ریستوران میں داخل ہوتے ہوئے چوکیدار نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر سلام کیا تو میں نے سر کو جنبش دیتے ہوئے جواب دے دیا ۔ فیملی ہال میں کچھ زیادہ رش نہیں تھا ، پھر بھی میں نے بیٹھنے کے لیے ہمیشہ کی طرح دائیں جانب کونے والی میز منتخب کی اور بیوی بچوں سمیت برا جمان ہو گیا ۔ کاروبار زندگی اس قدر مصروف ہو چکی تھی کہ بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کی مہلت ہی نہیں ملتی تھی ۔ اس لیے ویک اینڈ پر ڈنر کرنے میں اکثر بچوں کے ساتھ یہاں آ یا کرتا ہوں ۔ بیوی بچوں کے ساتھ ڈنر کر کے پورے ہفتے کی تھکاوٹ گویا چھو منتر ہو جاتی ہے ۔ بچوں کے قہقہے ، ان کی معصوم باتیں، فرمائشیں اور بیگم کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے میں آ ج بھی محظوظ ہو رہا تھا ۔ ساتھ والی میز پر ایک عمر رسیدہ شخص آ کر بیٹھ گیا ۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ بیگم نے آ گے کو جھکتے ہوئے کہا :
" ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھے بزرگ ہمیں گھور گھور کر دیکھ رہے ہیں ۔ "
میں نے سر جھٹک کر سر گوشی کی :
" اوہ ہو تمہیں ویسے ہی وہم ہو رہا ہے ۔ ایسا کچھ نہیں ہے "
ویٹر مینیو لے کر آ یا تو بچوں نے اپنی اپنی پسند کے لیے بولنا شروع کر دیا ۔ بڑا بیٹا بولا :
" پاپا ، میں نے زنگر برگر کھانا ہے "
منجھلی بیٹی بولی :
پاپا میں تو چاؤ مین کھاؤں گی "
چھوٹا بیٹا جھٹ سے بولا :
میں نے پزا کھانا ہے "
" اچھا ٹھیک ہے سب کو اپنی اپنی پسند کا کھانا ملے گا "
میں نے بچوں کی فرمائشیں ویٹر کو لکھوا کر اپنے اور بیگم کے لیے چائنیز رائس اور منچورین کا آ ڈر دیا ۔
کھانا آ نے تک بچوں کی پیار بھری نوک جھونک پھر شروع ہوگئی ۔ دفعتاً میں نے محسوس کیا کہ ساتھ والی میز پر براجمان بزرگ برابر ہماری طرف دیکھ رہے تھے ۔ نہ صرف دیکھ رہے تھے بلکہ ہماری باتوں سے لطف اندوز ہو کر مسکرا بھی رہے تھے ۔ وضع قطع سے وہ کسی معتبر خاندان کے فرد دکھائی دے رہے تھے ۔ اب میں نے بھی کن اکھیوں سے ان کو دیکھنا شروع کردیا ۔ مسکراتے ہوئے کبھی ان کے چہرے پر گہری بے بسی اور یاسیت لہرا جاتی اور وہ تھوڑی دیر کے لیے نظریں نیچے کر کے سر بھی جھکا لیتے ۔ بچوں کی آ وازیں اونچی ہوتیں تو چونک کر پھر ہماری طرف متوجہ ہو جاتے ۔ دس پندرہ منٹ میں ان کو دیکھتا رہا ۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی اس لیے میں سوچنے لگا کہ ہو سکتا ہے ان کو بھوک لگی ہو اور پیسے نہ ہوں ۔ کبھی خیال آ تا کہ کسی گینگ سے تعلق نہ ہو کہ ہماری نگرانی کر رہے ہیں ۔ عجیب وغریب خیالات دماغ میں آ اور جا رہے تھے ۔ بیگم بھی پریشان ہو چکی تھی ۔ آ خر کار میں ہمت کر کے بزرگ کے پاس جا کر بیٹھ گیا ۔ سلام دعا کے بعد حال احوال دریافت کرنے لگا ۔ وہ بزرگ کہنے لگے :
" آ پ بہت خوش قسمت ہیں ۔ آ پ کی فیمیلی بائنڈنگ بہت اچھی ہے ۔ میں آ پ سب کو خوش دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے اور بہت لطف اندوز ہو رہا ہوں ۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں اپنی فیمی میں بیٹھا ہوں۔ شاید آ پ کو برا لگا ،اس لیے میں معذرت چاہتا ہوں ۔ "
