Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بچوں کی تربیت اور پرورش ،تحریر : فَری خان

نقطہ نظر

ہم اکثر کہتے ہیں، “ہم نے اپنے بچوں کی پرورش میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔” انہیں اچھا لباس دیا، بہترین اسکول میں پڑھایا، ضرورت کی ہر چیز فراہم کی، اپنی استطاعت سے بڑھ کر ان کے لیے جمع کیا۔ مگر کبھی خود سے یہ سوال نہیں کرتے کہ ہم نے انہیں زندگی کے لیے کتنا تیار کیا؟

یہاں پرورش اور تربیت کے درمیان ایک بہت گہرا فرق سامنے آتا ہے۔

پرورش کا تعلق بچے کی ضرورتوں سے ہے، جبکہ تربیت کا تعلق اس کی شخصیت سے۔ پرورش اسے کھانا، لباس، تعلیم اور سہولت دیتی ہے اور تربیت اسے صبر، برداشت، سچائی، ذمہ داری اور مشکل وقت میں درست فیصلہ کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

آج بچوں کی زندگی میں تعلیمی دباؤ بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ والدین چاہتے ہیں کہ بچہ ہمیشہ پہلی پوزیشن حاصل کرے بہترنمبر لے اور دوسروں سے آگے رہے۔ خواہش اپنی جگہ غلط نہیں، مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب نمبر بچے کی قابلیت نہیں بلکہ اس کی قدر اور عزت کا پیمانہ بن جائیں۔

مثلاً ایک بچہ امتحان میں 90 کے بجائے 70 فیصد نمبر لے آتا ہے۔ وہ پہلے ہی اس خوف میں گھر واپس آتا ہے کہ والدین کیا کہیں گے۔ اگر اسے سننے کو ملے “تم نے ہمارا سر جھکا دیا، فلاں کے بچے نے تو 90 فیصد لیے ہیں، تم کیوں نہیں لے سکتے؟” تو شاید وہ اگلی بار زیادہ نمبر حاصل کرنے کی کوشش کرے، لیکن اس کے اندر یہ احساس بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ میری محبت اور قدر میرے نمبروں سے جڑی ہوئی ہے۔

اس کے برعکس اگر والدین کہیں

“ہمیں تمہاری محنت دیکھنی ہے۔ آؤ دیکھتے ہیں کہاں مشکل پیش آئی، اگلی بار ہم مل کر بہتر تیاری کریں گے۔”

تو بچہ ناکامی کو اپنی ذات کی ناکامی سمجھنے کے بجائے اسے سیکھنے کا موقع سمجھتا ہے

یہی تربیت ہے۔

والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بچہ ایک جیسی صلاحیت، رفتار اور دلچسپی لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ کوئی ریاضی میں اچھا ہوتا ہے، کوئی زبان میں، کوئی فن میں، کوئی کھیل میں اور کوئی ایسی صلاحیت رکھتا ہے جو کتاب کے نمبروں سے ناپی ہی نہیں جا سکتی۔

تعلیم کا مقصد صرف نمبر حاصل کرنا نہیں، انسان کی صلاحیتوں کو دریافت کرنا بھی ہے۔

اسی طرح بچے کو ہر مشکل سے بچانا بھی محبت نہیں ۰۰۰ اگر بچہ ہر امتحان، ہر اختلاف، ہر ناکامی اور ہر مشکل سے والدین کی مدد سے نکلتا رہے تو بڑے ہو کر اچانک آنے والی مشکلات کے سامنے وہ خود کو بے بس محسوس کر سکتا ہے۔

ایک بچے کا امتحان میں ناکام ہونا، کسی دوست سے اختلاف ہونا یا کسی مقابلے میں پیچھے رہ جانا زندگی کا اختتام نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ والدین اس موقع پر بچے کو کیا سکھاتے ہیں؟؟؟؟ شرمندگی یا حوصلہ؟ خوف یا ذمہ داری؟ ہار یا دوبارہ کوشش؟

بچے کو ہر غلطی سے بچانے کے بجائے اسے غلطی سے سیکھناسکھائیں۔ اسے ہر سوال کا جواب دینے کے بجائے کچھ سوال خود حل کرنے دیں۔ اسے ہر راستہ دکھانے کے بجائے کبھی کبھی راستہ تلاش کرنے کا موقع بھی دیں۔

والدین کا کردار صرف بچے کے آگے چلنے کا نہیں کبھی آگے چل کر راستہ دکھانا، کبھی ساتھ چلنا اور کبھی چند قدم پیچھے رہ کر اسے خود چلتے دیکھنا بھی تربیت کا حصہ ہے۔

