بھارت حقائق تسلیم کیوں نہیں کرتا،تحریر:انعام الحسن کاشمیری
نقطہ نظر
آگے بڑھنے کی خواہش رکھنے والے کبھی ایسے کاموں،اور راستوں کی طرف نہیں جاتے جہاں اُن کے قدم جکڑ لیے جائیں یا اُن کے وجود پربھاری بھرکم بوجھ لاد دیاجائے ۔ یہ بات انفرادی طور پر بھی صادق آتی ہے اور اجتماعی بھی۔ دنیا کے کامیاب افراد، قوموں اور ملکو ں نے دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ستاروں پر کمندیں ڈالیں اور اب وہ اِس سے اور آگے کے جہاں تلاش کررہے ہیں۔ ایک جانب چاند پر قدم رکھنے کے بعد دوسرے سیاروں کی کھوج کا عمل جاری ہے۔خلاؤں اور فضاؤں پر قابو پانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ توانائی کے نت نئے ذرائع اختیارکیے جارہے ہیں۔ غربت کے خاتمے کی کوششیں ہورہی ہیں اور اِن سب کے ساتھ ساتھ ایک اور متوازی عمل پوری توجہ، یکسوئی اور پیشہ ورانہ دیانت داری کے ساتھ جاری ہے اور وہ ہے اے آئی !۔چنانچہ صاف طور پر کہاجاسکتا ہے کہ پہلے دنیا آئی ٹی کی بدولت گلوبل ویلج بنی اور اب اے آئی کے باعث یہ اس ویلج سے نکل کر ایک اور ہی دنیا میں داخل ہوچکی ہے جہاں انسانوں سے بڑھ کر کوئی اور مخلوق اُن کی خدمت کے لیے حاضر ہے۔ پاکستان کا شمار بھی اُن ممالک میں ہوتاہے ، جس کی بھرپور کوشش ہے کہ وہ کامیابی کی جانب گامزن ممالک کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے۔ ترقی یافتہ ممالک کی مدد سے اپنے مسائل پر قابو پائے اور تنازعات، لڑائیوں اورجھگڑوں میں الجھنے کے بجائے ساری توجہ، ساری توانائی اور ساری کاوشیں صرف اور صرف ترقی، خوشحالی اور امن پرمرکوز رکھے۔ بدقسمتی سے مگر ایسا نہیں ہوسکا۔
پاکستان جغرافیائی طور پر ایسے خطے میں واقع ہے ، یا پاکستان کا جغرافیہ اس نوعیت کا ہے کہ جس نے اِسے دنیا بھر کی نظروں کامرکز بنارکھاہے۔ پھر قدرت نے جو انسانی ، مادی، معدنی وسائل اس خطے کی زمین کے اوپر اور اندر رکھے، اس کی بدولت اسے دنیا بھر میں اہم مقام حاصل ہوگیا۔ قیام ِ پاکستان کے بعد ایک جانب برطانیہ اور دوسری جانب بھارت کو ہرگز یقین نہ تھا کہ نوزائیدہ ریاست چند ماہ یا چند برس تک اپنا وجود برقرار رکھ پائے گی۔ اِسے مسائل میں الجھانے اور خاکم بدہن اس کے وجود کو جلد ہی اکھنڈ بھارت کا حصہ بنانے کی غرض سے ایسے اقدامات کیے گئے جنھوں نے ایک طرح سے اس نوزائیدہ ریاست کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا۔ ریڈکلف ایوارڈ کے تحت سرحدوں کی غلط حدبندی کی گئی۔ فوج ، اسلحہ اور رقوم کی تقسیم میں بہت بڑے پیمانے پر گھپلے کیے گئے۔ کروڑوں مہاجرین کو محض اس خاطر پاکستان کی جانب دھکیل دیا گیا، تاکہ یہ ریاست اُن کا بوجھ برداشت نہ کرسکے۔ اِن میں سب سے بڑا مسئلہ، مسئلہ کشمیر تھا جسے جنم دیتے ہوئے طے کرلیا گیا تھا کہ اب بہت جلد پاکستان کی عمارت ڈھے جائے گی اور ہندوبنیے کا خواب ، شرمندہ تعبیر ہوجائے گا اور 14اگست کو تقسیم کی جو لکیر ہندوستان کے طول وعرض میں کھینچ دی گئی تھی، وہ یکسر مٹ جائے گی۔ خوش قسمتی سے مگر ایسا نہیں ہوسکا۔
