چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی اہمیت : محمد ہشام علی ہاشمی
نقطہ نظر
آج کی تیز رفتار اور ہنگامہ خیز زندگی میں، جہاں ہر انسان ایک ان دیکھی منزل کی طرف بھاگ رہا ہے، ہم نے زندگی جینے کا اصل مقصد کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ہم سب ایک ایسی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں جس کا کوئی اختتام نہیں۔ ہم نے خوشی کو ایک بہت بڑی، شاندار اور دور دراز کی منزل سمجھ لیا ہے۔ ہماری سوچ کچھ یوں ہو گئی ہے کہ "جس دن مجھے وہ بڑی نوکری مل جائے گی، تب میں خوش ہوں گا"، "جس دن میں اپنا وہ شاندار گھر بنا لوں گا، تب میں سکون کا سانس لوں گا"، یا "جب میرے پاس وہ مہنگی گاڑی ہوگی، تو میری زندگی مکمل ہو جائے گی"۔
لیکن حقیقت کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جب وہ نام نہاد "بڑی خوشی" ہمیں مل جاتی ہے، تو چند دنوں یا مہینوں کے بعد اس کا سحر ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ بڑی نوکری ایک معمول بن جاتی ہے، اس شاندار گھر کی دیواریں عام سی لگنے لگتی ہیں، اور وہ مہنگی گاڑی پرانی ہو جاتی ہے۔ اور پھر؟ پھر ہم خوشی کی تلاش میں کسی اور بڑی منزل کا تعین کر لیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا سراب ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اس مستقل بھاگ دوڑ میں، ہم وہ سب کچھ گنوا دیتے ہیں جو واقعی ہمارے پاس ہوتا ہے یعنی ہمارا "آج"، ہمارا "حال"، اور وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں جو ہر روز ہمارے قدموں میں پھولوں کی طرح بکھری ہوتی ہیں، لیکن ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے انہیں کچل کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
ذرا رک کر سوچیے، خوشی کیا ہے؟ خوشی کوئی ایسی چیز نہیں جسے آپ بازار سے خرید سکیں یا کسی بینک کے لاکر میں محفوظ کر سکیں۔ خوشی تو ایک احساس کا نام ہے، ایک کیفیت ہے، اور طمانیت کا ایک ایسا جذبہ ہے جو ہمارے اندر سے پھوٹتا ہے۔ اور یہ کیفیت بڑی کامیابیوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ تو ان چھوٹی چھوٹی، بظاہر معمولی لگنے والی باتوں میں چھپی ہوتی ہے جنہیں ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
مثال کے طور پر، صبح کے وقت بیداری کے بعد کا وہ پہلا لمحہ، جب چاروں طرف ایک خاموشی اور سکون ہوتا ہے۔ آپ صبح فجر کی نماز ادا کرتے ییں پھر ناشتے کے بعد ایک گرما گرم چائے کا کپ ہاتھ میں ہو، اس میں سے اٹھتی ہوئی بھاپ ہو اور چائے کی وہ مخصوص، دل کو موہ لینے والی خوشبو آپ کی سانسوں میں گھل جائے۔ وہ پہلا گھونٹ جو گلے سے اتر کر سیدھا روح کو سکون بخشتا ہے۔ کیا یہ خوشی نہیں ہے؟ ایک چائے کے کپ کے ساتھ گزرا ہوا وہ تنہائی کا لمحہ، جس میں آپ خود سے ملتے ہیں، اپنے خیالات کو ترتیب دیتے ہیں، اور کسی یہ وہ انمول خوشی ہے جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی بڑی دولت نہیں کر سکتی۔
اسی طرح، فطرت ہمیں روزانہ کی بنیاد پر بے شمار خوشیاں مفت میں فراہم کرتی ہے، بس دیکھنے والی آنکھ اور محسوس کرنے والا دل چاہیے۔ کسی سخت گرم دوپہر کے بعد اچانک چلنے والی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا جو آپ کے چہرے کو چھو کر گزر جائے، کیا وہ آپ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہیں لاتا؟ بارش کے پہلے قطروں کے بعد سوکھی مٹی سے اٹھنے والی وہ سوندھی سوندھی خوشبو، جو سیدھی دل میں اتر جاتی ہے۔ شام کے وقت کسی خوبصورت سے باغ میں چہل قدمی کرنا، جہاں سرسبز درختوں کے سائے ہوں، رنگ برنگے پھول کھلے ہوں، اور پرندوں کی چہچہاہٹ کانوں میں رس گھول رہی ہو۔ ان مناظر میں جو سکون اور جو خوشی پوشیدہ ہے، وہ کسی فائیو سٹار ہوٹل کے بند کمرے میں نہیں مل سکتی۔
