Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بشری ترجیحات اور الٰہی فیصلے،تحریر:پروفیسر عامر زریں

نقطہ نظر

زندگی بظاہر سیدھی سڑک کا نام ہے، مگر اس کے پیچ و خم، موڑ، چڑھائیاں اور اُترائیاں اسے ایک ایسے سفر میں بدل دیتے ہیں جس کی منزل تو شاید ہماری نگاہوں میں ہوتی ہے، لیکن راستے کا علم ہمیشہ ہمارے پاس نہیں ہوتا۔ ہم اپنی خواہشوں کے نقشے بناتے ہیں، مستقبل کے خواب سجاتے ہیں، کامیابیوں کی منزلیں متعین کرتے ہیں اور پھر پوری قوت سے ان تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ جس راستے کا انتخاب ہم نے کیا ہے، وہی ہمارے لیے بہترین ہے۔ لیکن زندگی ہمیشہ ہماری منصوبہ بندی کے مطابق نہیں چلتی۔ کبھی بس چھوٹ جاتی ہے، کبھی ملازمت نہیں ملتی، کبھی کوئی تعلق ٹوٹ جاتا ہے، کبھی برسوں کی محنت کے باوجود کامیابی دروازے پر دستک نہیں دیتی۔ اس وقت ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قسمت نے ہمارے ساتھ ناانصافی کی ہو۔ مگر کیا واقعی ہر ناکامی بدقسمتی ہوتی ہے؟


کبھی کبھی وقت گزرنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ جس واقعے کو ہم اپنی زندگی کا سب سے بڑا نقصان سمجھ رہے تھے، وہی کسی بڑے نقصان سے بچنے کا سبب بن گیا۔ جس دروازے کے بند ہونے پر ہم نے آنسو بہائے تھے، شاید اس کے پیچھے ہمارے لیے کوئی بہتر راستہ موجود ہی نہیں تھا۔ اور جس راستے پر چلنے کی خواہش میں ہم بے قرار تھے، شاید وہ ہماری منزل کے بجائے ہماری آزمائش بن جاتا۔اس کی سب سے حالیہ مثال مشہورِ زمانہ بحریہ ٹاؤن، کراچی جہاں بہت سے لوگ پلاٹ لینا چاہتے تھے، گھر بنانا یا خریدنا چاہتے تھے، لیکن الیکڑانک اور سوشل میڈیا پر خبرعام ہے کہ اس بڑے رہائشی پراجیکٹ کے چند فیز غیر قانونی زمین پر تعمیر کئے گئے ہیں۔ اور یقینا آج وہ تمام لوگ اس خبر کے بعد اپنی آپ کو خوش قسمت سمجھ رہے ہوں گے، کہ وہ آج اس بڑی مصیبت سے بچ گئے۔ زندگی کی یہی حقیقت ہمیں اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنے اور حالات کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع دیتی ہے۔


ذرا تصور کیجیے کہ آپ کسی ضروری کام کے لیے گھر سے نکلے ہیں۔ آپ جلدی میں ہیں، وقت کی پابندی بھی ضروری ہے، مگر آپ کی آنکھوں کے سامنے بس روانہ ہو جاتی ہے۔ دل میں غصہ پیدا ہوتا ہے، اپنے آپ کو کوستے ہیں، حالات کو برا بھلا کہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ آج کا دن خراب ہو گیا۔ لیکن ممکن ہے کہ چند منٹ بعد آپ کو کوئی دوسری سواری مل جائے، راستے میں کسی اہم شخص سے ملاقات ہو جائے یا آپ کسی ایسی صورتِ حال سے محفوظ رہ جائیں جس کا آپ کو علم ہی نہ تھا۔یقیناً ہر چھوٹی ہوئی بس کے پیچھے کسی حادثے سے بچ جانے کی کہانی نہیں ہوتی، لیکن یہ امکان ضرور موجود ہے کہ ہماری زندگی کے بعض غیر متوقع واقعات ہمیں ایسے نتائج سے دور کر دیں جن کا ہم نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو۔

اصل سبق یہ نہیں کہ ہم ہر اتفاق کو کسی غیبی اشارے کا نام دے دیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے اختیار سے باہر ہونے والے واقعات کو اپنی زندگی کا خاتمہ نہ سمجھ بیٹھیں۔ ایک راستہ بند ہو جائے تو زندگی کے دوسرے راستوں پر نگاہ ڈالنا بھی ضروری ہے۔


