اگر سب طے ہے، تو دعا کس لیے؟تحریر: زینب جہانزیب
نقطہ نظر
انسان کی زندگی میں کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں ۔ جو صرف ذہن میں نہیں آتے ۔ بلکہ روح میں اترتے ہیں ۔ یہ سوال بھی انہی سوالوں میں سے ایک ہے۔
اگر سب کچھ پہلے ہی لکھ دیا گیا ہے ۔ تو پھر میں کیوں دعا مانگوں؟ میرے ہاتھ اٹھانے سے کیا بدل سکتا ہے؟
یہ سوال بغاوت نہیں ، بلکہ شعور کی پہلی دستک ہے۔ اور یہی دستک انسان کو اندھی تقلید سے نکال کر حقیقی معرفت کی طرف لے جاتی ہے۔
قرآن ہمیں ایک طرف اس حقیقت سے آشکار کرتا ہے۔
"بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے۔" (سورۃ القمر: 49)یہ آیت ہمیں بتاتی ہے ۔ کہ کائنات کا ہر لمحہ، ہر واقعہ اللہ کے علم میں پہلے سے ہے۔ مگر اسی رب کی طرف سے ایک اور بھی صدا آتی ہے۔
"مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔" (سورۃ غافر: 60)
یہ دو حقیقتیں بظاہر الگ لگتی ہیں، مگر درحقیقت ایک ہی نظام کے دو پہلو ہیں۔ ایک علمِ الٰہی، اور دوسرا بندے کا تعلق۔
دعا کی اصل حقیقت، مانگنا یا ماننا؟
ہم اکثر دعا کو صرف "مانگنے" تک محدود رکھتے ہیں۔ حالانکہ دعا کا اصل مفہوم میری رائے سے "ماننا" ہے۔
یہ ماننا کہ میں محتاج ہوں، اور وہ بے نیاز ہے۔
دعا دراصل ایک اعتراف ہے ۔ اپنی کمزوری کا، اپنی ناکامی کا ۔ اور اُس کامل ذات کی طرف رجوع کا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"دعا عبادت کا مغز ہے۔" (ترمذی، 3371)
یعنی اگر عبادت ایک جسم ہے ۔ تو دعا اُس کی روح ہے۔ایک اور حدیث ہے:-
"اللہ کے نزدیک دعا سے بڑھ کر کوئی چیز معزز نہیں۔" (ترمذی، 3370)
یہاں دعا ایک عمل سے بڑھ کر ایک تعلق بن جاتی ہے۔ ایسا تعلق جو انسان کو زمین سے اٹھا کر آسمان سے جوڑ دیتا ہے۔ دعا الفاظ کا سلسلہ نہیں، یہ تو دل کا جھکاؤ ہے۔
اگر سب کچھ لکھا گیا ہے، تو دعا کہاں کھڑی ہے؟
یہ وہ مقام ہے جہاں اکثر سوچ رک جاتی ہے۔ مگر اگر غور کیا جائے ۔ تو یہی وہ دروازہ ہے، جہاں سے حقیقت کھلتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:-
"دعا تقدیر کو بدل دیتی ہے۔" (ترمذی، 2139)
اس حدیث کو سمجھنے کے لیے ہمیں تقدیر کو ایک جامد لکیر کے طور پر نہیں، بلکہ ایک مکمل نظام کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
اللہ نے صرف نتیجہ نہیں لکھا۔ بلکہ اس تک پہنچنے کے تمام اسباببھی لکھے ہیں۔اور اناسباب میں سے ایک سب سے طاقتور سبب دُعا ہے۔ یعنی اللہ کے علم میں یہ بھی تھا ۔ کہ یہ بندہ دُعا کرے گا۔ اور اسی دُعا کے ذریعے اس کے حالات بدلیں گے۔ یوں دُعا تقدیر سے باہر نہیں ۔ بلکہ تقدیر کے اندر رکھا گیا وہ راز ہے۔ جو صرف مانگنے والوں پر کھلتا ہے۔
