس سوال کا جواب دینے لگتا ہے تو وہ باغی بن جاتا ہے۔


باغی بننے کا سفر ایک دم طے نہیں ہوتا۔ پہلے انسان شکایت کرتا ہے، سب سے کہتا ہے کہ یہ غلط ہو رہا ہے۔ جب کوئی نہیں سنتا تو وہ خاموش ہو جاتا ہے۔ یہ خاموشی بہت خطرناک ہوتی ہے، اس خاموشی میں وہ سوچتا ہے، پرکھتا ہے، اپنے آپ کو تولتا ہے۔ اور پھر ایک دن وہ نہ کہنا سیکھ لیتا ہے۔ زندگی میں پہلی بار وہ کسی غلط بات پر جی سر نہیں کہتا۔ یہی نہ اس کی پہلی بغاوت ہوتی ہے۔ اس نہ کے بعد وہ اکیلا رہ جاتا ہے، کیونکہ جب آپ سچ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو اکثر بھیڑ آپ کے خلاف ہو جاتی ہے۔ لوگ آپ کو بدتمیز، ناشکرا اور پاگل کہنے لگتے ہیں۔


ریاض صاحب ایک سرکاری دفتر میں بیس سال سے کلرک تھے۔ بیس سال تک انہوں نے ہر روز افسر کی ڈانٹ سنی، ہر ناجائز کام پر دستخط کیے، صرف اس لیے کہ نوکری بچ جائے، بچوں کا پیٹ پلتا رہے۔ گھر والے بھی کہتے تھے کہ نظام سے کون لڑ سکتا ہے۔ پھر ایک دن ایک غریب بیوہ اپنے یتیم بیٹے کی اسکالرشپ کی فائل لے کر آئی، افسر نے اس فائل پر بھی رشوت مانگ لی۔ ریاض صاحب نے بیس سال میں پہلی بار فائل کو ہاتھ سے روک لیا اور کہا کہ یہ غلط ہے۔ اسی شام ان کا تبادلہ ایک دور دراز گاؤں میں کر دیا گیا۔ سب نے کہا کہ انہوں نے اپنی نوکری خراب کر لی۔ لیکن آج اسی دفتر کے چار اور کلرک رشوت پر نہ کہنا سیکھ گئے ہیں۔ ریاض صاحب کہتے ہیں کہ میں نے نوکری نہیں کھوئی، میں نے اپنی نیند واپس لے لی ہے، اب مجھے رات کو سکون کی نیند آتی ہے۔


سارہ ایک ذہین طالبہ تھی، ڈاکٹر بننا اس کا خواب تھا۔ مگر خاندان نے کہا کہ لڑکیوں کو زیادہ پڑھنے کی ضرورت نہیں، اس کی شادی طے کر دی گئی۔ وہ ہنستی رہی مگر اندر ہی اندر مرتی رہی۔ بارات والے دن اس نے سب کے سامنے کہا کہ میں یہ شادی نہیں کروں گی۔ اس دن اس کے خاندان میں قیامت آ گئی، سب نے اس سے بائیکاٹ کر دیا۔ وہ ایک سال تک اکیلی رہی، لوگوں کی باتیں سہتی رہی، مگر اس نے ہمت نہیں ہاری، دوبارہ کالج میں داخلہ لیا۔ آج وہ میڈیکل کالج میں پڑھ رہی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ باغی ہونے کا مطلب بدتمیزی نہیں ہوتا، اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا ہوتا ہے۔


باغی کا انجام لوگ برا سمجھتے ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ باغی جب بغاوت کرتا ہے تو شروع میں اکیلا رہ جاتا ہے، پھر آہستہ آہستہ وہ خود ایک راستہ بن جاتا ہے، اور آخر میں وہ آزاد ہو جاتا ہے۔ وہ دوسروں کی تالیوں اور دوسروں کی سوچ سے آزاد ہو جاتا ہے۔ معاشرہ ہمیشہ فرمانبردار لوگوں سے چلتا ہے، مگر بدلتا ہمیشہ باغی لوگوں سے ہی ہے۔ اگر ہر انسان ہر ناانصافی پر جی سر کہتا رہے تو یہ دنیا کبھی نہ بدلے۔ اس لیے باغی ہونا کبھی کبھی گناہ نہیں بلکہ عبادت بن جاتا ہے۔