Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کسی بچھڑے ہوئے شخص سے دوبارہ ملوں گی،تحریر: نیہا علی

نقطہ نظر
Kitchen and Me, written by: Neha Ali

اگر مجھے صرف ایک دن کے لیے اپنی زندگی کی کوئی ایک چیز بدلنے کا اختیار ملے، تو میں کسی ایسے بچھڑے ہوئے شخص سے دوبارہ ملنا چاہوں گی، جس کی کمی آج بھی دل کے کسی کونے میں خاموشی سے موجود ہے۔

میں اُس کے سامنے بیٹھ کر وقت کو کچھ دیر کے لیے روک دینا چاہوں گی۔ اُس کے قدموں کے قریب بیٹھ کر اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا چاہوں گی۔ جو باتیں وقت کی جلدی، حالات کی مجبوری اور فاصلے کی خاموشی میں ادھوری رہ گئیں، وہ سب اُس ایک دن میں کہہ دینا چاہوں گی۔شاید سب سے پہلے صرف اتنا کہوں گی۔

"تمہیں بھلایا نہیں، بس تمہارے بغیر جینا سیکھ لیا ہے۔"

اُس ایک دن میں نہ کوئی شکوہ ہوگا، نہ کوئی گلہ، نہ گزرے ہوئے وقت کو بدلنے کی خواہش... بس چند لمحے اُس کے ساتھ بیٹھ کر اُن یادوں کو دوبارہ محسوس کرنا چاہوں گی، جو آج بھی دل کے دروازے پر دستک دیتی ہیں۔

مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے، جب اُس نے پہلی بار اکیڈمی کی دہلیز پر قدم رکھا تھا۔ شاید اُسے خبر بھی نہ تھی کہ اُس کا ایک معمولی سا وجود کسی کی زندگی میں اتنی بڑی تبدیلی لے آئے گا۔

وہ میری زندگی میں آیا تو جانے انجانے میں مجھے میرے رب کے قریب کر گیا۔ اُس کے بعد میں نماز کی پابندی کرنے لگی، تہجد پڑھنے لگی، گھنٹوں جائے نماز پر بیٹھی اپنے رب کے حضور روتی، فریاد کرتی۔ قرآنِ پاک کا ہر لفظ دل پر اترتا اور آنکھوں سے آنسو بن کر بہتا۔ کئی بار میری جائے نماز آنسوؤں سے بھیگ جاتی۔

رات کی خاموشیوں میں جب دنیا سو رہی ہوتی، میں اپنے رب کے سامنے ہاتھ اٹھائے صرف ایک ہی فریاد کرتی۔

یا اللہ! اگر یہ میرے حق میں بہتر ہے تو اسے میرے نصیب میں لکھ دے۔

کعبہ کے سامنے بھی اُس کے لیے دعائیں مانگیں۔ اپنی ہر التجا میں اُسے مانگا، ہر سجدے میں اُس کا نام لیے بغیر اُس کے لیے دعا کی۔ شاید محبت میں مجھے یہ گمان تھا کہ جسے میں اتنی شدت سے مانگ رہی ہوں، وہ ضرور میرا مقدر ہوگا۔

مگر شاید میں نے غلط انسان سے محبت کی تھی.......

یا شاید وہ میری زندگی کی ایک خوبصورت مگر ادھوری آزمائش تھی.....

یا شاید وہ صرف میرا بچپنا تھا، جسے میں محبت کا نام دے بیٹھی تھی۔

آج بھی اگر وہ میرے سامنے ہو تو شاید میں صرف ایک سوال کروں؟

کہاں کمی تھی مجھ میں؟

کیا مانگا تھا میں نے تم سے؟

صرف ایک بار میرا ساتھ ہی تو مانگا تھا؟

اُسے معلوم تھا کہ میں نے اُس کے لیے کعبہ میں دعائیں مانگی تھیں، پھر بھی اُس نے حالات کے آگے ہار مانتے ہوئے کہا تھا۔

"مجھے بھول جاؤ.... میں تمہارے قابل نہیں ہوں۔"

اُس وقت اُس کے الفاظ نے میرے دل کو توڑ دیا تھا۔ مجھے لگا تھا کہ شاید میری محبت کی قدر نہیں کی گئی، شاید میری دعائیں بے اثر رہ گئیں، شاید میری چاہت میں ہی کوئی کمی تھی۔

مگر وقت نے مجھے ایک بہت بڑی حقیقت سکھا دی........

ہر وہ شخص جسے ہم اپنے لیے مانگتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ہمارے حق میں بہتر بھی ہو۔

کبھی کبھی اللہ تعالیٰ ہماری ایک دعا کو اُس صورت میں قبول نہیں کرتا جس صورت میں ہم چاہتے ہیں، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔ ہم ایک شخص کو اپنی خوشی سمجھ کر مانگتے ہیں، جبکہ اللہ ہمارے لیے اُس سے کہیں بہتر راستہ لکھ چکا ہوتا ہے۔

آج جب ماضی کے اُس موڑ کو پلٹ کر دیکھتی ہوں تو دل میں اُس شخص کے لیے کوئی بددعا نہیں، کوئی نفرت نہیں۔ بس ایک خاموش سی دعا نکلتی ہے کہ اللہ اُسے بھی اپنی زندگی میں سکون عطا فرمائے۔

اور میرے رب نے بھی مجھے خالی ہاتھ نہیں لوٹایا۔

اللہ تعالیٰ نے مجھے اُس سے بہتر عطا کیا، میری زندگی کو ایک ایسے رشتے سے نوازا جس کا نام نکاح ہے۔

نکاح......

صرف دو لوگوں کا ساتھ نہیں، بلکہ دو دلوں، دو دعاؤں اور دو زندگیوں کا ایسا جوڑ ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مضبوط کرتا ہے۔

آج میں الحمدللہ اپنے ماضی کو شکوے کی نگاہ سے نہیں دیکھتی۔ وہ میری زندگی کا ایک باب تھا، جس نے مجھے رُلایا بھی، توڑا بھی، مگر شاید اُسی نے مجھے میرے رب کے اور قریب کر دیا۔

اگر آج بھی مجھے صرف ایک دن کے لیے اُسے دوبارہ ملنے کا اختیار ملے، تو میں اُس سے کچھ مانگوں گی نہیں، کوئی شکوہ نہیں کروں گی۔

بس ایک بار اُسے دیکھ کر دل ہی دل میں کہوں گی۔

"شاید تم میری منزل نہیں تھے، مگر تمہاری وجہ سے میں اپنے رب کے قریب ضرور ہوئی تھی۔ اور آج مجھے سمجھ آ گیا ہے کہ اللہ جب کسی چیز کو ہم سے دور کرتا ہے، تو ہمیشہ محروم کرنے کے لیے نہیں کبھی کبھی اُس سے کہیں بہتر عطا کرنے کے لیے دور کرتا ہے۔"


پھر میں اُسے خاموشی سے رخصت کر دوں گی۔

کیونکہ اب میں جان چکی ہوں کہ جو رشتہ اللہ نے میرے نصیب میں لکھ دیا، وہی میرا مقدر ہے، اور جو میرے رب نے عطا کیا، اُس پر دل سے صرف ایک ہی لفظ نکلتا ہے۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ۔