ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

چاند کا تحفہ،تحریر : سدرہ قیوم

نقطہ نظر

پہاڑوں کے دامن میں روشن پور نام کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ وہاں مٹی کے کچے گھر تھے اور گرمیوں کی راتوں میں سب لوگ اپنی ہموار چھتوں پر سوتے تھے۔ اسی گاؤں میں آٹھ سال کی ایک ننھی بچی نور اپنی دادی کے ساتھ رہتی تھی۔

نور کو رات سے بہت محبت تھی۔ جب دن کی دھوپ ڈھل جاتی، ہوا ٹھنڈی ہو جاتی اور ستارے جھلملانے لگتے تو وہ دادی کے پہلو میں لیٹ کر گھنٹوں آسمان کو تکتی رہتی۔ اس کا سب سے پیارا دوست چاند تھا۔ وہ اسے "چاند بھائی" کہتی اور سونے سے پہلے روز اس سے ڈھیروں باتیں کرتی۔

ایک رات نور نے دیکھا کہ چاند کچھ بدلا بدلا سا ہے۔ اس کی چمک ماند تھی، جیسے کسی نے اس پر ہلکی سی دھند ڈال دی ہو۔ وہ ہمیشہ کی طرح مسکرا نہیں رہا تھا۔

نور اٹھ کر بیٹھ گئی اور آہستہ سے بولی، "چاند بھائی، آج آپ اتنے اداس کیوں ہیں؟"

حیرت کی بات یہ ہوئی کہ چاند نے جواب دیا۔ اس کی آواز ایسی تھی جیسے دور کہیں گھنٹیاں بج رہی ہوں۔

"نور بیٹی، میں ہزاروں سال سے ہر رات آسمان پر آتا ہوں۔ مسافروں کو راستہ دکھاتا ہوں، کسانوں کے کھیتوں پر روشنی ڈالتا ہوں اور ڈرنے والے بچوں کی کھڑکیوں میں جھانک کر انہیں تسلی دیتا ہوں۔ مگر آج تک کسی نے مجھے شکریہ نہیں کہا۔ سب میری روشنی لیتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ میں اکیلا ہوں اور میرا کام کسی کو نظر ہی نہیں آتا۔"

نور کا دل بھر آیا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ روز چاند کی روشنی میں کھیلتی ہے، مگر اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ چاند کو بھی غم ہو سکتا ہے۔ اس نے پکا ارادہ کر لیا کہ وہ چاند کو تحفہ دے گی۔

وہ بھاگ کر نیچے گئی اور اپنے صندوق میں ڈھونڈنے لگی۔ اس کے پاس ایک رنگین گڑیا تھی، کانچ کی چند چوڑیاں تھیں اور ایک چھوٹی سی لکڑی کی ڈبیا، جس پر دادی نے ستارے بنائے تھے۔ نور نے سوچا، "ڈبیا سب سے خوبصورت ہے، یہی دوں گی۔"

وہ ڈبیا لے کر چھت پر آئی اور ہاتھ اونچے کر کے اچکنے لگی، مگر چاند بہت دور تھا۔ وہ پنجوں کے بل کھڑی ہوئی، پھر منڈیر پر چڑھنے لگی، مگر چاند ہاتھ نہ آیا۔ آخر تھک کر بیٹھ گئی اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

"میں چاند کو تحفہ دینا چاہتی ہوں، مگر دے نہیں سکتی!"

اتنے میں دادی اس کی آواز سن کر اوپر آ گئیں۔ انہوں نے نور کو روتے دیکھا تو پاس بٹھا لیا۔ نور نے ساری بات بتا دی۔ دادی مسکرائیں اور اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں:

"بیٹا، ہر تحفہ ہاتھ میں پکڑنے والا نہیں ہوتا۔ جب کوئی کسی کی نیکی کو پہچان کر دل سے شکریہ کہتا ہے تو وہ دنیا کا سب سے قیمتی تحفہ ہوتا ہے۔ اس کے لیے نہ پیسے لگتے ہیں، نہ سیڑھی۔"

نور کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ "تو کیا چاند بھائی میری آواز سن لیں گے؟"

"جو دل سے پکارے، اس کی آواز بہت دور تک جاتی ہے۔"

نور کھڑی ہو گئی، گہرا سانس لیا اور پوری طاقت سے پکاری:

"شکریہ چاند بھائی! آپ ہر رات ہمیں روشنی دیتے ہیں۔ آپ کی وجہ سے ہم اندھیرے سے نہیں ڈرتے۔ آپ ہمارے سب سے اچھے دوست ہیں!"

اس کی آواز رات کی خاموشی میں دور تک گونجی۔ پڑوس کی چھت پر سویا ہوا ننھا احمد جاگ گیا اور آنکھیں ملتے ہوئے بولا، "نور آپی، کیا ہوا؟" نور نے بتایا تو احمد بھی کھڑا ہو گیا اور چلایا، "شکریہ چاند بھائی!"

پھر ایک ایک کر کے سارے گاؤں کے بچے اپنی چھتوں پر آ گئے۔ کسی نے ہاتھ ہلایا، کسی نے تالی بجائی، اور سب نے مل کر کہا، "شکریہ چاند بھائی! شکریہ!"

بڑے بوڑھے بھی جاگ گئے۔ مائیں مسکرا کر بچوں کو دیکھنے لگیں اور بابا آسمان کی طرف دیکھ کر سر ہلانے لگے۔ اس رات پورا گاؤں چاند کا شکر گزار تھا۔

آسمان پر چاند نے یہ سب سنا تو اس کی آنکھوں میں خوشی کی نمی آ گئی۔ اس کی دھندلی چمک آہستہ آہستہ صاف ہونے لگی اور وہ پہلے سے بھی زیادہ روشن ہو گیا، جیسے پگھلی ہوئی چاندی پورے گاؤں پر انڈیل دی گئی ہو۔ کھیت چمک اٹھے، چھتیں جگمگا اٹھیں اور بچوں کے چہرے دمکنے لگے۔

چاند نے دھیرے سے کہا، "بچو، آج تم نے مجھے وہ تحفہ دیا ہے جو ہزاروں سال میں کسی نے نہیں دیا۔ آج مجھے معلوم ہوا کہ میری روشنی بے کار نہیں گئی۔"

پھر اس نے چاندی کی ایک ننھی کرن نور کی ڈبیا میں اتار دی۔ نور نے ڈبیا کھولی تو اندر ایک چھوٹی سی روشنی ٹمٹما رہی تھی جو اندھیرے میں بھی نہیں بجھتی تھی۔

اس دن کے بعد روشن پور میں ایک نیا دستور بن گیا۔ ہر بچہ سونے سے پہلے چاند کو شکریہ کہتا اور صبح اٹھ کر ماں باپ، استاد اور دوستوں کا بھی شکریہ ادا کرتا۔ لوگ ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی نیکیاں بھی یاد رکھنے لگے اور گاؤں میں محبت اور خوشی پہلے سے زیادہ ہو گئی۔

کہتے ہیں کہ آج بھی جب کوئی بچہ دل سے چاند کو شکریہ کہتا ہے تو چاند اس کی کھڑکی کے پاس ذرا سا جھک آتا ہے اور اس کی روشنی کچھ اور میٹھی ہو جاتی ہے۔

سبق: شکریہ کے دو میٹھے بول کسی کا بھی دل روشن کر دیتے ہیں۔