بڑا کون: تخلیق یا تخلیق کار ؟تحریر:نعیم خان،آخری قسط
نقطہ نظر
آخری قسط — فجر سے پہلے
تحریر: نعیم خان ( 2 اکتوبر ، 2026 - لاہور )
کسی نے اس سوال کے بعد فوراً بات نہیں کی ، سب خاموش تھے۔ ایسی خاموشی جس میں آدمی دوسروں کی نہیں اپنی آواز سنتا ہے۔
استاد نے بھی ہمیں کچھ دیر خاموش رہنے دیا۔
پھر ایک شاگرد نے خاموشی کو توڑا: “اگر ہمارے خیالات پر ہمارے ماضی ، ماحول ، زبان ، تعلیم اور تجربات کا اثر ہے تو پھر انسان اپنے خیال کا خالق کیسے ہوا ؟”
استاد نے میری طرف دیکھا۔
“نعیم صاحب ؟”
میں نے کہا: “شاید انسان اپنے خیالات کا مطلق خالق نہیں مگر ان کا انتخاب اور ان کی تشکیل کرنے والا ضرور ہوسکتا ہے۔”
استاد نے پوچھا: “تشکیل کیسے ؟”
“وہ مختلف اثرات کو پہچانتا ہے ان میں سے کچھ قبول کرتا ہے ، کچھ رد کرتا ہے ، کچھ کو بدلتا ہے اور کچھ کو نئے ربط میں جوڑ دیتا ہے۔”
استاد نے کہا: “یعنی انسان کے پاس شاید خام خیال کا اختیار نہیں مگر اس خیال کے ساتھ کیا کرنا ہے، اس کا اختیار ہوسکتا ہے ؟”
“جی۔”
ایک شاگرد نے کہا: “تو پھر یہی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔”
میں نے کہا: “شاید۔”
استاد نے پوچھا: “اور یہی تخلیق کی بنیاد بھی ؟”
میں نے کہا: “شاید تخلیق وہاں شروع ہوتی ہے جہاں انسان صرف حاصل شدہ چیز کو دہرانے کی بجائے اس سے سوال کرتا ہے۔”
استاد مسکرائے۔
“اب بات کہیں پہنچ رہی ہے۔”
انہوں نے سامنے پڑی ایک کتاب اٹھائی۔
“یہ کتاب کسی نے لکھی۔ آپ نے اسے پڑھا۔ اب اگر آپ نے وہی بات بعینہٖ دہرا دی تو کیا آپ تخلیق کار ہوئے ؟”
میں نے کہا: “نہیں، صرف نقال۔”
“اور اگر آپ نے اس بات کو سمجھا اس پر سوال اٹھایا اپنے تجربے سے گزارا اور پھر ایک نئے فہم کے ساتھ پیش کیا ؟”
“تو شاید تخلیق کا آغاز وہاں ہوگا۔”
استاد نے کتاب بند کردی۔
“یعنی علم ہمیں ورثہ مل سکتا ہے مگر فہم ہمیں اپنے اندر پیدا کرنا پڑتا ہے؟”
میں نے کہا: “جی ، شاید یہی فرق ہے علم رکھنے اور صاحبِ علم ہونے کے درمیان۔”
ایک شاگرد نے کہا: “اور شاید اسی لیے کتاب علم نہیں ، علم کی طرف لے جاتی ہے۔”
میں نے مسکرا کر کہا: “بالکل۔”
استاد نے کہا: “تو اب ابتدائی سوال پر واپس آئیے۔ بڑا کون ہے، تخلیق یا تخلیق کار؟”
میں نے کچھ دیر سوچا۔
“استاد! شاید اب سوال ہی بدل گیا ہے۔”
“کیسے؟”
“اب میں پوچھوں گا: تخلیق کار بڑا ہے یا وہ سرچشمہ جس سے تخلیق کار کو تخلیق کی صلاحیت ملی ؟”
محفل میں ایک گہری خاموشی اتر آئی۔
استاد نے سر جھکایا۔ “اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنی حد پہچاننی چاہیے۔”
میں نے کہا: “یعنی انسان کی عظمت اس بات میں نہیں کہ وہ خود کو خالق سمجھ لے بلکہ اس میں ہے کہ وہ عطا کو پہچان کر اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرے۔”
استاد نے کہا: “اور شکر؟”
“اس سفر کی روشنی ہے۔”
“اور عاجزی؟”
“اس سفر کا راستہ۔”
“اور علم؟”
“زادِ سفر۔”
“اور قلم؟”
“امانت۔”
“اور تحریر؟”
میں نے کہا: “امانت کا اظہار۔”
استاد نے مسکرا کر کہا: “اور لکھاری ؟”
