کچھ خاموشیاں چیخوں سے زیادہ بلند ہوتی ہیں،تحریر: سائرہ علی

کبھی کبھی انسان کی سب سے بلند چیخ وہ ہوتی ہے جو اس کے ہونٹوں تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کے سینے میں دفن ہو جاتی ہے۔ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں الفاظ کا لباس پہنانا ممکن نہیں ہوتا، کچھ آنسو ایسے ہوتے ہیں جو آنکھوں سے نہیں، روح سے بہتے ہیں، اور کچھ خاموشیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں ایک پوری زندگی کی داستان سمٹی ہوتی ہے۔ المیہ یہ نہیں کہ انسان دکھی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے دکھ کے ساتھ تنہا بھی ہے۔ اس کے اردگرد لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے، باتوں کی گونج ہوتی ہے، قہقہوں کی آوازیں ہوتی ہیں، مگر اس کے اندر ایک ایسی ویرانی آباد ہوتی ہے جہاں کوئی دستک نہیں دیتا۔ شاید اسی لیے بعض خاموشیاں چیخوں سے زیادہ بلند ہوتی ہیں، کیونکہ چیخ سنائی دیتی ہے، مگر خاموشی کو سننے کے لیے دل درکار ہوتا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہر شخص کے پاس اظہار کے بے شمار وسیلے ہیں، مگر سنے جانے کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔ الفاظ کی فراوانی ہے، احساس کی قلت ہے۔ رابطوں کی کثرت ہے، تعلق کی کمی ہے۔ چہروں پر مسکراہٹیں ہیں، مگر دلوں میں جانے کتنے موسم سوگوار ہیں۔ ہم کسی کی آواز تو سن لیتے ہیں، مگر اس آواز کے پیچھے چھپی تھکن کو محسوس نہیں کرتے۔ ہم کسی کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر اسے خوش حال سمجھ لیتے ہیں، مگر یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ کہیں وہ مسکراہٹ اپنے آنسوؤں کو چھپانے کا آخری سہارا تو نہیں۔ ہم نے انسان کو دیکھنے کی عادت تو برقرار رکھی، مگر اسے سمجھنے کا ہنر کہیں کھو دیا۔ انسان کی زندگی میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب وہ اپنے دل کا بوجھ کسی کے سامنے رکھنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کی بات سنے، اس کے جملوں کے درمیان ٹھہرے، اس کی آنکھوں میں اترے اور اس کے لہجے کی شکستگی کو پہچان لے۔ لیکن اکثر اسے مشورے ملتے ہیں، فیصلے سنائے جاتے ہیں یا اس کے دکھ کو معمولی قرار دے کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ کوئی کہتا ہے، "اتنی سی بات پر پریشان کیوں ہو؟" کوئی نصیحت کرتا ہے، مضبوط بنو، زندگی میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ اور کوئی اس کے درد کا موازنہ کسی دوسرے کے دکھ سے کرنے لگتا ہے۔ یوں وہ شخص جو اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے آیا تھا، اپنے دکھ کے ساتھ ساتھ اپنی کمزوری کے احساس کو بھی لے کر واپس چلا جاتا ہے۔ حالانکہ ہر زخمی انسان کو مرہم کی ترکیب نہیں چاہیے ہوتی؛ کبھی کبھی اسے صرف ایک ایسا دل چاہیے ہوتا ہے جو اس کے زخم کو دیکھ کر اسے کم تر محسوس نہ کرائے۔ ہر مسئلے کا فوری حل ضروری نہیں، بعض اوقات کسی کے پاس خاموشی سے بیٹھ جانا بھی ایک عظیم انسانی خدمت ہوتی ہے۔ کسی کے آنسوؤں کو بہنے دینا، اس کی بات کو درمیان میں کاٹے بغیر سننا اور اس کے احساسات کو بے معنی قرار نہ دینا، بظاہر معمولی اعمال ہیں، مگر ٹوٹتے ہوئے انسان کے لیے یہی معمولی باتیں زندگی کا سہارا بن سکتی ہیں۔