انسان کی فطرت ہے کہ وہ قبول کیے جانے کی خواہش رکھتا ہے۔ اسے پسند کیا جائے، اس کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا جائے، اس کی محبت کا جواب محبت سے ملے اور اس کی محنت کو کامیابی کا صلہ نصیب ہو۔ لیکن جب کوئی ادارہ ملازمت دینے سے انکار کر دے، کوئی شخص رشتے سے انکار کر دے یا کوئی دوست اچانک فاصلے اختیار کر لے تو ہم اکثر اپنے وجود کی قدر پر سوال اٹھانے لگتے ہیں۔ہم سوچتے ہیں کہ شاید ہم میں کوئی کمی ہے، شاید ہم محبت کے قابل نہیں، شاید ہماری صلاحیتیں دوسروں کی نگاہ میں بے معنی ہیں۔حالانکہ ہر انکار ہماری نااہلی کا ثبوت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ہماری صلاحیتیں کسی خاص جگہ کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ بعض تعلقات ہماری شخصیت، عزتِ نفس اور ذہنی سکون کے لیے موزوں نہیں ہوتے۔ بعض مواقع بظاہر پُرکشش ہوتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ ایسی ذمہ داریاں اور مشکلات وابستہ ہوتی ہیں جن کا ہمیں پہلے سے علم نہیں ہوتا۔اس لیے ہر بند دروازے کے سامنے اپنی عزتِ نفس کو مجروح کرنا دانش مندی نہیں۔ کبھی انکار کو قبول کرکے آگے بڑھ جانا، مسلسل دستک دیتے رہنے سے زیادہ بہتر ثابت ہوتا ہے۔


زندگی کا ایک بڑا دکھ اُن لوگوں کی جدائی ہے جنہیں ہم نے اپنے مستقبل کا حصہ سمجھا ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ خواب وابستہ کیے ہوتے ہیں، ان کی موجودگی کو اپنی خوشیوں کی ضمانت سمجھا ہوتا ہے اور ان کے بغیر زندگی کا تصور بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ بعض رشتے ختم ہو جاتے ہیں، بعض دوست بدل جاتے ہیں اور بعض لوگ ہماری زندگی سے ایسے نکل جاتے ہیں جیسے کبھی ہمارے تھے ہی نہیں۔

ایسے مواقع پر دل کو سمجھانا آسان نہیں ہوتا۔ تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر جدائی ہماری شکست نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ ہماری زندگی کے ایک مخصوص مرحلے تک ہمارے ساتھی ہوتے ہیں، پوری زندگی کے لیے نہیں۔ ان کا چلے جانا ہماری زندگی کی تمام خوشیوں کا اختتام نہیں۔البتہ اس خیال کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ہر جانے والا کسی بہتر شخص کے آنے کی ضمانت نہیں ہوتا۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی کی جدائی کے بعد ہم اپنی زندگی کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند نہ کر لیں۔ اپنے اندر اُمید، محبت اور اعتماد کے لیے جگہ باقی رکھیں۔ ممکن ہے آنے والے دن ہمیں ایسے لوگ عطا کریں جو ہمارے وجود کو سمجھیں، ہماری عزت کریں اور ہمارے ساتھ خلوص کا رشتہ قائم رکھیں۔


ایمان رکھنے والے انسان کے لیے زندگی کی مشکلات میں ایک روحانی سہارا بھی موجود ہوتا ہے۔ وہ خدائے بزرگ و برتر پر بھروسا کرتے ہوئے یہ یقین رکھ سکتا ہے کہ زندگی کی ہر حقیقت اس کی فوری سمجھ میں آنا ضروری نہیں۔ ہماری نگاہ حال تک محدود ہوتی ہے، جب کہ مستقبل ابھی پردۂ غیب میں ہوتا ہے۔بعض دعائیں ہماری خواہش کے مطابق پوری نہیں ہوتیں، بعض تمنائیں برسوں انتظار کے باوجود حقیقت نہیں بنتیں اور بعض فیصلے ہمیں اپنی مرضی کے خلاف قبول کرنا پڑتے ہیں۔ لیکن ممکن ہے وقت گزرنے کے بعد ہم انہی حالات میں کوئی سبق، کوئی نئی صلاحیت یا زندگی کو دیکھنے کا کوئی مختلف زاویہ دریافت کر لیں۔


یہاں کل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں۔ ایمان ہمیں کوشش، تدبیر، صبر اور اُمید کا درس دیتا ہے۔ ہمیں اپنی منزل کے لیے محنت بھی کرنی ہے، غلطیوں سے سیکھنا بھی ہے اور ناکامی کے بعد دوبارہ اٹھنا بھی ہے۔ البتہ نتیجہ ہماری خواہش کے مطابق نہ نکلے تو اپنی پوری زندگی کو بے معنی سمجھ لینا درست نہیں۔زندگی میں بعض اوقات سب سے بڑی دانش مندی اپنی ضد چھوڑ دینے میں ہوتی ہے۔ ہم کسی مقصد کے پیچھے اتنا طویل سفر طے کر چکے ہوتے ہیں کہ ہمیں واپس پلٹنا اپنی شکست محسوس ہونے لگتا ہے۔ حالاں کہ اگر راستہ غلط ثابت ہو جائے تو اس پر مزید سفر کرنا کامیابی نہیں، اپنی توانائی ضائع کرنا ہے۔سمجھ دار مسافر وہ نہیں جو ہر حال میں ایک ہی راستے پر چلتا رہے، بلکہ وہ ہے جو حالات کا جائزہ لے، اپنی سمت درست کرے اور منزل تک پہنچنے کے لیے متبادل راستہ اختیار کرنے سے نہ گھبرائے۔زندگی ہمیں بار بار یہ موقع دیتی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر غور کریں۔ کیا ہماری خوشی واقعی اسی ملازمت، اسی رشتے، اسی مقام یا اسی کامیابی میں پوشیدہ ہے جسے حاصل کرنے کے لیے ہم بے چین ہیں؟ کیا ہم نے اپنی خواہش کو اپنی ضرورت سمجھ لیا ہے؟ اور کیا ہم کسی بند دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر ان کھڑکیوں کو نظرانداز تو نہیں کر رہے جن سے روشنی اندر آ سکتی ہے؟یہ سوالات ہمیں مایوسی سے نکال کر خود شناسی کی طرف لے جاتے ہیں۔


زندگی ہمیشہ وہ نہیں دیتی جو ہم چاہتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہمارے لیے خوشی، کامیابی اور سکون کے تمام راستے بند ہو گئے ہیں۔ کبھی ناکامی ہمیں اپنی کمزوریوں سے آگاہ کرتی ہے، کبھی جدائی ہمیں اپنی ذات سے دوبارہ متعارف کراتی ہے اور کبھی غیر متوقع تبدیلی ہمیں ایسے امکانات سے روشناس کراتی ہے جن کا پہلے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔


اس لیے جب کوئی بس چھوٹ جائے، کوئی موقع ہاتھ سے نکل جائے، کوئی شخص زندگی سے رخصت ہو جائے یا کوئی خواب بکھر جائے تو چند لمحے ٹھہر کر خود سے کہیے کہ یہ میری کہانی کا اختتام نہیں ہے۔شاید یہ راستہ میرے لیے نہیں تھا۔ شاید مجھے کوئی دوسرا راستہ تلاش کرنا ہے۔خدائے بزرگ و برتر پر بھروسا رکھیے، اپنی کوشش جاری رکھیے، حقیقت کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کیجیے اور زندگی کے بدلتے ہوئے راستوں سے خوف زدہ نہ ہوں۔کیونکہ کبھی کبھی جسے ہم بدقسمتی سمجھتے ہیں، وہ ہمارے لیے ایک نئے آغاز کا سبب بن جاتی ہے۔ ہر موڑ منزل نہیں ہوتا، لیکن ہر موڑ ہمیں کچھ سکھا سکتا ہے۔زندگی کا حسن صرف منزل پا لینے میں نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے راستوں میں خود کو سنبھالنے، امید کو زندہ رکھنے اور نئے سفر کا حوصلہ پیدا کرنے میں بھی ہے۔یاد رکھیے، کبھی کبھی راستہ بدلنا بھی ایک نعمت ہوتا ہے۔