میں نے جواب دیا: “شاید ایک مسافر جو کائنات کی دکان سے کچھ لے کر اپنے اندر کی کائنات میں پکاتا ہے پھر اسے لفظوں کی صورت میں دوسروں کے سامنے رکھ دیتا ہے۔”
استاد نے کہا: “اور اگر لوگ اس کھانے کی تعریف کرنے لگیں؟”
میں نے کہا: “تو اسے دکاندار کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔”
استاد مسکرائے۔
“اور اگر لوگ باورچی کو بہت بڑا سمجھنے لگیں؟”
میں نے کہا: “تو باورچی کو خود بھی یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ وہ کہاں سے سامان لایا تھا۔”
کسی شاگرد نے آہستہ سے کہا: “شاید یہی شکر ہے۔”
استاد نے کہا: “ہاں۔”
پھر وہ خاموش ہوگئے۔
اب رات اپنی آخری منزل کی طرف بڑھ رہی تھی۔
چودھویں کا چاند آسمان کے ایک کنارے کی طرف جھک چکا تھا۔ درختوں کے پتے ہلکی ہوا سے سرسراتے تھے۔ کافی کے کپ خالی ہوچکے تھے۔ کچھ کپوں میں آخری گھونٹ باقی تھے مگر کسی کو اب کافی کی طلب نہیں تھی۔
گفتگو نے اپنی ایک الگ حرارت پیدا کردی تھی۔
ایک شاگرد نے گھڑی دیکھی۔
“استاد، لگتا ہے صبح قریب ہے۔”
استاد نے آسمان کی طرف دیکھا۔
“ہاں ، رات نے اپنا سفر پورا کرلیا ہے۔”
ہم سب خاموش ہوگئے۔
مگر جانے سے پہلے استاد نے ایک آخری سوال اٹھایا۔
انہوں نے میری طرف نہیں، سب کی طرف دیکھا۔
“آج ہم نے تخلیق کار ، تخلیق ، علم ، شعور ، خیال ، عطا ، شکر اور انسانی آزادی پر بات کی۔ مگر ایک سوال ابھی بھی باقی ہے۔”
سب کی نظریں استاد پر جم گئیں۔
انہوں نے آہستہ سے کہا: “اگر انسان کو علم ، شعور ، زبان ، اختیار اور تخلیق کی صلاحیت عطا ہوئی ہے تو پھر اس عطا کا آخری حساب کس چیز سے ہوگا ، اس سے کہ انسان نے کتنا جانا ، کتنا لکھا ، کتنا مشہور ہوا یا اس سے کہ اس نے اپنی عطا سے انسانوں کے لیے کیا چھوڑا ؟”
اسی لمحے دور کسی مسجد سے فجر کی اذان کی پہلی آواز بلند ہوئی۔
اللہ اکبر۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔
ہم سب پر جیسے ایک ہی وقت میں خاموشی اتر آئی۔
رات ختم ہورہی تھی مگر سوال نہیں۔
ایک شاگرد نے ادب سے کہا: “استاد ! اب اجازت دیجیے۔ نماز کا وقت ہوگیا ہے، پھر گھروں کو بھی لوٹنا ہے۔”
دوسرے شاگرد نے بھی کہا: “جی استاد ، اس سوال کا جواب شاید اگلی نشست تک ہمارے ساتھ رہے گا۔”
استاد نے مسکرا کر کہا:
“سوال ساتھ لے جائیے۔ شاید جواب راستے میں مل جائے۔”
میں نے آخری بار آسمان کی طرف دیکھا۔
چودھویں کا چاند مدھم پڑ رہا تھا اور مشرق کی سمت صبح کی ہلکی روشنی نمودار ہو رہی تھی۔
رات بھر ہم یہ تلاش کرتے رہے کہ بڑا کون ہے: تخلیق یا تخلیق کار؟
مگر صبح تک پہنچتے پہنچتے سوال نے اپنی شکل بدل لی تھی۔
اب سوال یہ تھا: انسان کو جو کچھ عطا ہوا ہے وہ اس کا مالک ہے یا امین ؟
اور اگر وہ امین ہے تو—
کیا ہم اپنی عطا کا حق ادا کر رہے ہیں؟
یہ سوال وہیں رہ گیا۔
ہم نماز کے لیے اٹھے مگر اس سوال کو وہیں چھوڑ کر
مزید پڑھیں


اسٹریٹجک ذخائر سے 325 ملین بیرل تیل جاری

بدلتے رنگ حیات،تحریر: اقصیٰ وحید

فکر کل کی، خوشی آج کی،تحریر: شازیہ یاسین