ہماری زندگی کے زیادہ تر خوبصورت لمحات ہمارے رشتوں اور انسانوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ جب آپ کام سے تھک ہار کر گھر لوٹتے ہیں، اور دروازہ کھلتے ہی آپ کے والدین کے چہرے پر ایک چمک آ جاتی ہے، ان کی دعاؤں بھری نگاہیں آپ کو سکون بخشتی ہیں۔ لمحہ جب آپ سڑک پار کر رہے ہوں اور کوئی اجنبی آپ کو دیکھ کر سلام پیش کرے ۔ کسی چھوٹے سے بچے کا آپ کی انگلی کو اپنے ننھے سے ہاتھ سے مضبوطی سے پکڑ لینا اور آپ کی طرف دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس دینا۔ یہ سب کیا ہے؟ یہ وہ چھوٹی چھوٹی روشنیاں ہیں جو ہماری زندگی کے اندھیروں کو دور کرتی ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے خوشی کو مشروط کر دیا ہے۔ ہم نے خود کو یہ باور کرا لیا ہے کہ خوشی صرف تب ملے گی جب حالات بالکل ہمارے حق میں ہوں گے۔ لیکن زندگی کا کینوس ایسا نہیں ہوتا۔ زندگی میں دکھ، تکالیف اور پریشانیاں تو آئیں گی، یہ اس سفر کا حصہ ہیں۔ اگر ہم صرف اس دن کا انتظار کرتے رہیں گے جب سب کچھ پرفیکٹ (مکمل) ہوگا، تو شاید ہم اپنی پوری زندگی میں ایک دن بھی خوش نہ رہ سکیں۔
ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ ہمیں جینے کا حوصلہ دیتی ہیں۔ جب کوئی بڑا دکھ یا کوئی بڑی ناکامی ہمیں توڑ کر رکھ دیتی ہے، تو یہ چھوٹی خوشیاں ہی ہوتی ہیں جو ہمیں دوبارہ جوڑتی ہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہیں کہ اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، روشنی کی ایک چھوٹی سی کرن ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ جس انسان کو چھوٹی چیزوں میں خوشی تلاش کرنے کا فن آ گیا، اسے دنیا کی کوئی طاقت مایوس نہیں کر سکتی۔
تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہمیں اپنے اندر "شکر گزاری" کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ شکر گزاری وہ جادوئی چشمہ ہے جسے پہننے کے بعد زندگی کے رنگ ہی بدل جاتے ہیں۔ جب ہم رات کو سونے لگیں، تو بجائے اس کے کہ ہم ان چیزوں کا ماتم کریں جو ہمیں نہیں ملیں، ہمیں ان تین چھوٹی چھوٹی باتوں کو یاد کرنا چاہیے جنہوں نے آج کے دن ہمیں خوشی دی۔ ہو سکتا ہے وہ کسی کا ایک اچھا جملہ ہو، کوئی مزیدار کھانا ہو، یا راستے میں نظر آنے والا کوئی خوبصورت منظر ہو۔
زندگی کوئی ایسا ڈرامہ نہیں جس کے آخری سین میں ہی سارا مزہ اور ساری خوشی چھپی ہو۔ زندگی تو ان لاتعداد چھوٹے چھوٹے مناظر کا مجموعہ ہے جو اس وقت آپ کی آنکھوں کے سامنے چل رہے ہیں۔ خوشی راستے میں ہے، منزل پر نہیں۔ اس لیے راستے کے ان چھوٹے چھوٹے کنکروں، رنگ برنگے پتوں اور ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہونا سیکھیں۔ یہی چھوٹی چھوٹی خوشیاں مل کر زندگی کو وہ کمال اور وہ خوبصورتی بخشتی ہیں، جس کی تلاش میں ہم پوری دنیا چھان مارتے ہیں۔
زندگی بہت مختصر ہے، اسے کل کی بڑی خوشی کے انتظار میں آج کی چھوٹی خوشیوں کو قربان کر کے ضائع نہ کریں۔ کیونکہ جب کل آئے گا، تو وہ بھی آج بن چکا ہوگا۔ جو ہے، بس یہی لمحہ ہے۔ اسے بھرپور انداز میں جئیں، مسکرائیں، اور شکر ادا کریں۔
مزید پڑھیں