حضرت علیؓ فرماتے ہیں:-
"دُعا مومن کا ہتھیار، دین کا ستون اور آسمان و زمین کا نور ہے" (منقول از نہج البلاغہ)
یہ الفاظ ہمیں ایک نئی جہت دیتے ہیں۔ کہ دُعا کمزوری کی علامت نہیں بلکہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ ایک اور قول ہے:-
"تمہاری دُعا کا دیر سے قبول ہونا، تمہیں مایوس نہ کرے ۔ کیونکہ تمہاری عطا تمہاری نیت کے مطابق ہوتی ہے"
یہاں دُعا کا تعلق "وقت" سے نہیں بلکہ "حکمت" سے جڑ جاتا ہے۔ ہم جلدی میں ہوتے ہیں۔ اور ربترتیب میں۔ ہم لمحہ دیکھتے ہیں اور رب انجام دیکھتا ہے۔
قبولیت کے تین انداز:-
قبولیت کے تین انداز ہوتے ہیں۔ جو ہم اکثر نہیں سمجھتے۔ دعا ہمیشہ خدا کی بارگاہ میں سنی جاتی ہے۔ مگر اس کی قبولیت ہمیشہ ہماری توقع کے مطابق نہیں ہوتی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دعا کی قبولیت تین طرح سے ہوتی ہے۔
* وہی چیز عطا کر دی جاتی ہے۔
* اس کے بدلے کوئی مصیبت ٹال دی جاتی ہے۔
* یا اُس دعا کو آخرت کے لیے ذخیرہ کر دیا جاتا ہے۔
یہاں انسان کی نظر محدود ہے، اور رب کی عطا لامحدود۔ ہم صرف "ملنے" کو قبولیت سمجھتے ہیں، جبکہ "بچ جانا" بھی قبولیت ہوتی ہے۔
اب یہاں پھر ایک سوال اٹھتا ہے کہ دعا تقدیر کو بدلتی ہے یا انسان کو؟ یہ ایک نہایت لطیف سوال ہے۔کبھی دُعا کے بعد حالات بدل جاتے ہیں، اور کبھی حالات ویسے ہی رہتے ہیں مگر انسان بدل جاتا ہے۔ اس کے اندر صبر آجاتا ہے، دل میں سکون اُتر آتا ہے، اور ایک ایسا یقین پیدا ہو جاتا ہے ۔ جو جھکنے نہیں دیتا۔ حضرت علیؓ سے منسوب ہے:-
"مصیبتیں نازل ہوتی ہیں تو دُعا انہیں ٹال دیتی ہے"
مگر اگر مصیبت ٹلے بھی نہ، تو دُعا انسان کو بکھرنے سے بچا لیتی ہے۔ دُعا کبھی راستہ بدل دیتی ہے ۔ اور کبھی اُس راستے میں چلتے مسافر کو۔
کبھی ہم الفاظ میں دُعا مانگتے ہیں، اور کبھی آنسوؤں سے۔ کبھی زبان خاموش ہوتی ہے، مگر دل سجدے میں ہوتا ہے اور اللہ وہ بھی سُن لیتا ہے۔ جو ہم خود سے بھی پوری طرح نہیں کہہ پاتے۔
آخری بات:-
جب سب کچھ پہلے سے لکھا جا چکا ہے۔ تو اُس میں خدا نے یہ بھی لکھا ہے ۔ کہ تم مانگو گے،تو تمہیں عطا کر دیا جائے گا۔ دعا تقدیر کو بدلتی ہے یا نہیں؟ یہ ایک ایسی بحث ہے ۔ جو کبھی نہ ختم ہونے والی ہے۔ مگر ایک حقیقت جو قائم ہے۔ وہ یہ ہے، کہ دعا مانگنے والا پہلے جیسا نہیں رہتا۔ اپنی اس بحث کو میں ان الفاظ کے ساتھ ختم کرنا چاہوں گی۔
"دعا کو وصل کی خواہش میں کیوں محدود کروں میں،
یہ مانگنا تو فقط بندگی کا ایک ہنر ہے۔
نہ مانگنے میں کمی ہے، نہ پانے میں تکمیل،
اصل کمال تو دل کا اُس کے در پہ جھکنا ہے۔"
ملے نہ ملے یہ سوال اب رہ ہی نہیں زینبؔ
جو اُس کا ہو گیا، وہی اصل میں معتبر ہے۔
مزید پڑھیں




