بھکاریوں کا بادشاہ: شہرت کا تماشہ اور معاشرتی المیہ ،تحریر: نعیم خان
نقطہ نظر25 جون 2017ء کی صبح احمدپور شرقیہ کے قریب قومی شاہراہ پر پٹرول سے بھرا ایک ٹینکر الٹ گیا۔ سڑک پر پٹرول بہنے لگا تو لوگ جوق در جوق پہنچنے لگے۔ کسی کے ہاتھ میں بالٹی تھی کسی کے ہاتھ میں بوتل تو کوئی ڈونگا اٹھائے چلا آ رہا تھا۔ جس کے ہاتھ جو برتن لگا وہ پٹرول بھرنے میں لگ گیا۔ کسی نے نہ خطرے کی پروا کی اور نہ اپنی جان کی۔ پھر آگ بھڑکی ، شعلے بھڑکے اور 219 انسان موت کی نذر ہو گئے۔
وہاں کسی نے لوگوں کو پٹرول لوٹنے کی دعوت نہیں دی تھی۔ موقع ملا تھا وہ خود چلے آئے۔ مفت مال کی کشش نے خطرے کا احساس تک مٹا دیا۔ یہ غربت کی نہیں بلکہ موقع پرستی اور ناجائز فائدہ اٹھانے کی ذہنیت کی ایک ہولناک تصویر تھی۔
یہ رویہ صرف پٹرول تک محدود نہیں ہے فیصل آباد میں مشروبات سے بھرا ٹرک حادثے کا شکار ہوا تو لوگ بوتلیں اور ڈبے اٹھانے لگے۔ بعض حادثات کے بعد زخمیوں یا جاں بحق افراد کے موبائل فون اور بٹوے غائب ہونے کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔ جہاں کسی کو مدد کی ضرورت ہو وہاں اس کی بے بسی سے فائدہ اٹھانا محض بے حسی نہیں ، اخلاقی پستی ہے۔ حادثے کے مقام پر پہلا ہاتھ زخمی کو بچانے کے لیے بڑھنا چاہیے اس کا سامان اٹھانے کے لیے نہیں۔
اب سیالکوٹ کے اسٹیڈیم کا منظر ملاحظہ کیجئے ! ٹک ٹاکر محمد انصر جٹ المعروف مسٹر پتلو کی شادی کی تقریب تھی۔ نوٹ نچھاور ہونے تھے موٹر سائیکلیں اور گاڑی انعام میں دی جانی تھی۔ دولت کی نمائش اور انعامات کے اعلان نے ہجوم جمع کر لیا۔ پھر لوگ اندر داخل ہونے کے لیے ٹوٹ پڑے ، دھکم پیل ہوئی اور خوشی کی تقریب بھگدڑ میں بدل گئی۔ دو افراد جان سے گئے اور اٹھارہ زخمی ہوئے۔ پولیس نے منتظمین اور سکیورٹی پر مامور افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
مسٹر پتلو اس معاشرے سے الگ کوئی مخلوق نہیں ہے وہ اسی بھکاری معاشرے کی پیداوار ہے جہاں ٹک ٹاک کی کمائی سے خود ساختہ بادشاہ بننے والا شخص اپنی بادشاہت کا رعب جمانے کے لیے دولت کا تماشہ سجاتا ہے۔ نوٹ نچھاور ہونے ہیں ، انعامات کا اعلان ہوتا ہے اور گویا دولت کا دسترخوان سجا کر آواز دی جاتی ہے آؤ۔ ۔ لوٹ لو ! جو ہاتھ لگے لے جاؤ ! ایک طرف شہرت کے لیے دولت کی نمائش دوسری طرف انعام کے لیے بے قابو ہجوم ، دونوں ایک ہی معاشرتی بیماری کے الگ چہرے ہیں۔
مسئلہ صرف ایک ٹک ٹاکر یا اس کے ہجوم کا نہیں سوال یہ ہے کہ ہم کس کو کامیابی سمجھتے ہیں ؟ علم ، محنت اور کردار کو یا مہنگی گاڑی ، قیمتی گھڑی اور نوٹوں کی نمائش کو ؟ ہم دوسروں کو دولت لٹاتے دیکھ کر مرعوب ہوتے ہیں مگر یہ نہیں دیکھتے کہ اس دولت اور شہرت کے پیچھے کیا قدر ہے۔ پھر انعام کی امید میں نظم و ضبط بھول جاتے ہیں اور کبھی حادثے کے مقام پر مدد کرنے کی بجائے سامان لوٹنے پہنچ جاتے ہیں۔