کہتے ہیں کہ کسی انسان کو سمجھنے کے لیے ہمیشہ اس کے الفاظ سننا کافی نہیں ہوتا، کبھی اس کی خاموشی بھی سننی پڑتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں احساس اور محض واقفیت کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔ واقفیت ہمیں بتاتی ہے کہ کوئی شخص کون ہے، مگر احساس ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ وہ اندر سے کس حال میں ہے۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں ہم نے لوگوں کے پیشوں، عہدوں، لباسوں اور کامیابیوں کو جانچنے کے پیمانے تو بہت بنا لیے، مگر ان کے دلوں کی کیفیت جاننے کے لیے اپنے اندر اتنی وسعت پیدا نہیں کی۔
ہمارے گھروں میں بھی ایسی خاموشیاں موجود ہیں جنہیں سننے کی ضرورت ہے۔ وہ بزرگ جو سارا دن گھر کے ایک کونے میں بیٹھے رہتے ہیں، شاید انہیں صرف دوائی یا کھانے کی نہیں، چند لمحوں کی رفاقت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ماں جو سب کے چہروں پر خوشی دیکھ کر مطمئن ہو جاتی ہے، ممکن ہے اپنے حصے کی تھکن کسی سے بیان نہ کر پاتی ہو۔ وہ باپ جو اپنی پریشانیوں کو ذمہ داری کے پردے میں چھپا لیتا ہے، شاید کبھی یہ بھی چاہتا ہو کہ کوئی اس سے پوچھے: آپ کیسے ہیں؟ اور وہ بچہ جو خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ ضدی یا بدتمیز ہو، ممکن ہے وہ کسی ایسی الجھن سے گزر رہا ہو جسے بیان کرنے کے لیے اسے الفاظ ہی نہ مل رہے ہوں۔
ہم اکثر اپنے پیاروں کی موجودگی کو مستقل حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے، ہماری بے توجہی برداشت کریں گے اور ہماری مصروفیات کے باوجود ہمارا انتظار کرتے رہیں گے۔ ہم ان کی باتیں بعد کے لیے چھوڑ دیتے ہیں، ان کے سوالوں کے جواب مؤخر کر دیتے ہیں اور ان کے احساسات کو اپنی سہولت کے مطابق اہمیت دیتے ہیں۔ پھر ایک دن وہی لوگ خاموش ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ان کی شکایتیں کم ہو جاتی ہیں، مطالبے ختم ہو جاتے ہیں اور وہ اپنی دنیا میں سمٹنے لگتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب سب ٹھیک ہے، حالانکہ بعض اوقات شکایت کا ختم ہو جانا اطمینان کی نہیں، امید کے ٹوٹ جانے کی علامت ہوتا ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہر خاموشی رضامندی نہیں ہوتی، ہر مسکراہٹ خوشی نہیں ہوتی اور ہر مضبوط دکھائی دینے والا شخص اندر سے مضبوط نہیں ہوتا۔ بعض لوگ اس لیے نہیں روتے کہ انہیں درد نہیں ہوتا، بلکہ اس لیے کہ وہ بہت مرتبہ رو چکے ہوتے ہیں۔ بعض لوگ اس لیے شکایت نہیں کرتے کہ انہیں کوئی شکایت نہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ بار بار اپنی بات سمجھاتے سمجھاتے تھک چکے ہوتے ہیں۔ ان کے اندر جذبات ختم نہیں ہوتے۔صرف اظہار کی خواہش کمزور پڑ جاتی ہے۔ جب انسان کو بار بار یہ احساس دلایا جائے کہ اس کی بات کی کوئی اہمیت نہیں، تو ایک وقت آتا ہے جب وہ اپنی سب سے اہم بات بھی اپنے اندر دفن کرنا سیکھ لیتا ہے۔ مشہور فلسفی خلیل جبران سے منسوب ایک خیال ہے کہ "آپ کا درد اس خول کے ٹوٹنے کا سبب ہے جس میں آپ کی سمجھ بند ہے۔" اس خیال کی معنویت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دکھ محض تکلیف کا نام نہیں ،کبھی کبھی وہ انسان کو اپنے باطن، اپنی حقیقت اور دوسروں کے احساسات سے روشناس بھی کراتا ہے۔ تاہم کسی کے درد کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ہم خود بھی اسی آزمائش سے گزریں۔ ہمدردی کا اصل حسن یہی ہے کہ ہم دوسرے کے زخم کو اپنے زخم کی نقل بنائے بغیر بھی محسوس کر سکیں۔ یہاں سوال صرف ان لوگوں کا نہیں جو خاموش ہیں۔ سوال ہمارا بھی ہے، جو ان کے اردگرد موجود ہیں۔ کیا ہم نے کبھی کسی کے بدلتے ہوئے رویّے کے پیچھے چھپی پریشانی کو جاننے کی کوشش کی؟ کیا ہم نے کبھی کسی ایسے شخص کو وقت دیا جو بظاہر ہر وقت دوسروں کے لیے حاضر رہتا ہے، مگر خود کبھی اپنی بات نہیں کرتا؟ کیا ہم نے کبھی اپنی مصروفیت سے چند لمحے نکال کر کسی سے صرف اس لیے پوچھا کہ وہ حقیقتاً کیسا ہے؟ اگر نہیں، تو ہمیں اپنے رویّوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ معاشرہ صرف بڑے نعروں، شاندار عمارتوں اور ترقی کے اعداد و شمار سے بہتر نہیں بنتا وہ اس وقت بہتر بنتا ہے جب انسان دوسرے انسان کے لیے آسانی، تحفظ اور اپنائیت کا سبب بننے لگتا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں میں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں بچے خوف کے بغیر اپنی الجھنیں بیان کر سکیں، جہاں بزرگ خود کو بوجھ نہ سمجھیں، جہاں مرد اپنی تھکن بیان کرنے پر کمزور نہ کہلائیں اور جہاں عورت کے صبر کو اس کی بے پناہ قوت سمجھ کر اپنے ہی دکھوں سے آنکھیں نہ چرائے۔ ہمیں یہ بھی سیکھنا ہوگا کہ کسی کی بات سننا اس کے ہر خیال سے اتفاق کرنا نہیں، بلکہ اس کے انسانی وقار کا احترام کرنا ہے۔ اگر کسی کی خاموشی مسلسل اداسی، تنہائی یا بے بسی کی صورت اختیار کر رہی ہو تو صرف اندازے لگانے کے بجائے نرمی سے اس کا حال پوچھنا اور ضرورت پڑنے پر مناسب مدد تک پہنچنے میں اس کا ساتھ دینا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ زندگی بہت مختصر ہے اور انسان کا دل بہت نازک۔ ہم نہیں جانتے کہ ہمارے ایک نرم جملے سے کس کے اندر امید کا چراغ روشن ہو جائے، ہماری ایک توجہ کس کے چہرے پر اطمینان لے آئے یا ہماری بے اعتنائی کسی کے دل میں تنہائی کی ایک اور دیوار کھڑی کر دے۔ اس لیے گفتگو میں نرمی، رویّوں میں وسعت اور تعلقات میں خلوص کو جگہ دینا ضروری ہے۔ ہر شخص کی جنگ ہمیں دکھائی نہیں دیتی، ہر زخم پر پٹی نہیں بندھی ہوتی اور ہر آنسو گال پر نہیں بہتا۔ کچھ جنگیں انسان اپنے اندر لڑتا ہے، کچھ زخم مسکراہٹوں کے نیچے چھپا لیتا ہے اور کچھ آنسو عمر بھر پلکوں کی دہلیز سے واپس لوٹتے رہتے ہیں۔ آخر میں بات صرف اتنی ہے کہ انسان کو ہمیشہ بڑے تحفوں، طویل تقریروں یا غیر معمولی احسانات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی ایک مخلصانہ سوال، ایک بے غرض سماعت، ایک نرم لہجہ اور ایک ایسا ساتھ جو مشکل وقت میں ہاتھ نہ چھوڑے، اس کے لیے پوری دنیا سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ ہمیں لوگوں کی خاموشی کو ان کی بے نیازی سمجھنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ کہیں وہ ہماری بے توجہی سے تو پیدا نہیں ہوئی۔ کسی کے دل تک پہنچنے کے لیے ہمیشہ الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خلوص سے بھری خاموش رفاقت بھی وہ کام کر جاتی ہے جو ہزار تقریریں نہیں کر سکتیں۔
کیونکہ ہر چیخ آواز نہیں رکھتی، ہر آنسو آنکھ سے نہیں گرتا اور ہر درد اپنی کہانی بیان نہیں کرتا۔ کچھ خاموشیاں محض خاموشیاں نہیں ہوتیں ہیں۔وہ ٹوٹتی ہوئی امیدوں، ادھورے خوابوں اور ان کہے دکھوں کی صدائیں ہوتی ہیں۔ کاش، ہم بولنے والوں کو سننے کے ساتھ ساتھ خاموش رہنے والوں کو بھی سمجھنا سیکھ جائیں۔ اس سے پہلے کہ ان کی خاموشی ہمیں پکارنا چھوڑ دے۔
مزید پڑھیں




