غزہ: بھوک کے چہروں پر لکھی ہوئی سیرت،تحریر: شمسہ رانی
نقطہ نظر
کبھی کبھی تاریخ کتابوں کے اوراق سے نکل کر ہمارے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ کبھی کوئی تصویر صدیوں پر محیط ایک داستان سنا دیتی ہے اور کبھی کسی معصوم بچے کی بھوکی آنکھیں انسان کو اپنے ضمیر کے سامنے لا کھڑا کرتی ہیں۔ آج غزہ سے آنے والی تصویریں بھی کچھ ایسا ہی کر رہی ہیں۔ نحیف جسم، بجھی ہوئی آنکھیں، ماں کی گود میں سمٹے ہوئے بچے اور ایک لقمے کے منتظر چہرے… یہ محض جنگ کی تصویریں نہیں، یہ انسانی تاریخ کے ماتھے پر لکھا ہوا ایک سوال ہیں۔
غزہ میں بھوک نے بچوں کے چہروں سے بچپن کی وہ روشنی چھین لی ہے جو کسی بھی معاشرے کا سب سے خوبصورت مستقبل ہوتی ہے۔ جس عمر میں ہاتھوں میں کھلونے ہونے چاہییں، وہاں خالی پیالے ہیں؛ جس عمر میں آنکھوں میں خواب ہونے چاہییں، وہاں بھوک کی دھند ہے؛ جس عمر میں ماں کی گود صرف محبت کا استعارہ ہونی چاہیے، وہاں وہی گود فاقہ زدہ جسم کے لیے پناہ بن گئی ہے۔
ان مناظر کو دیکھتے ہوئے اسلامی تاریخ کے وہ ابواب یاد آتے ہیں جہاں رسولِ اکرم ﷺ اور صحابۂ کرامؓ نے سخت ترین حالات میں صبر، ایثار اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ سیرتِ طیبہ کے واقعات میں شدید بھوک کے زمانے میں پیٹ پر پتھر باندھنے کا ذکر ہمیں یہ بتاتا ہے کہ بھوک کا دکھ نیا نہیں؛ مگر اس دکھ کے مقابل صبر، احساس اور ایک دوسرے کے لیے ایثار کی روایت ضرور انسانیت کا روشن سرمایہ ہے۔
لیکن غزہ کے المیے کو محض ایک تاریخی واقعے سے جوڑ دینا کافی نہیں۔ یہاں اصل سوال یہ ہے کہ آج کے انسان نے تاریخ سے کیا سیکھا؟
رسولِ رحمت ﷺ کی سیرت ہمیں صرف بھوک برداشت کرنا نہیں سکھاتی، بلکہ بھوکے کا خیال رکھنا بھی سکھاتی ہے۔ اسلام نے دسترخوان کو صرف اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے بھی کشادہ کرنے کا درس دیا۔ یتیم، مسکین، مسافر اور محتاج—سب اسلامی معاشرت میں ہماری ذمہ داری کا حصہ ہیں۔ پھر ایک بھوکے بچے کا چہرہ دیکھ کر ہمارا دل بے چین کیوں نہ ہو؟
غزہ کا بچہ کسی جنگ کا فریق نہیں۔ اسے سیاست کی لغت معلوم نہیں، اسے طاقت کے عالمی کھیل کا شعور نہیں۔ اسے صرف اتنا معلوم ہے کہ پیٹ خالی ہے اور ماں کے پاس دینے کو شاید ایک لقمہ بھی نہیں۔ وہ بچہ جب اپنی ماں کی آنکھوں میں دیکھتا ہوگا تو شاید اسے دنیا کی سب سے بڑی طاقت بھی یہی دکھائی دیتی ہوگی کہ ماں کسی طرح اسے بھوکا نہ سونے دے۔ مگر جب ماں خود بے بس ہو جائے تو پھر سوال صرف ایک گھر کا نہیں رہتا، پوری انسانیت کا بن جاتا ہے۔
ہم نے ترقی کے بلند مینار تعمیر کر لیے، مصنوعی ذہانت سے نئے امکانات پیدا کر لیے، خلا کی وسعتیں ناپ لیں، مگر اگر زمین پر ایک بچہ بھوک سے تڑپ رہا ہو اور دنیا اس کی بھوک کو صرف ایک خبر سمجھ کر آگے بڑھ جائے تو ہماری ترقی کے دعوے کس کام کے؟
غزہ آج دنیا سے روٹی مانگ رہا ہے۔ مگر شاید اس سے بڑھ کر وہ انسانیت مانگ رہا ہے ۔وہ پوچھ رہا ہے کہ کیا انسان ہونے کا مطلب صرف اپنے بچوں کے لیے فکر مند ہونا ہے ؟کیا رحم دل اور ہمدردی بھی جغرافیا دیکھ کر تقسیم ہوتی ہے؟ کیا کسی بچے کی بھوک کی شدت اس کے نام، قوم یا سر حد سے بدل جاتی ہے۔؟
یہ سوال غزہ کی گلیوں سے اٹھ کر ہمارے گھروں تک آ پہنچا ہے۔
سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل حسن یہی ہے کہ وہ انسان کو صرف عبادت کا راستہ نہیں دکھاتی، انسانیت کا راستہ بھی دکھاتی ہے۔ ایک بھوکے کو کھانا کھلانا، ایک مجبور کا ہاتھ تھامنا ،ایک یتیم کے سر پر شفقت رکھنا اور کسی مظلوم کے درد کو محسوس کرنا یہ سب اس اخلاقی روشنی کے مظاہر ہیں۔
آج غزہ کے بچوں کی انکھوں میں ہمیں صرف انسو نہیں دیکھنے چاہیے اپنے عہد کا چہرہ بھی دیکھنا چاہیے۔ تاریخ انے والی نسلوں سے ضرور پوچھے گی کہ جب معصوم بچے بھوک سے لڑ رہے تھے۔ تب دنیا کے ضمیر نے کیا کیا؟ شاید غزہ کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ وہاں صرف بچے نہیں، انسانیت بھی بھوک سے گزر رہی ہے۔ اور شاید ہمارے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ ہم اس بھوک کو صرف محسوس کرتے ہیں یا اسے کم کرنے کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق کوئی کردار بھی ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں





