نوجوانوں کو نصیحت نہیں مواقع چاہییں،تحریر: دانش رحمان
نقطہ نظر
کسی قوم کا اصل المیہ اس وقت جنم لیتا ہے جب اس کے نوجوان خواب دیکھنا تو سیکھ جائیں مگر انہیں حقیقت میں بدلنے کے راستے میسر نہ ہوں۔ ہاتھوں میں ڈگریاں ذہنوں میں نئے خیالات اور دلوں میں آگے بڑھنے کی تڑپ رکھنے کے باوجود جب انہیں تجربے وسائل کی کمی اور محدود امکانات کا سامنا کرنا پڑے تو سوال نوجوانوں کی صلاحیت پر نہیں بلکہ نظام کی ترجیحات پر اٹھتا ہے۔ پاکستان میں نوجوانوں کو قوم کا مستقبل قرار دیا جاتا ہے اور انہیں محنت صبر اور خود اعتمادی کے درس بھی دیے جاتے ہیں۔ لیکن کیا کسی پیاسے کو پانی کی اہمیت سمجھانا اس کی پیاس بجھا سکتا ہے؟ یقیناً نہیں۔ نوجوانوں کو رہنمائی کے ساتھ تعلیم روزگار ہنر کے اظہار اور کاروبار کے مواقع بھی درکار ہیں۔ کسی قوم کی عظمت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ وہ اپنی نئی نسل کے لیے کتنے خوب صورت خواب دیکھتی ہے بلکہ اس سے کہ ان خوابوں کی تعبیر کے لیے کتنے دروازے کھولتی ہے۔
پاکستان میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد بہت سے نوجوانوں کو عملی زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ملازمت کے لیے تجربہ کاروبار کے لیے سرمایہ اور ترقی کے لیے میرٹ پر مبنی نظام درکار ہوتا ہے۔ جب ان بنیادی ضروریات کی فراہمی مشکل ہو تو محض محنت اور مستقل مزاجی کی تلقین کافی نہیں رہتی۔ مہنگائی تعلیمی اخراجات اور محدود روزگار نے معاشی خودمختاری کا سفر مزید دشوار بنا دیا ہے۔ متوسط اور کم آمدنی والے خاندان بچوں کی تعلیم پر برسوں وسائل خرچ کرتے ہیں مگر ڈگری کے بعد مناسب روزگار نہ ملنے پر پوری فیملی مایوسی کا شکار ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں ہر ناکامی کو سستی اور ہر بے روزگاری کو نااہلی قرار دینا ناانصافی ہے۔ ضروری ہے کہ نوجوانوں کی کوششوں کے ساتھ ان رکاوٹوں کو بھی سمجھا جائے جو ان کی ترقی محدود کرتی ہیں۔
تعلیم قومی ترقی کی بنیاد ہے لیکن اس کا حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب حاصل کردہ علم عملی زندگی کی ضروریات سے مطابقت رکھتا ہو۔ ہمارے تعلیمی نظام میں امتحانات اور اسناد پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے جبکہ جدید دور میں کتابی معلومات کے ساتھ مسئلہ حل کرنے مؤثر ابلاغ تنقیدی سوچ اور ٹیکنالوجی سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے درمیان رابطہ مضبوط کرنا ہوگا۔ طلبہ کو عملی منصوبوں انٹرن شپ اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ تعلیم کے دوران کام کے ماحول سے واقف ہو سکیں۔ فنی تعلیم کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے کیونکہ ہر نوجوان کے لیے ایک ہی پیشے کا انتخاب موزوں نہیں ہوتا۔ ماہر کاریگر قابل ٹیکنیشن اچھا استاد اور کامیاب کاروباری فرد بھی معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری دینا نہیں بلکہ نوجوانوں کو عملی زندگی کے لیے تیار کرنا ہے۔
نوجوانوں کے لیے ملازمت حاصل کرنے میں تجربے کی شرط بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ بہت سے ادارے نئے امیدواروں سے سابقہ تجربہ مانگتے ہیں حالانکہ انہیں عملی میدان میں قدم رکھنے کا موقع ہی نہیں ملا ہوتا۔ اگر ہر ادارہ تجربہ کار فرد کو ترجیح دے گا تو نئے نوجوان تجربہ کہاں سے حاصل کریں گے؟ اس مسئلے کے حل کے لیے بامعاوضہ انٹرن شپ اپرنٹس شپ اور ابتدائی درجے کی ملازمتوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔ اداروں کو امیدواروں کی قابلیت سیکھنے کی آمادگی اور ذمہ داری کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔ ہر ماہر نے کبھی نہ کبھی اپنے پیشے کا آغاز کیا ہوتا ہے مہارت وقت رہنمائی اور مسلسل مشق سے پیدا ہوتی ہے۔ نوجوانوں کو تربیت دینا ان کے ساتھ ساتھ اداروں کے مستقبل میں بھی سرمایہ کاری ہے کیونکہ تربیت یافتہ افرادی قوت ملکی معیشت کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے میں حکومت کا کردار بنیادی ہے۔ روزگار کے منصوبوں کا اعلان کافی نہیں ان پر مؤثر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ سرکاری بھرتیوں میں شفافیت میرٹ کی پابندی اور بروقت تقرریاں نوجوانوں کا اعتماد بحال کر سکتی ہیں۔ فنی تربیت کے پروگراموں کو مقامی صنعتوں اور روزگار کی حقیقی ضروریات سے منسلک کیا جانا چاہیے۔ ان منصوبوں کی کامیابی کا اندازہ صرف سرٹیفکیٹس کی تعداد سے نہیں بلکہ روزگار حاصل کرنے والے افراد اور قائم ہونے والے کاروبار سے لگایا جائے۔ کم آمدنی والے طلبہ کے لیے وظائف اور کاروبار شروع کرنے والوں کے لیے آسان مالی معاونت مؤثر اقدامات ہو سکتے ہیں۔ نجی شعبے کو بھی نوجوانوں کی تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی میں حصہ لینا چاہیے۔ تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے تعاون سے ایسی مہارتیں پیدا کی جا سکتی ہیں جن کی عملی دنیا میں حقیقی ضرورت ہو۔
جدید ٹیکنالوجی نے نوجوانوں کے لیے آمدنی کے نئے راستے کھولے ہیں۔ فری لانسنگ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ گرافک ڈیزائننگ ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن تدریس کے ذریعے نوجوان مقامی ملازمتوں سے ہٹ کر بھی اپنی صلاحیتیں استعمال کر سکتے ہیں۔ تاہم صرف انٹرنیٹ تک رسائی کامیابی کی ضمانت نہیں۔ ان شعبوں میں مہارت مسلسل سیکھنے پیشہ ورانہ دیانت اور معیاری کام ضروری ہیں۔ نوجوانوں کو جدید ہنر کے ساتھ گاہکوں سے رابطے اور عملی تجربے کی تربیت بھی ملنی چاہیے۔ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں قابلِ اعتماد انٹرنیٹ مناسب آلات اور معیاری تربیت فراہم کرکے زیادہ نوجوانوں کو ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ کاروباری صلاحیت رکھنے والوں کو سرمایہ اور رہنمائی ملے تو وہ اپنی آمدنی بڑھانے کے ساتھ دوسروں کے لیے روزگار بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
مواقع کی منصفانہ تقسیم بھی قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان کے تمام نوجوان یکساں حالات میں زندگی کا آغاز نہیں کرتے۔ بڑے شہروں کے طلبہ کو معیاری تعلیم اور جدید سہولتوں تک نسبتاً آسان رسائی حاصل ہوتی ہے جبکہ دور دراز علاقوں کے نوجوان ان کے حصول کے لیے زیادہ جدوجہد کرتے ہیں۔ خواتین کو بعض اوقات محفوظ آمدورفت اور مناسب کام کے ماحول جیسے مسائل بھی درپیش ہوتے ہیں۔ وظائف مقامی تربیتی مراکز اور قابلِ رسائی سہولتیں ان رکاوٹوں کو کم کر سکتی ہیں۔ میرٹ کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنی قابلیت ثابت کرنے کا منصفانہ موقع ملے۔ کامیابی کی ضمانت دینا ممکن نہیں لیکن ایسا ماحول ضرور بنایا جا سکتا ہے جہاں کسی نوجوان کا مستقبل صرف اس کے مالی پس منظر یا ذاتی تعلقات کی وجہ سے محدود نہ ہو۔
اس سارے عمل میں نوجوانوں کی اپنی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ انہیں محنت وقت کی پابندی دیانت داری اور مسلسل سیکھنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ بدلتے دور میں نئی مہارتیں حاصل کرنا اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بناتے رہنا ضروری ہے۔ والدین اور اساتذہ کو نوجوانوں کی دلچسپیوں کا احترام کرنا چاہیے اور انہیں اپنی صلاحیت کے مطابق پیشہ منتخب کرنے کا موقع دینا چاہیے۔ تاہم ذاتی محنت اسی وقت زیادہ نتیجہ خیز ہوتی ہے جب معاشرہ آگے بڑھنے کے منصفانہ مواقع فراہم کرے۔ رہنمائی تربیت اور عملی میدان ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
پاکستان کا مستقبل اس بات سے وابستہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کی صلاحیتوں کو کس حد تک قومی ترقی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ نوجوان محض آنے والے کل کی امید نہیں بلکہ آج کے معاشرے کا فعال حصہ ہیں۔ حکومت کو مؤثر پالیسیاں بنانا ہوں گی تعلیمی اداروں کو عملی تربیت فراہم کرنا ہوگی اور نجی شعبے کو روزگار کے راستے کھولنے ہوں گے۔ نصیحت انسان کو راستہ دکھاتی ہے تربیت اس کے قدم مضبوط کرتی ہے لیکن موقع اسے اپنی قابلیت ثابت کرنے کا میدان فراہم کرتا ہے۔ نوجوانوں سے محنت کی توقع رکھنا درست ہے مگر ان کی محنت کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ قومیں اپنی نئی نسل کو صرف خواب دکھا کر ترقی نہیں کرتیں بلکہ ان خوابوں کی تعبیر کے لیے راستے بھی ہموار کرتی ہیں۔ نوجوانوں کو نصیحت ضرور چاہیے مگر اس سے بڑھ کر تعلیم روزگار کاروبار اور آگے بڑھنے کے منصفانہ مواقع درکار ہیں کیونکہ نوجوان کسی قوم کا مستقبل ضرور ہوتے ہیں مگر ان کے خوابوں کو حقیقت بنانے کی ذمہ داری آج کی قیادت اداروں اور پورے معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں



