بدلتا موسم اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر:جلیل نقوی
نقطہ نظر
گرمیوں کی شدت اب آہستہ آہستہ رخصت ہونے لگی ہے اور سردیوں کی ٹھنڈی ہوائیں دستک دے رہی ہیں۔ صبح و شام کے اوقات میں خنکی محسوس ہونے لگی ہے، جبکہ دن کے درجہ حرارت میں بھی بتدریج کمی آ رہی ہے۔ موسم کی یہ تبدیلی محض درجہ حرارت کا بدلنا نہیں بلکہ قدرت کے اس حسین نظام کا حصہ ہے، جو ہمیں وقت کے گزرنے اور زندگی کے بدلتے رنگوں کا احساس دلاتا ہے۔
گرمیوں کے طویل دنوں کے بعد سردیوں کی آمد اپنے ساتھ ایک مختلف ماحول لے کر آتی ہے۔ گرم کپڑے الماریوں سے باہر آ جاتے ہیں، چائے کی پیالی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، صبح بستر سے نکلنا قدرے مشکل محسوس ہوتا ہے اور شامیں جلد ڈھلنے لگتی ہیں۔ دیہات میں سردیوں کی دھوپ، چولہے کی حرارت اور بیٹھکوں کی رونق اس موسم کو مزید خوبصورت بنا دیتی ہے۔
مگر موسم کی یہ تبدیلی ہمیں ایک اہم ذمہ داری بھی یاد دلاتی ہے۔ ہمارے اردگرد ایسے بہت سے خاندان موجود ہیں جو سردی سے بچاؤ کے لیے مناسب گرم کپڑے، کمبل اور دیگر ضروری سامان خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ہمارے لیے شاید ایک اضافی جیکٹ یا کمبل معمولی چیز ہو، لیکن کسی ضرورت مند کے لیے یہی چیز سرد رات میں بہت بڑا سہارا بن سکتی ہے۔
سردیوں کی آمد کے ساتھ ہمیں اپنے گھروں کے بزرگوں، بچوں اور بیمار افراد کا بھی خصوصی خیال رکھنا چاہیے۔ موسم کی شدت سے بچنے کے لیے مناسب لباس، گرم غذا اور ضروری احتیاط اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اسی طرح گیس ہیٹر اور دیگر حرارتی آلات کے استعمال میں احتیاط نہایت ضروری ہے تاکہ موسم کی خوشگوار تبدیلی کسی حادثے کا سبب نہ بن جائے۔
موسم ہمیں ایک سبق بھی دیتا ہے کہ تبدیلی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ آج گرمی ہے تو کل سردی ہوگی، آج دھوپ ہے تو کل بادل ہوں گے۔ بالکل اسی طرح زندگی کے حالات بھی ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ مشکل وقت گزر جاتا ہے اور خوشی کا موسم بھی بدل جاتا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انسان ہر حال میں شکر، صبر اور احساسِ ذمہ داری کو اپنے ساتھ رکھے۔
قلم کی دھار کا مقصد صرف موسم کی تبدیلی کو بیان کرنا نہیں بلکہ اس احساس کو اجاگر کرنا بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں کوئی شخص سردی میں بے سہارا نہ رہے۔ اگر ہمارے پاس وسائل ہیں تو ہمیں ان لوگوں کا خیال بھی رکھنا چاہیے جو ہماری توجہ اور مدد کے منتظر ہیں۔آئیے اس سردی میں اپنے لیے گرم کپڑوں کے ساتھ کسی ضرورت مند کے لیے بھی ایک گرم لباس ضرور رکھیں۔ کسی کے گھر میں کمبل پہنچا دیں، کسی بچے کے لیے گرم سویٹر لے آئیں اور کسی مستحق خاندان کی خاموش ضرورت کو محسوس کریں۔کیونکہ موسم کی اصل خوبصورتی صرف ٹھنڈی ہوا اور گرم چائے میں نہیں، بلکہ اس احساس میں ہے کہ ہماری وجہ سے کسی کی سرد رات کچھ کم سرد ہو گئی۔
مزید پڑھیں