اس ذہنیت کی پرورش گھروں میں بھی ہوتی ہے۔ ماں باپ اگر سارا دن موبائل پر ویڈیوز دیکھتے رہیں ، ٹک ٹاکرز کی شہرت اور دولت سے متاثر ہوں اور بچوں کے سامنے اسی زندگی کو کامیابی بنا کر پیش کریں تو بچے بھی اسی راستے کی طرف کھنچیں گے۔ جب گھر میں کتاب اور ہنر سے زیادہ یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز کی شہرت کے قصے ہوں تو بچے تعلیم اور تربیت کو اہمیت کیوں دیں گے ؟ مسئلہ موبائل یا سوشل میڈیا نہیں بلکہ وہ سوچ ہے جو فوری کمائی کے لیے علم ، محنت اور کردار کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔
ریاست بھی اپنی ذمہ داری سے بری نہیں۔ یونیسیف کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ ایک طرف اتنے بچے تعلیم سے محروم ہیں دوسری طرف دولت کی نمائش اور فوری شہرت کو کامیابی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ حادثہ ہوتا ہے تو چند دن شور مچتا ہے ، بیانات آتے ہیں ، مقدمے درج ہوتے ہیں پھر سب خاموش۔ اگلا حادثہ ہوتا ہے تو وہی کہانی دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔ ریاست کی بے حسی بھی اسی تکرار کا حصہ ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین بچوں کی تربیت پر توجہ دیں ، اسکول تعلیم کے ساتھ شہری ذمہ داری بھی سکھائیں اور ریاست عوامی اجتماعات کے حفاظتی انتظامات پر سختی سے عمل کرائے۔ سوشل میڈیا سے بڑی آمدنی حاصل کرنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح آمدنی کے مطابق مقرر کی جا سکتی ہے بہت زیادہ کمانے والوں پر پچاس فیصد یا اس سے زیادہ شرح عائد کرنے کی تجویز بھی زیرِ بحث آنی چاہیے مگر اس کے لیے واضح قانون ، منصفانہ اصول اور مؤثر نگرانی ضروری ہے۔ ٹیکس کی آمدنی تعلیم ، صحت اور عوامی فلاح پر خرچ ہو اور دولت کی نمائش کے نام پر انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والوں کا احتساب بھی ہو۔
ہمیں اپنے بچوں اور معاشرے کے سامنے کامیابی کی تصویر بدلنا ہوگی۔ عزت دولت لٹانے سے نہیں ، دیانت سے کمانے اور دوسروں کے کام آنے سے ملنی چاہیے۔ حادثے کے مقام پر لوٹ مار نہیں، مدد ہونی چاہیے ،شہرت کے پیچھے بے لگام دوڑ نہیں ، علم اور کردار کی قدر ہونی چاہیے۔
مسٹر پتلو اس کہانی کا ایک کردار ہے انعام کے لیے بے قابو ہونے والا ہجوم دوسرا اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل گھرانے اور ریاست اس ڈرامے کے مرکزی کردار ہیں۔ کردار بدلتے رہیں گے تماشے ہوتے رہیں گے مگر جب تک ذہنیت نہیں بدلے گی المیے دہرائے جاتے رہیں گے۔
بھکاریوں کا بادشاہ صرف وہ نہیں جو دولت دکھا کر مجمع جمع کرے اس ذہنیت کا ہر وہ شخص بھی اس تماشے کا حصہ ہے جو مفت مال کی ہوس میں اپنا کردار اپنی ذمہ داری اور دوسرے انسان کی جان کی حرمت بھلا دے





