انسانی حقوق اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر:نمرہ امین
نقطہ نظر"حق" عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا لغوی مطلب "درست"اور "صحیح" کے ہیں۔ بنیادی انسانی حقوق وہ حقوق ہیں جو ہمارے پاس اس لیے ہیں کہ بطور انسان ہم دنیا میں موجود ہیں۔ یہ کسی بھی ریاست، حکومت کی طرف سے نہیں دیے گئے ہیں یہ آفاقی ہیں۔ انسانی حقوق آزادی کی بنیادی ضرورت اور شرط ہے جن کو قانونی تحفظ حاصل ہے جو ہر انسان کا حق ہے۔ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک جو بنیادی حقوق ہیں ہر شخص ان حقوق کا حق دار ہے چاہے وہ کسی بھی ملک شہر یا قوم سے تعلق رکھتا ہو۔ یہ ہماری زندگی کے انفرادی، سیاسی، شہری، روحانی، سماجی، معاشی اور ثقافتی پہلوؤں کی جانب توجہ دلاتا ہے۔ کوئی ریاست اپنی عوام کو ان کے حقوق کا شعور دیے بغیر، حقوق کے تحفظ کا اہل بنائے بغیر اور اپنے حقوق کے لیے احتجاج کا حق دیے بغیر انسانی حقوق کی حقیقی ضمانت فراہم نہیں کرسکتی ہے۔
انسان جب دنیا میں آتا ہے تو ایک معاشرہ تشکیل پاتا ہے جہاں وہ اپنی ضروریات، حقوق اور ذمہ داریوں کے ساتھ زندگی گزارتا ہے اور وہ انصاف، امن، خوشحالی اور محبت کا طلبگار ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ معاشرے میں ایسے ادارے بنائے جا سکیں جہاں ان کو سکون و محبت، امن و خوشحالی مل سکے۔ نفرت، بغض، کینہ، نا انصافی اور محرومیوں کو ختم کیا جا سکے ان کو روکا جا سکے تاکہ ایک پر امن ماحول میسر ہو سکے۔ ہر انسان کا حق ہے کہ وہ جو چاہے مرضی عقیدہ رکھے، اسے تبدیل کرے یا ترک کرے یہ اس پر منحصر ہے۔ یہ رنگ، نسل، مذہب، جنس، زبان، ثقافت، سماجی مقام، مالی حیثیت اور سیاسی خیالات کے فرق سے کسی فرد کے انسانی حقوق پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔
اسلام میں نیکی کا جو جامع تصور پیش کیا گیا ہے اس میں خدمت خلق، حقوق انسانیت، رہن سہن اور معاشرت بھی ایک لازمی حصہ ہے۔ یہ ہمیں اس راستے پر گامزن ہونے کی ہدایت دیتا ہے جس پر سب سے عظیم ہستی ہمارے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تھے۔ جن کی مبارک زندگی سب انسانیت کے لیے ایک مثال ہے۔ انہوں نے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ انسانوں کے حقوق کا بھی خیال کیا اس پر عمل پیرا ہوئے اور اپنی پوری امت کو ان سب کا درس دیتے ہوئے اپنے صحابہ کرام کو بھی ان سب کاموں کی تلقین فرمائی۔
اللّٰہ تعالیٰ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ نماز، روزے سب ارکانوں کے ساتھ ساتھ اللّٰہ پر، اس کے فرشتوں، اس کی کتاب اور اس کے پیغمبروں پر سب ایمان لائیں اور پھر اللّٰہ کی محبت میں اس کے دیے ہوئے مال سے سب یتیموں، مسکینوں، ضرورت مندوں، محتاجوں اور غلاموں کی مدد کریں، ان کی ضروریات پوری کریں، ان پر مال خرچ کریں۔ کیوں کہ اسی کی بدولت انسان کی پر سکون زندگی بسر ہوسکتی ہے۔ ایک انسان جب اللہ کی رضا کی خاطر کسی ضرورت مند کی مدد کرتا ہے تو اس سے اللہ بھی راضی ہوتا ہے اور انسان کی اپنی ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں۔ اس کو بھی اللہ ترقی دیتا ہے، اس کے مال میں مزید برکت ڈالتا ہے اور اس کے دل میں ایک احساس پیدا کرتا ہے تاکہ وہ ہر غریب کی مدد کر سکے۔ اللہ نے ہر انسان کے دل میں ایک جذبہ اور احساس پیدا کیا ہے، اس کو اس صفت سے نوازا ہے کہ وہ دوسروں کی مدد کر سکے۔ اللہ نے انسانوں کو ہی کسی نہ کسی کا وسیلہ بنایا ہوتا ہے جس سے وہ دوسروں کی مدد کرتا ہے۔ ان کی ضروریات زندگی کو پورا کرتا ہے تاکہ ہر ضروت مند بھی اپنی زندگی کو خوشحالی اور سکون سے گزار سکے۔ کسی انسان کا مال کم نہیں ہوتا کسی ضرورت مند کی مدد کر کے اس کا مال ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے اور اس سے رب دنیا و آخرت میں راضی ہی رہتا ہے۔ اس کی دنیا و آخرت سنور جاتی ہے ان سب نیکی کے کام کرنے میں اور یہ نیک کام اللہ اس انسان سے کرواتا ہے۔ نیک کام کا حوصلہ ہر کسی میں نہیں ہوتا یہ تو اللہ کی جس پر عنایت ہو جائے اس انسان کے دل میں نرمی اور محبت سب کے کے لیے پیدا ہوتی ہے۔ اس کا دل خود ہی سب کے ساتھ حسن سلوک کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ وہ خود کو پر سکون سمجھتا ہے ہر غریب، مسکین کی مدد کر کے ان کی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کی کوشش کر کے اس کی تمنا ہی یہی ہوتی ہے کہ میں سب کی جتنی ہوسکے مدد کر سکوں۔ اس کو اپنے دنیا میں آنے کا مقصد بھی یہی لگتا ہے کہ اللہ نے اس کو سب کی مدد کرنے اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دنیا میں بھیجا ہے اور اتنے زیادہ مال سے نوازا ہے تاکہ میں سب کی مدد کر سکوں۔ اس انسان میں غرور و تکبر نہیں ہوتا وہ بس بے لوث خدمت خلق میں مگن رہتا ہے اور سب کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے ان کو پورا کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ وہ یہی چاہتا ہے کہ اس کے ذریعے بس یہ نیک کام ہوتے جائیں اور اللہ اس سے راضی و خوش ہی رہے ہمیشہ۔ہمارے معاشرے میں ہر مالدار انسان کی بس یہی خواہش اور کوشش ہونی چاہیے کہ وہ اپنے مال سے لازمی سب کی مدد کرے، جتنا ہو سکے ضرورت مندوں کی ضروریات پوری کرے تاکہ ہر جگہ امن و خوشحالی رہے۔ کوئی غربت اور فاقہ کشی کی وجہ سے
خودکشی کرنے پر مجبور نہ ہوسکے۔ مالدار انسان کی سوچ میں یہ بات ہونی چاہیے کہ مجھے اگر اللہ نے مال عطا کیا ہے تو غریبوں، مسکینوں کی مدد کرنا میری ذمہ داری اور حق بھی ہے جو مجھے احسن طریقے سے نبھانا ہے۔
اسی طرح اسلام نے انسانوں کے جذبات و احساسات کی قدر، عزت اور باہمی احترام کو قائم کرنے کی تاکید کی ہے تاکہ کسی کی حق تلفی نہ کی جا سکے، ان کے جذبات یا عزت نفس کو ٹھیس نہ پہنچائی جا سکے، کوئی اذیت نہ دی جا سکے۔ اسلام میں انسانیت کو بہت بڑا مقام دیا گیا ہے۔ اس نے اپنے ماننے والوں پر تمام انسانوں کے حقوق متعین کیے ہیں تاکہ ہر انسان اپنے ان سب حقوق کی ذمہ داریاں بخوبی نبھا سکے۔ والدین، بہن بھائیوں، پڑوسیوں، رشتے داروں، مہمانوں، میاں بیوی، یتیموں، غیر مسلموں غرض سب رشتوں کے حقوق کو پورا کرنے کی وصیت کی گئی ہے۔ اگر کسی بھی حقوق کی کوئی بھی ذمہ داریاں پوری نہ کی جائیں تو بہت سی مشکلات و پریشانیاں، رنج و غم، دکھ، درد مصیبتیں اور فساد ہی فساد برپا ہو جائے گا ہر طرف اور کوئی امن و امان، پر سکون ماحول کہیں قائم نہیں رہ سکے گا۔
اسی لیے بہتر یہی ہے کہ جو اللہ نے ہم سب پر حقوق لازم قرار دیے ہیں ہم اپنی پوری ذمہ داری سے ان سب حقوق کو بخوشی پورا کر کے نبھاتے رہیں تاکہ دنیا میں امن و سکون والا ماحول ہمیشہ قائم رہے۔
مزید پڑھیں