کچھ مسائل ایسے تھے جو ہمیں ترکے یا ورثے میں ملے اور کچھ ایسے تھے جو وقت کے ساتھ ساتھ ہماری دامن میں بھرے جاتے رہے۔ بھارت نے اول دن ہی سے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ پنڈت جواہرلال نہرو، موہن داس کرم چند گاندھی، سردار پٹیل اور دیگر کانگریسی اور ہندورہنماؤں نے اکھنڈبھارت کا نعرہ مستانہ ایجاد کیا اور برملا اس امر کا اظہار کرنے لگے کہ انھیں ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کا قیام کسی صورت منظور نہیں۔ قانون تقسیم ہند میں ہندوستانی ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا، کہ وہ اپنی غالب اکثریتی آبادی کی بنیاد پر بھارت اور پاکستان میں کسی ایک کے ساتھ الحاق کرلیں ۔ حیدرآباد دکن اور جوناگڑھ نے پاکستان کے ساتھ اگرچہ الحاق کا فیصلہ کرلیاتو بھارت نے قانون تقسیم ہند میں طے کردہ اصولوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اُن پر فوجی طاقت کی مدد سے قبضہ کرلیا۔ اُس کا موقف تھا کہ ان ریاستوں کی غالب آبادی ہندومذہب کی حامل ہے ۔ جب جموں وکشمیر کی باری آئی جس کی 70فیصد سے زائد آبادی مذہب اسلام کی حامل تھی تو بھارت نے وہاں قانون تقسیم ہند میں طے شدہ اصولوں کو جوتے کی نوک پر رکھا اور فوجی طاقت کی مدد سے ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست پر قبضہ کرلیا۔ ریاست جموں وکشمیر تقسیم شدہ ہندوستان کے نقشے میں دفاعی طور پر بڑی اہمیت کی حامل تھی۔ بھارت کو اس کا بخوبی اندازہ تھا ۔ بھارت کے اس قبضے نے پاکستان کے لیے ایک مستقل دردسر پیدا کردیاجس سے نپٹنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تین بڑی جنگیں ہوچکی ہیں۔ سینکڑوں چھوٹے موٹے معرکے تو ہرکچھ مدت کے بعد رونما ہوتے رہے۔ اس قضیے کی کوکھ سے نت نئے مسائل وقتاًفوقتاً پیدا ہوتے رہے۔بھارت جس نے کبھی پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا، اس مسئلے کی آڑ میں وہ پاکستان کے خلاف فوجی یلغار کو گویا اپنا حق سمجھتاہے۔مگرجب کبھی بھارت نے حق کو استعمال کیا، تائید غیبی سے پاکستان نے اُسے ناکوں چنے چبوائے۔ مگر وہ پھر بھی باز نہیں آتا۔ اُس نے اپنی دس لاکھ کے لگ بھگ فوج ریاست جموں وکشمیر میں تعینات کررکھی ہے۔ اس کے بجٹ کا بہت بڑا حصہ اس پر خرچ ہورہاہے۔ پھر پاکستان کے ساتھ متصل سرحدوں پر فوجی پیش قدمی اور ہرکچھ عرصے کے بعد جنگی صورت حال پیدا کرنے کے اُس کے اقدامات ملکی بجٹ کا کثیر حصہ ڈکارجاتے ہیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ بھارت پاکستان میں دہشت گردی، بدامنی اور انتشار پھیلانے کی جن کارروائیوں میں ملوث ہے، یہ چیزیں بھی بھارت کے وسائل کو چاٹ رہی ہیں۔ مگر بھارت ہے کہ اُس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
