گورنر راج کا بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ناگزیر حالات کے پیش نظر خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اگر بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔
مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا خوبصورت صوبہ ہے اور یہاں کے عوام غیور، دلیر اور باوقار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے صوبے میں جمہوری روایات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ 2013 کے انتخابات کے بعد نواز شریف نے اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیا، جس سے صوبے میں جمہوریت کو آگے بڑھنے کا موقع ملا۔وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 13 سال سے برسراقتدار جماعت نے بلند و بانگ دعوے کیے، تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس عرصے میں کتنی جامعات اور اسپتال تعمیر کیے گئے۔ پشاور سے کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع تک عوام کے مسائل عدم توجہی کا شکار رہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران ملک میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کی گئی۔ 2014 کے دھرنے کے باعث چینی صدر کا دورۂ پاکستان مؤخر ہوا، تاہم 2015 میں صدر شی جن پنگ کے دورے کے دوران اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر حالات کے تحت کیا گیا۔ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی اور پیپلز پارٹی و مسلم لیگ (ن) کی کمیٹی نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کیے۔ مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا جاتا رہا، لیکن منظوری نہ مل سکی۔
وزیراعظم کے مطابق عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا۔ مسلم لیگ (ن) صوبے کی ترقی، خوشحالی اور عوامی خدمت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔شہباز شریف نے دہشت گردی کے حوالے سے کہا کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر آباد کیا گیا، جس کے نتیجے میں دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا اور ملک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ماضی کی طرح مل کر مقابلہ کرنے کی دعوت دی گئی، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی۔وزیراعظم نے ملکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت نے مل کر شبانہ روز محنت کی۔ عالمی حالات اور خلیجی جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، تاہم مشکلات کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فیول سبسڈی اسکیم شروع کی۔انہوں نے بتایا کہ فیول سبسڈی اسکیم سے اب تک ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں، جبکہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت نے 75 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ غریب آدمی کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اہم ترجیح ہے اور ملکی معیشت کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔



