بدھ، 4 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کانسٹی ٹیوشن ون منصوبے میں فراڈ ہوا، جے آئی ٹی نے رپورٹ پیش کردی، دوبارہ نیلامی کی سفارش


وفاقی کابینہ نے اسلام آباد کے کانسٹی ٹیوشن ون منصوبے میں مبینہ فراڈ اور بے ضابطگیوں سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ منظور کرلی ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق جے آئی ٹی نے عبدالحفیظ شیخ کو مبینہ فراڈ کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے، جبکہ سی ڈی اے کے بعض افسران کی ملی بھگت کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

وفاقی وزرا احسن اقبال، عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت طلال چوہدری نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کانسٹی ٹیوشن ون منصوبے کی تحقیقات اور جے آئی ٹی رپورٹ کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کانسٹی ٹیوشن ون منصوبے میں مبینہ فراڈ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی تھی، جس کی رپورٹ کی آج وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کانسٹی ٹیوشن ون کے نام پر فراڈ کیا گیا، جبکہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے منصوبے میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے کوتاہی برتی اور متعلقہ قواعد و ضوابط پر عمل نہیں کیا۔ منصوبے کی دوبارہ نیلامی کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق جے آئی ٹی نے عبدالحفیظ شیخ کو مبینہ فراڈ کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں سی ڈی اے کے افسران کامران لاشاری، فیصل اعوان اور اظہر علی چوہدری کی ملی بھگت کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ مرحوم رائے نواز کھرل بھی اس مبینہ ملی بھگت میں ملوث تھے، جبکہ منصوبے میں بینک گارنٹی کی شرط ختم کی گئی تاکہ ڈیولپر کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی نے عبدالحفیظ شیخ کی کمپنی کے تمام منصوبوں کو بلیک لسٹ کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس معاملے میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا، تاہم منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو ان کی رقوم واپس کی جائیں گی۔

کوئی بھی قانون کی گرفت سے باہر نہیں، عطااللہ تارڑ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اس معاملے کو شفاف انداز میں آگے بڑھائے گا، جبکہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں مبینہ جرائم کی واضح نشاندہی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہی شہر میں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ قانون نہیں ہوسکتا۔ آج کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسلام آباد میں امیر اور غریب کے درمیان امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص قانون کی گرفت سے باہر نہیں اور یہی قانون کے سامنے مساوات کا تقاضا ہے۔

عمران خان سمیت 8 افراد تحقیقات میں پیش نہیں ہوئے، طلال چوہدری

اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ کانسٹی ٹیوشن ون منصوبہ گزشتہ 20 سال سے جاری رہا اور اس دوران 2 مرتبہ اس کے خلاف کارروائی کی گئی، دونوں بار یہ کارروائی مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے دوران تمام متعلقہ افراد کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور دعوے ثابت کرنے کا موقع دیا گیا، تاہم 7 سے 8 افراد پیش نہیں ہوئے۔

طلال چوہدری کے مطابق تحقیقات میں پیش نہ ہونے والے افراد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان بھی شامل ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ تحقیقات میں پیش نہ ہونے والے ان افراد نے آخر اس منصوبے میں فلیٹ کیسے حاصل کیے؟