وزیراعظم شہبازشریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایک طرح سے انھی امور کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اُن کی تقریر کا لب لباب یہی تھا کہ ہمیں محاذ آرائی کرنے اور وسائل کو جنگوں میں جھونکنے کے بجائے اسے بہتری، فلاح اور ترقی پر خرچ کرنا چاہیے۔ انھوں نے بھارت کی گزشتہ برس کی جارحیت اورپھر آپریشن بنیان المرصوص کے ذریعے ملنے والی شاندار فتح کا فخر کے ساتھ ذکرکیا۔ انھوں نے بتایا کہ ہماری فوجی تیاریاں دراصل دفاع کے لیے ہیں اور ہم کسی صورت جارحیت کاارتکاب نہیں کرناچاہتے۔ جناب وزیراعظم کا یہ دعویٰ تاریخی حقائق کی روشنی میں مکمل طور پر درست ہے۔ مسئلہ کشمیر کی آڑ میں بھارت نے پاکستان کو جونقصان پہنچانے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں، وہ دراصل اکھنڈبھارت ہی کے خواب کا تسلسل ہیں۔ اگر مسئلہ کشمیر نہ ہوتا، تو بھارت نے پاکستان کے خلاف کسی اور طرح کا مستقل محاذ کھول رکھنا تھا جس طرح کہ اُس نے مکتی باہنی کی صورت میں مشرقی پاکستان کے خلاف کھولا تھا۔ پاکستان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ وہ اپنی توجہ کو آگے بڑھنے پر مرتکز رکھے اور اپنے وسائل کو بھرپور انداز میں بروئے کار لائے لیکن بدقسمتی سے دشمن کو یہ ارادہ اور فیصلہ کسی صورت قبول نہیں۔ آئے دن دہشت گردی کے بزدلانہ واقعات ، سرحدوں پر کشیدگی، ففتھ کالم وار، افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی حکمت عملی، اور عالمی برادری کو پاکستان کے خلاف گمراہ کرنے کی مذموم کوششوں نے پاکستان کے لیے کئی محاذ کھول رکھے ہیں۔ اب حالیہ ایران امریکہ جنگ میں ایندھن کی کم دستیابی نے بھی مسائل کو انتہاتک پہنچادیا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کا وجود نہ صرف قائم و دائم ہے ، بلکہ تیزی کے ساتھ ترقی کی شاہراہ پر آگے اور آگے ہی بڑھتا جارہاہے۔ اور دوسری جانب بھارت ہے کہ جو ازخود جان بوجھ کر اپنے وسائل کو ایسے مقصد کی بھینٹ چڑھا کر انھیں ضائع کررہاہے، جو کبھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچے گا۔ یہ بھارت ہی ہے جس کے دارالحکومت دہلی کو ‘‘ریپسٹ کیپیٹل ان دا ورلڈ’’ کا خطاب ملا ہواہے۔ یہ بھارت ہی ہے جہاں کسانوں کی بدحالی، فاقہ کشی اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہونے کے باعث خودکشیوں کے واقعات بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ یہ بھارت ہی ہے جس کی ایک درجن سے زائد ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں اپنے عروج پر ہیں۔ کاش بھارت تقسیم ہند کو حقیقت جان لے۔ وہ قانون تقسیم ہند کی رو سے ریاست جموں وکشمیر کو ملنے والے حق کو تسلیم کرلے اور اپنے وسائل کو اپنے کروڑوں غریب مسکین اور فاقہ کش عوام پر خرچ کرنے کی دانش مندی اختیا رکرلے، تو اس سے بھارت میں خوش حالی تو آئے گی ہی ساتھ میں پاکستان اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی چین ، سکون اور راحت کی ہوائیں چلنے لگیں گی۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے ڈیڑھ کروڑ عوام کو آزادی کا سورج دیکھنا نصیب ہوگا اور پون صدی سے جاری کشمکش اختتام پذیر ہوگی۔ مگر قرائن صاف بتاتے ہیں کہ نریندراسنگھ مودی اور خود مودی ذہنیت کے لوگ بھارت کو جس راستے پر چلارہے ہیں، وہ اُسے بہت تیزی کے ساتھ تباہی کی سمت لے کرجارہاہے





