ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بے وفائی سے ڈرو مت،تحریر:رفعت اکرام

نقطہ نظر

زندگی میں دو طرح کے لوگ آتے ہیں۔ ایک وہ جو تمہاری زندگی کو خوبصورت بناتے ہیں۔ دوسرے وہ جو تمہیں زندگی کا مطلب سکھاتے ہیں۔ پہلے لوگ تمہارے دل میں رہتے ہیں۔ دوسرے لوگ تمہارے دماغ میں رہتے ہیں۔ پہلے لوگ تمہیں خوشی دیتے ہیں۔ دوسرے لوگ تمہیں سبق دیتے ہیں۔ دونوں طرح کے لوگ ضروری ہوتے ہیں۔ لیکن دوسری طرح کے لوگ زیادہ یاد رہتے ہیں۔

بے وفا لوگ زندگی کا سب سے بڑا سبق ہوتے ہیں۔ وہ تمہیں بتاتے ہیں کہ ہر مسکراتا چہرہ مخلص نہیں ہوتا۔ ہر میٹھی بات سچی نہیں ہوتی۔ ہر ہاتھ ملانے والا دوست نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ صرف مطلب کے لیے تمہارے قریب آتے ہیں۔ جب تک تمہارے پاس دینے کے لیے کچھ ہوتا ہے، وہ تمہارے ساتھ رہتے ہیں۔ تمہاری تعریف کرتے ہیں۔ تمہیں اپنا کہتے ہیں۔ تمہارے لیے جینے مرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی تمہارا برا وقت آتا ہے، وہ سب سے پہلے تمہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

بے وفائی کا زخم تلوار کے زخم سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ تلوار کا زخم جسم پر لگتا ہے اور کچھ دنوں میں بھر جاتا ہے۔ لیکن بے وفائی کا زخم دل پر لگتا ہے اور ساری زندگی نہیں بھرتا۔ انسان ہر کسی پر سے اعتبار کھو دیتا ہے۔ اسے ہر شخص دھوکے باز لگنے لگتا ہے۔ وہ کسی سے دل سے بات نہیں کر پاتا۔ وہ ہر رشتے میں شک کرنے لگتا ہے۔ یہ زخم انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔

بے وفا لوگوں کی ایک خاص بات ہوتی ہے۔ وہ بہت اچھے اداکار ہوتے ہیں۔ وہ اتنی صفائی سے جھوٹ بولتے ہیں کہ سچ بھی شرما جائے۔ وہ اتنی خوبصورتی سے دھوکہ دیتے ہیں کہ تمہیں پتہ بھی نہیں چلتا۔ وہ تمہارے سامنے تمہارے سب سے بڑے ہمدرد بنتے ہیں اور تمہارے پیچھے تمہارے سب سے بڑے دشمن۔ وہ تمہاری ہر بات سنتے ہیں، تمہارے ہر راز کو جانتے ہیں اور پھر انہی رازوں کو تمہارے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

جب کوئی اپنا بے وفائی کرتا ہے تو تکلیف بہت زیادہ ہوتی ہے۔ غیر کی بے وفائی اتنی تکلیف نہیں دیتی۔ کیونکہ غیر سے امید نہیں ہوتی۔ لیکن اپنے سے امید ہوتی ہے۔ جب وہی امید ٹوٹتی ہے تو انسان ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ میں نے کیا کمی کی تھی۔ میں نے تو اپنا سب کچھ اس کے لیے قربان کر دیا تھا۔ میں نے تو اسے اپنی جان سے زیادہ چاہا تھا۔ پھر اس نے ایسا کیوں کیا۔ اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔ بس ایک خاموشی ہوتی ہے اور آنسو ہوتے ہیں۔

بے وفا لوگ تمہیں چھوڑ کر چلے تو جاتے ہیں، لیکن جاتے جاتے تمہیں ایک تحفہ دے جاتے ہیں۔ وہ تحفہ ہے مضبوطی۔ تم اس بے وفائی کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتے ہو۔ تمہیں لوگوں کی پہچان ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ تمہیں پتہ چل جاتا ہے کہ کون اپنا ہے اور کون پرایا۔ کون مطلبی ہے اور کون مخلص۔ تمہیں اپنی اہمیت کا اندازہ ہونے لگتا ہے۔ تم خود سے محبت کرنا سیکھ جاتے ہو۔

زندگی میں بے وفا لوگوں سے نفرت مت کرو۔ ان سے نفرت کر کے تم اپنا ہی خون جلاؤ گے۔ اپنا ہی وقت ضائع کرو گے۔ انہیں بس سبق سمجھ کر بھول جاؤ۔ انہیں معاف کر دو۔ معاف اس لیے نہیں کہ وہ اس کے قابل ہیں، بلکہ اس لیے کہ تم سکون کے قابل ہو۔ جب تم انہیں معاف کر دو گے تو تمہارے دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا۔ تمہیں نیند آنے لگے گی۔ تمہیں سکون ملنے لگے گا۔

بے وفائی کے بعد خود کو سنبھالنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ کچھ لوگ بے وفائی کے بعد خود کو تباہ کر لیتے ہیں۔ وہ نشہ کرنے لگتے ہیں۔ وہ خود کو تکلیف دینے لگتے ہیں۔ وہ دنیا سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ حل نہیں۔ حل یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ بہتر بناؤ۔ اپنی زندگی کو پہلے سے زیادہ خوبصورت بناؤ۔ اتنے کامیاب ہو جاؤ کہ بے وفا شخص کو اپنی بے وفائی پر پچھتاوا ہو۔

یاد رکھو، جو تمہیں چھوڑ کر گیا، وہ تمہارے قابل ہی نہیں تھا۔ اگر وہ تمہارے قابل ہوتا تو وہ تمہیں کبھی نہ چھوڑتا۔ اللہ نے اسے تمہاری زندگی سے نکال کر تم پر احسان کیا ہے۔ اللہ تمہیں اس سے بہتر دینا چاہتا ہے۔ اس لیے اس کے جانے پر روؤ مت۔ اس کی راہ مت دیکھو۔ آگے بڑھو۔ تمہارے لیے آگے بہت کچھ اچھا لکھا ہے۔

بے وفا لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ لیکن وفادار لوگ ہمیشہ رہتے ہیں۔ اپنے ان وفادار لوگوں کی قدر کرو جو تمہارے برے وقت میں تمہارے ساتھ کھڑے ہیں۔ جو تمہاری خاموشی کو بھی سمجھتے ہیں۔ جو تمہیں بغیر کسی مطلب کے چاہتے ہیں۔ وہی تمہارے اصل لوگ ہیں۔ وہی تمہارا سرمایہ ہیں۔

بے وفائی سے ڈرو مت۔ یہ زندگی کا حصہ ہے۔ ہر انسان کو زندگی میں ایک بار بے وفائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی بے وفائی تمہیں انسان سے انسان کی پہچان کراتی ہے۔ یہی تمہیں مضبوط بناتی ہے۔ یہی تمہیں بڑا بناتی ہے۔