انکا لہجہ انتہائی سلجھا ہوا اور دھیما تھا ۔ ان کی سچ گوئی نے مجھے نہ صرف متاثر کیا بلکہ دل میں ایک نرم گوشہ ان کے لیے پیدا کردیا اور میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا کہ آپ کی فیمیلی کہاں ہے ؟
ہزاروں دکھوں کے سائے ان کے چہرے پر امڈ آ ئے اور رندھی ہوئی آ واز میں بتانے لگے کہ وہ ایک ریٹائرڈ گورنمنٹ آ فیسر ہیں ۔ تین بیٹے تھے ان کو پڑھا لکھا کر قابل بنایا ، شادیاں کیں ۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ، اپنی بیویوں کو لے کر الگ ہو گئے۔ گھر کے حصے کئے اور چلتے بنے ۔ بیوی کے ساتھ اپنے آ بائی گھر میں رہنے لگا جلد ہی وہ بھی داغ مفارقت دے گئ ۔ تنہائی بہت بری چیز ہے ۔ جب دم گھٹنے لگتا ہے تو یہاں آ جاتا ہوں اور آ پ جیسی فیملیز کو دیکھ کر خوش ہوتا ہوں ۔
پتا نہیں مجھے کیا سوجھی میں انہیں اپنے ساتھ اپنی ٹیبل پر لے آ یا اور بچوں کو کہا کہ یہ میرے پرانے جاننے والے ہیں ۔ ان کے لیے بھی کھانا منگوا لیا ۔ سب نے مل کر کھانا کھایا۔ اس دوران بزرگ بچوں کے ساتھ گھل مل گئے اور بچے بھی ان کی باتیں مزے سے سن رہے تھے ۔
واپسی پر ڈرائیو کرتے ہوئے سب ان کے بارے میں بات کررہے تھے کہ آ ج بہت مزہ آیا اور میں سوچ رہا تھا کہ کیسی اولاد ہوتی ہے جو جوان ہونے پر اپنے والدین کو تنہائی کی کال کوٹھڑی میں دھکیل کر خود زندگی کے مزے لیتی ہے ۔ والدین جو اپنی زندگی کے بہترین دن بچوں کی پرورش میں تیاگ دیتے ہیں۔ اپنے منہ کے نوالے اولاد کے منہ میں ڈالتے ہیں اور وہی اولاد جوان ہو کر اپنے والدین کو ، ان کی قربانیوں کو بھول جاتی ہے ۔ حالانکہ اس عمر میں بھی والدین اپنی اولاد کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔
اگلے ویک اینڈ پر ڈنر کے لیے ہم تیار ہورہے تھے تو میں نے بیگم کو کہا کہ اس بار وہ ہمارے ساتھ چلیں گے۔ بیگم چونک گئی اور آ نکھیں پھاڑ کر کھانے والی نظروں سے مجھے دیکھا اور کہنے لگی ،
" کیا کہا؟ " اور پھر منہ بنا کر کہنے لگی کہ وہ ہمارے ساتھ جا کر کیا کریں گے ۔ ہماری اپنی بھی کوئی پرائویسی ہے ۔ ضروری نہیں کہ وہ ہر جگہ ہمارے ساتھ جائیں ۔ لیکن میں انہیں ساتھ لے جانے کے لیے بضد رہا اور صاف کہہ دیا کہ وہ ساتھ جائیں گے تو میں جاؤں گا ورنہ میں بھی نہیں جاؤں گا ۔ میری ہٹ دھرمی دیکھ کر وہ خاموشی سے راضی ہو گئ ۔
ہم ان کے ساتھ ریستوران پہنچے اور ایک بار پھر کونے والی میز بک کی ۔ سب اپنی سیٹوں پر براجمان ہوگئے ۔
کھانا آ گیا تو پہلا نوالہ میں نے ابو جی کےمنہ میں ڈالا تو ان کے چہرے پر چھلکتی آنکھوں کے ساتھ مسرت و شادمانی کی لہر دوڑ گئی بالکل اسی طرح جیسے بچپن میں ہمارے منہ میں نوالے ڈال کر ان کاچہرہ چمک اٹھتا تھا ۔ شادی کے بعد بالخصوص بچوں کے بعد ابو کبھی ہمارے ساتھ اؤٹنگ کے لی نہیں گئے تھے ۔ آ ہستگی اور خاموشی سے ایک سرد خلیج ہمارے درمیان حائل ہو چکی تھی ۔ اس دن اس اجنبی بزرگ کی شکل میں مجھے ابو کا ہیولا دکھائی دیا تھا . شاید وہ مجھے آ ئنہ دکھانے ہی آئے تھے ۔ بات صرف احساس کی تھی ۔ اسی خلیج کو آ ج میں پار کر لیا تھا اور ابو کے دل تک پہنچ گیا ۔ مجھے یوں لگا جیسے گزشتہ کوتاہیوں کا کسی حد تک ازالہ ہو گیا ہے ۔






