بچوں میں موٹاپے کا بڑھتا ہوا رجحان ،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
نقطہ نظر
آج ہم آپ کو موٹاپے کے حوالہ سے ایک رپورٹ سے آگاہ کریں گے جو ،،ڈبلیو ایچ او ،،کی جانب سے جاری کی گئی ہے اس رپورٹ میں بہت سے تنقیدی پہلؤوں کا جائزہ لیا گیا ہے آئیں اس رپورٹ پر نظر دوڑائیں ۔رپورٹ کے مطابق بچپن انسانی زندگی کا وہ اہم مرحلہ ہے جس میں صحت مند عادات، متوازن غذا، جسمانی سرگرمی اور مثبت سوچ مستقبل کی بنیاد بنتے ہیں۔ لیکن موجودہ دور میں بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپے کا بڑھتا ہوا رجحان ایک اہم عالمی مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہ معاملہ محض جسمانی وزن بڑھنے تک محدود نہیں بلکہ بچوں کی جسمانی صحت، ذہنی کیفیت، خود اعتمادی اور سماجی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے بچوں کو تنقید، طنز اور الزام دینے کے بجائے محبت، رہنمائی اور تعاون فراہم کیا جائے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپے کی نگہداشت کے حوالے سے اپنی پہلی عالمی رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، 2024ء میں پانچ سے انیس سال کی عمر کے تقریباً 17 کروڑ بچے اور نوجوان موٹاپے کا شکار تھے۔ یہ شرح 1990ء میں ریکارڈ کی گئی شرح سے تقریباً چار گنا ہے۔
یہ اعدادوشمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بچوں میں موٹاپا ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر والدین، اساتذہ، طبی ماہرین اور معاشرے کے تمام ذمہ دار طبقات کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بچوں کی صحت کو نظر انداز کرنا مستقبل کی نسلوں کی صحت کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں بعض اوقات موٹاپے کو محض ظاہری شکل و صورت سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ موٹے بچوں کو مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ان کے جسمانی خدوخال پر تبصرے کیے جاتے ہیں اور بعض اوقات انہیں ایسے ناموں سے پکارا جاتا ہے جو ان کی خود اعتمادی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف نامناسب ہے بلکہ بچوں کی ذہنی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موٹاپا جسمانی صحت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے اور اس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس اور دل کی بیماریوں جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری طرف، طنز، تمسخر اور مسلسل تنقید بچوں میں احساسِ کمتری، ذہنی دباؤ اور دوسروں سے دوری پیدا کر سکتی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بچے کے وزن کی بنیاد پر اس کی شخصیت، ذہانت یا صلاحیتوں کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر بچہ عزت، محبت اور مساوی مواقع کا حق رکھتا ہے۔
متوازن غذا صحت مند زندگی کی بنیاد
بچوں میں صحت مند وزن اور نشوونما کے لیے متوازن غذا بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کی خوراک میں سبزیاں، پھل، دالیں، مناسب مقدار میں پروٹین، دودھ یا اس کے متبادل اور دیگر غذائیت بخش اشیا شامل کریں۔ میٹھے مشروبات، ضرورت سے زیادہ چینی، غیر ضروری جنک فوڈ اور بار بار غیر متوازن خوراک کے استعمال کو محدود کرنا بھی مفید ہے۔
تاہم، صحت مند غذا کا مطلب یہ نہیں کہ بچوں کو بھوکا رکھا جائے یا ان پر سخت غذائی پابندیاں عائد کر دی جائیں۔ بچوں کے جسمانی تقاضے ان کی عمر، نشوونما اور سرگرمیوں کے مطابق مختلف ہوتے ہیں۔ اس لیے خوراک کے حوالے سے کسی بڑی تبدیلی سے پہلے ضرورت کے مطابق ڈاکٹر یا مستند ماہرِ غذائیت سے مشورہ کرنا چاہیے۔
گھروں میں کھانے پینے کی صحت مند عادات کو عملی طور پر اپنانا ضروری ہے، کیونکہ بچے اکثر وہی رویے سیکھتے ہیں جو وہ اپنے والدین اور گھر کے دیگر افراد میں دیکھتے ہیں۔
کھیل کود اور جسمانی سرگرمی ضروری ہے
آج کے دور میں موبائل فون، ٹیلی ویژن، ویڈیو گیمز اور طویل وقت تک بیٹھے رہنے کی عادت نے بچوں کی جسمانی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ پہلے بچے گلیوں، میدانوں اور کھلی جگہوں میں کھیلتے تھے، لیکن اب بہت سے بچے اپنا زیادہ وقت اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں۔
والدین اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ بچوں کے لیے محفوظ جسمانی سرگرمیوں کے مواقع پیدا کریں۔ پیدل چلنا، سائیکل چلانا، کھیلوں میں حصہ لینا اور عمر کے مطابق روزانہ حرکت میں رہنا صحت مند نشوونما میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ بچوں کو جسمانی سرگرمی سزا یا وزن کم کرنے کی مشقت کے طور پر نہیں بلکہ خوشی، تفریح اور صحت مند زندگی کے حصے کے طور پر اپنانے کی ترغیب دینی چاہیے۔
بچوں کی صحت کے معاملے میں والدین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں چاہیے کہ بچوں کی خوراک، نیند، جسمانی سرگرمیوں اور جذباتی ضروریات پر توجہ دیں۔ اگر کسی بچے کے وزن میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہو تو اسے ڈانٹنے یا دوسروں سے موازنہ کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کیا جائے تاکہ ممکنہ وجوہات کا مناسب جائزہ لیا جا سکے۔
بعض بچوں کے لیے جذباتی دباؤ، تنہائی، نیند کی کمی یا خاندانی ماحول بھی کھانے کی عادات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس لیے بچوں کے ساتھ دوستانہ گفتگو، ان کے مسائل کو توجہ سے سننا اور انہیں جذباتی تحفظ فراہم کرنا اہم ہے۔
ڈیجیٹل ذرائع اور صحت سے متعلق ایپس بھی مفید ثابت ہو سکتی ہیں، بشرطیکہ ان کا استعمال والدین یا سرپرست کی نگرانی میں کیا جائے اور بچوں کی رازداری اور ذہنی صحت کا خیال رکھا جائے۔
علاج میں احتیاط اور ماہرین سے رجوع
ہر بچے کا جسمانی وزن، قد اور نشوونما مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے صرف وزن دیکھ کر کسی بچے کو موٹاپے کا شکار قرار دینا یا خود سے علاج شروع کرنا درست نہیں۔ بچوں کی عمر اور نشوونما کے مطابق طبی جائزہ ضروری ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کی فراہم کردہ رہنمائی کے مطابق، کم عمر بچوں کے لیے وزن گھٹانے والی ادویات یا سرجری معمول کے طور پر تجویز نہیں کی جاتیں۔ ایسی مداخلتوں کے بارے میں فیصلہ عمر، طبی کیفیت اور ماہرین کی رہنمائی کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ والدین کو خود سے کوئی دوا استعمال نہیں کرانی چاہیے۔
اس سلسلہ میں معاشرے کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا
اسکولوں میں صحت مند غذا، کھیلوں اور جسمانی سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہیے۔ اساتذہ کو بچوں کے جسمانی خدوخال پر تبصرے کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور ایسے ماحول کو یقینی بنانا چاہیے جہاں کسی بچے کو وزن کی وجہ سے ہراساں نہ کیا جائے۔ صحت سے متعلق آگاہی مہمات میں بھی خوف، شرمندگی اور تضحیک کے بجائے مثبت رہنمائی کو ترجیح دینی چاہیے۔
حکومت، طبی اداروں اور تعلیمی انتظامیہ کو بھی بچوں کے لیے صحت مند ماحول، محفوظ کھیل کے میدانوں اور غذائیت سے متعلق آگاہی پر توجہ دینی چاہیے۔
اختتامیہ
بچوں میں موٹاپے کا مسئلہ صرف وزن کم کرنے کا نام نہیں بلکہ صحت مند زندگی، بہتر ذہنی کیفیت اور متوازن نشوونما سے تعلق رکھتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی رہنمائی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ بچوں کی مدد کے لیے متوازن غذا، جسمانی سرگرمی، والدین کی معاونت اور ذہنی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
یاد رکھیں،ہمیں اپنے بچوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ ان کی قدر ان کے جسمانی وزن سے نہیں بلکہ ان کی شخصیت، کردار، صلاحیتوں اور انسانیت سے ہے۔ بچوں کو شرمندہ نہیں، حوصلہ مند بنائیں؛ انہیں تنقید نہیں، تعاون دیں۔ یہی رویہ ایک صحت مند، پراعتماد اور روشن مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
دوسری طرف ترقی پذیر ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے مہنگائی کی وجہ بچوں کی کیا بڑے بھی مناسب غذائیت کی کمی کا شکار نظر آتے ہیں
مزید پڑھیں



