میں باغی ہوں! ہاں، میں باغی ہوں، کیونکہ میں نے خاموشی کو ہمیشہ شرافت، مصلحت کو ہمیشہ دانش مندی اور ہر حکم کے آگے سر جھکا دینے کو ہمیشہ فرمانبرداری نہیں سمجھا۔ میں ان لوگوں میں سے نہیں جو زمانے کے ہر فیصلے کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ میرے اندر سوال جنم لیتے ہیں، میرا ذہن اختلاف کرتا ہے اور میرا ضمیر وہاں خاموش رہنے سے انکار کر دیتا ہے جہاں حق کو دبایا جا رہا ہو۔ شاید اسی لیے مجھے باغی کہا جاتا ہے، مگر مجھے اس نام سے کوئی شکایت نہیں۔ اگر اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنا بغاوت ہے تو ہاں، بغاوت میرا حق ہے۔
ہم ایسے معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں جہاں انسان کو پیدا ہوتے ہی کچھ اصول، کچھ روایات اور کچھ طے شدہ پیمانے تھما دیے جاتے ہیں۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ کیا سوچنا ہے، کس بات پر خاموش رہنا ہے، کس کے سامنے سر جھکانا ہے اور کس سوال کو اپنے ذہن میں آنے سے پہلے ہی دفن کر دینا ہے۔ یہاں اختلاف کرنے والے کو بدتمیز، سوال اٹھانے والے کو گستاخ اور اپنے حق کی بات کرنے والے کو سرکش قرار دے دیا جاتا ہے۔ عجیب معاشرتی رویہ ہے کہ ہم ہر اس شخص کو پسند کرتے ہیں جو ہماری ہاں میں ہاں ملائے، مگر اس شخص سے خائف رہتے ہیں جو ہمارے نظریات کے سامنے سوالیہ نشان رکھ دے۔
میری نظر میں بغاوت محض انکار کا نام نہیں، بلکہ شعور کی بیداری کا دوسرا نام ہے۔ بغاوت اس وقت جنم لیتی ہے جب انسان کسی غلط روایت کو صرف اس لیے قبول کرنے سے انکار کر دے کہ وہ روایت غلط ہے۔جب کوئی شخص ناانصافی کو معمول سمجھنے کے بجائے اس کے خلاف آواز اٹھائے، جب کوئی ذہن مروجہ سوچ کے حصار سے نکل کر اپنی عقل اور ضمیر کی روشنی میں فیصلے کرے تو یہی بغاوت کی ابتدا ہوتی ہے۔ ہر پرانی چیز قابلِ احترام نہیں ہوتی اور ہر نئی سوچ قابلِ مذمت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات زمانے کو آگے بڑھانے کے لیے انہی دیواروں میں دراڑ ڈالنا پڑتی ہے جنہیں لوگ تقدس کا نام دے کر محفوظ رکھتے آئے ہیں۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ انسانی معاشرے میں تبدیلی ہمیشہ مطمئن اور خاموش لوگوں کے ہاتھوں نہیں آئی۔ جن لوگوں نے غلامی کو قسمت ماننے سے انکار کیا، جنہوں نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا اور جنہوں نے اپنے عہد کے فرسودہ تصورات کو چیلنج کیا، وہ اپنے زمانے میں اکثر ناپسندیدہ قرار پائے۔ سقراط نے سوال اٹھائے تو اسے زہر کا پیالہ پینا پڑا۔ منصور حلاج کی آواز اپنے عہد کے لیے ناقابلِ برداشت ٹھہری۔ برصغیر کی تاریخ میں بھی ایسے بے شمار کردار ملتے ہیں جنہوں نے جبر کے سامنے خاموش رہنے کے بجائے اپنے مؤقف کی قیمت ادا کی۔ وقت کا المیہ یہی ہے کہ جس آواز کو ایک زمانہ شور سمجھ کر دباتا ہے، آنے والی نسلیں کبھی اسی آواز میں شعور کی روشنی تلاش کرتی ہیں۔
تاہم بغاوت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان ہر اصول، ہر رشتے اور ہر اختلاف کو توڑ ڈالے۔ حقیقی بغاوت اندھی ضد نہیں، بلکہ دلیل اور شعور سے پیدا ہونے والا اختلاف ہے۔ یہ نفرت کا اعلان نہیں، ناانصافی سے انکار ہے۔ یہ کسی کی تذلیل نہیں، اپنی عزتِ نفس کا تحفظ ہے۔ باغی ہونا یہ نہیں کہ انسان دوسروں کے حقوق پامال کرنے لگے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے حقوق کے ساتھ دوسروں کے حقوق کا احترام بھی کرے۔ جو شخص آزادی کا مطالبہ تو کرے مگر دوسروں کی آزادی تسلیم نہ کرے، وہ باغی نہیں، محض اپنی خواہشات کا اسیر ہے۔
میں اس نظام کے خلاف باغی ہوں جو قابلیت کے بجائے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور اس معاشرتی رویے کے خلاف بھی باغی ہوں جو سچ بولنے والے کو تنہا چھوڑ دیتا ہے۔ میں اس خاموشی کو قبول نہیں کر سکتا جو کسی مظلوم کی آہ سن کر بھی اپنے دامن کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرے۔ میرے نزدیک سب سے بڑی بے حسی یہ ہے کہ انسان ظلم دیکھے، اس کی حقیقت بھی جانتا ہو، مگر اپنے سکون کی خاطر اس پر لب نہ کھولے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ زمانہ بدل گیا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہماری سوچ بھی بدلی ہے؟ کیا ہم نے اختلاف کو برداشت کرنا سیکھ لیا ہے؟ کیا ہم نے اپنے گھروں، اداروں اور معاشرتی رویّوں میں دوسروں کو اپنی بات کہنے کا حق دیا ہے؟ یا ہم اب بھی چاہتے ہیں کہ ہر شخص ہماری پسند کے مطابق سوچے، ہماری مرضی کے مطابق چلے اور ہماری بنائی ہوئی حدود میں زندگی گزارے؟ اگر ایسا ہے تو پھر تبدیلی کے دعوے محض الفاظ ہیں، حقیقت نہیں۔
مجھے معلوم ہے کہ بغاوت کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔ اس راستے پر سوال بھی ملتے ہیں، مخالفت بھی، تنہائی بھی اور کبھی کبھی اپنوں کی ناراضی بھی۔ مگر ہر قیمت پر قبولیت حاصل کرنا بھی تو کوئی کامیابی نہیں۔ انسان اگر اپنی ذات، اپنے ضمیر اور اپنی سچائی سے ہی دست بردار ہو جائے تو پھر اس کے پاس باقی کیا رہ جاتا ہے؟ میں اختلاف کروں گا، سوال اٹھاؤں گا اور جہاں ضرورت پڑی، انکار بھی کروں گا؛ مگر میری بغاوت کی بنیاد دلیل، انصاف اور انسانی وقار پر ہوگی۔
میں باغی ہوں، کیونکہ میں نے اپنے ضمیر کو خاموش رہنے کی تربیت نہیں دی۔ میں باغی ہوں، کیونکہ میں نے غلط کو صرف اس لیے درست ماننے سے انکار کیا ہے کہ اسے سب درست سمجھتے ہیں۔ میری بغاوت کسی فرد کے خلاف نہیں، اس سوچ کے خلاف ہے جو انسان سے اس کی پہچان، اختیار اور سوال کرنے کا حق چھین لیتی ہے۔
اور اگر اپنے حصے کی روشنی بچانے کے لیے مجھے اندھیروں سے اختلاف کرنا پڑے تو میں یہ اختلاف ضرور کروں گا۔
میں باغی ہوں، کیونکہ میرا ضمیر زندہ ہے؛ اور جب تک ضمیر زندہ ہے، بغاوت میرا حق ہے!
مزید پڑھیں