اور سب سے بڑھ کر والدین کو اپنے عمل سے مثال بننا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچہ جھوٹ نہ بولے تو اسے ہمارے جھوٹ سننےنہیں چاہییں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ وہ دوسروں کی عزت کرے تو اسے گھر میں عزت کا ماحول ملنا چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ وہ غصے پر قابو رکھے تو اسے غصے میں چیختے ہوئے بڑوں کے بجائے بات چیت سے مسئلہ حل کرتے ہوئے بڑے دیکھنے چاہییں۔

بچے کو صرف یہ نہ بتائیں کہ دنیا کیسی ہے؟اسے یہ بھی سکھائیں کہ دنیا جیسی بھی ہو، اسے خود کیسا رہنا ہے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ والدین روزانہ کچھ وقت بچوں سے بغیر موبائل کے بات کریں، ان کی بات مکمل سنیں، ان پر اپنی ادھوری خواہشیں مسلط نہ کریں، عمر کے مطابق ذمہ داریاں دیں، غلطی پر ذلت کے بجائے اصلاح کا موقع دیں اور انہیں یہ یقین دلائیں کہ کوئی مسئلہ ہو تو وہ سب سے پہلے اپنے والدین کے پاس آ سکتے ہیں۔

کیونکہ ایک دن یہ بچے بڑے ہو جائیں گے۔ وہ ہماری انگلی چھوڑ کر اپنی راہوں پر چلیں گے۔ ہم ہر موڑ پر ان کے ساتھ نہیں ہوں گے، ہر غلط شخص سے انہیں بچا نہیں سکیں گے، ہر ناکامی کے بعد انہیں سنبھال نہیں سکیں گے اور زندگی کے ہر فیصلے میں ان کا ہاتھ نہیں پکڑ سکیں گے۔

اس لیے آج اصل سوال یہ نہیں کہ ہم اپنے بچوں کو اپنےلیے کتنا محفوظ رکھ رہے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہم انہیں اپنے بغیر زندگی گزارنے کے لیے کتنا مضبوط بنا رہے ہیں۔

انہیں اتنا نہ بچائیں کہ وہ مشکل سے ڈرنے لگیں، اتنا نہ دبائیں کہ وہ اپنی بات کہنا بھول جائیں، اور اتنی توقعات نہ رکھیں کہ وہ اپنی ہی ذات سے بیزار ہو جائیں۔

انہیں یہ سکھائیں کہ ناکامی شرمندگی نہیں، دوبارہ کوشش کا موقع ہے یہ سکھائیں کہ نمبر اہم ہیں، مگر انسان کی قدر صرف نمبروں سے نہیں ہوتی۔ یہ سکھائیں کہ غلطی ہو جائے تو چھپانا نہیں، تسلیم کرنا ہے۔ یہ سکھائیں کہ دنیا میں کامیاب ہونا ضروری ہے، مگر کامیابی کی قیمت پر اپنا کردار کھو دینا کامیابی نہیں۔

اور شاید سب سے بڑھ کر انہیں یہ یقین دیں کہ دنیا چاہے انہیں کتنی ہی بار رد کرے، ان کا گھر وہ جگہ ہے جہاں انہیں سنا جائے گا، سمجھا جائے گا اور سنبھلنے کا ایک اور موقع دیا جائے گا۔

کیونکہ بچے ہماری جائیداد نہیں، ہماری امانت ہیں۔ ہم ان کے لیے زندگی کا راستہ طے نہیں کر سکتے، مگر انہیں ایسا چراغ ضرور دے سکتے ہیں جس کی روشنی میں وہ اپنا راستہ خود تلاش کر سکیں۔

آخرکار ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں ہوگی کہ ہمارا بچہ کتنا کمایا، کتنی بڑی کرسی پر بیٹھا یا کتنے نمبر لے کر آیا ۰۰۰ ہماری اصل کامیابی اس دن سامنے آئے گی جب وہ ہمارے بغیر کسی مشکل کے سامنے کھڑا ہوگا، درست فیصلہ کرے گا، کسی کمزور کا ہاتھ تھامے گا، اپنی غلطی مانے گا اور پھر بھی اپنے دل میں انسانیت زندہ رکھے گا۔

تب شاید ہم اطمینان سے کہہ سکیں گے
ہم نے صرف اپنے بچے کو بڑا نہیں کیا، ہم نے ایک انسان کو زندگی کے قابل بنایا ہے۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL