منگل، 13 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

گھر کس سے بنتا ہے؟تحریر:بنتِ محبوب

نقطہ نظر

بہت آسان سوال ہے، لیکن جواب بہت گہرا ہے۔


لوگ کہتے ہیں گھر عورت سے بنتا ہے۔ ٹھیک کہتے ہیں۔

لوگ کہتے ہیں گھر مرد کی کمائی سے چلتا ہے۔ یہ بھی ٹھیک کہتے ہیں۔


لیکن مکمل سچ یہ ہے کہ گھر نہ اکیلے مرد سے بنتا ہے نہ اکیلے عورت سے۔ گھر دونوں کی سانسوں سے، دونوں کی محنت سے، دونوں کے خون پسینے سے بنتا ہے۔


آئیے ذرا قریب سے دیکھتے ہیں۔


مرد کی محنت... جو سب کو نظر آتی ہے


ایک مرد صبح فجر سے پہلے یا فجر کے ساتھ اٹھتا ہے۔ اس کا دل نہیں چاہتا بستر چھوڑنے کو، اس کا جسم تھکا ہوا ہوتا ہے کل کی محنت سے، لیکن اسے اٹھنا پڑتا ہے۔ کیونکہ اس کے پیچھے ایک گھر ہے۔


وہ باہر نکلتا ہے۔ کبھی سخت گرمی میں موٹر سائیکل پر، کبھی بسوں کے دھکوں میں، کبھی اپنے چھوٹے سے دکان پر۔ وہ زمانے کی باتیں سنتا ہے۔ کبھی گاہک کی کڑوی بات، کبھی مالک کی ڈانٹ، کبھی نوکری جانے کا خوف۔


وہ اپنا غصہ، اپنی تھکن، اپنی بے عزتی سب باہر ہی چھوڑ کر گھر آتا ہے۔ جیب میں چند نوٹ ہوتے ہیں، لیکن اس کی قیمت صرف وہی جانتا ہے جس نے وہ نوٹ اپنے خون سے کمائے ہوں۔ وہ لا کر بیوی کے ہاتھ پر رکھ دیتا ہے۔ اسے لگتا ہے اس نے اپنا فرض پورا کر دیا۔


اس کی محنت نظر آتی ہے۔ اس کے پھٹے ہوئے جوتے نظر آتے ہیں، اس کا میلا لباس نظر آتا ہے، اس کی جھکی ہوئی کمر نظر آتی ہے۔


عورت کی محنت... جو کسی کو نظر نہیں آتی


اور اسی گھر میں ایک عورت ہے۔


وہ مرد سے پہلے جاگتی ہے۔ سب سے آخر میں سوتی ہے۔ اس کی کوئی تنخواہ نہیں، اس کی کوئی چھٹی نہیں، اس کا کوئی اتوار نہیں۔


وہ صبح اٹھ کر سب کے لیے ناشتہ بناتی ہے۔ بچوں کو اسکول کے لیے تیار کرتی ہے۔ شوہر کے کپڑے استری کرتی ہے۔ پھر پورا گھر سمیٹتی ہے۔ وہ برتن جو رات کے پڑے ہیں، وہ دھوتی ہے۔ وہ کپڑوں کا ڈھیر جو ہر روز بنتا ہے، وہ دھوتی ہے۔


وہ دوپہر کو کھانا بناتی ہے۔ وہ شام کو پھر چائے بناتی ہے۔ وہ رات کو پھر کھانا بناتی ہے۔


وہ بچوں کو پڑھاتی ہے، ان کے نخرے اٹھاتی ہے، ان کے بخار میں رات بھر جاگتی ہے۔ وہ بیمار ہو جائے تو بھی اسے آرام نہیں ملتا۔ کیونکہ اگر وہ لیٹ گئی تو گھر رک جائے گا۔


مرد اگر ایک دن کام پر نہ جائے تو ایک دن کی دیہاڑی کٹتی ہے۔

عورت اگر ایک دن کام نہ کرے تو پورا گھر بکھر جاتا ہے۔


اس کی محنت نظر نہیں آتی۔ کیونکہ وہ بل نہیں لاتی، وہ نوٹ نہیں لاتی۔ وہ صرف سکون لاتی ہے۔ اور سکون کی کوئی قیمت نہیں لگاتا۔


تو پھر زیادہ محنت کون کرتا ہے؟


یہ سوال ہی غلط ہے۔


ہم محنت کو کیسے تولیں گے؟


مرد کی باہر کی محنت کو کلو میں تولیں گے یا عورت کی اندر کی محنت کو میٹر میں ناپیں گے؟


مرد اگر باہر چار اینٹیں لا کر رکھ دے اور عورت ان اینٹوں کو جوڑ کر گھر نہ بنائے تو وہ اینٹیں اینٹیں ہی رہیں گی، گھر نہیں بنیں گی۔


عورت اگر سارا دن گھر کو سونے کی طرح چمکا دے لیکن مرد باہر سے رزق نہ لائے تو وہ چمکتا ہوا گھر بھوکا رہے گا۔


ایک مثال سمجھیں۔


مرد گھر کی دیوار ہے۔ مضبوط، کھڑی، زمانے کے طوفان روکتی ہوئی۔

عورت اس گھر کی بنیاد ہے۔ اندر زمین میں چھپی ہوئی، کسی کو نظر نہ آنے والی، لیکن اگر بنیاد نہ ہو تو دیوار ایک جھٹکے میں گر جائے۔


تو بتائیے دیوار بڑی ہے یا بنیاد؟


دونوں ہی بڑی ہیں۔ دونوں کے بغیر گھر نہیں۔


اصل مسئلہ محنت کا نہیں، قدر کا ہے


مسئلہ یہ نہیں کہ کون زیادہ محنت کرتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کی محنت کی قدر نہیں کرتے۔


مرد گھر آ کر کہتا ہے "سارا دن کرتی کیا ہو؟ گھر میں ہی تو ہوتی ہو"

اور عورت کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے اس کی سارے دن کی محنت کسی نے دیکھی ہی نہیں۔


عورت کہتی ہے "تم نے آج تک میرے لیے کیا ہی کیا ہے؟"

اور مرد کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے اس کی ساری زندگی کی محنت رائیگاں چلی گئی۔


گھر وہیں سے ٹوٹنا شروع ہوتا ہے جہاں قدر ختم ہوتی ہے۔


حل کیا ہے؟


حل بہت آسان ہے۔


جس دن مرد گھر آ کر بیوی سے کہے "آج تم تھک گئی ہوگی، لاؤ میں بچوں کو دیکھ لیتا ہوں" اس دن عورت کی ساری تھکن اتر جائے گی۔


جس دن عورت شوہر کو پانی کا گلاس دے کر کہے "آپ بہت تھک گئے ہوں گے، باہر بہت گرمی تھی نا" اس دن مرد کی ساری تھکن اتر جائے گی۔


گھر برابر سے چلتا ہے۔ نہ مرد کا پلڑا بھاری ہونا چاہیے نہ عورت کا۔


جب دونوں یہ سمجھیں گے کہ ہم مقابل نہیں، ہم ساتھی ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے خلاف نہیں، ایک دوسرے کے لیے ہیں۔


تو یقین کریں، وہ گھر، گھر نہیں رہے گا، جنت بن جائے گا۔


کیونکہ جنت میں کوئی مقابلہ نہیں ہوتا، وہاں صرف محبت ہوتی ہے۔