بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

غذا اور صحت کی اہمیت ،تحریر: کلثوم افتخار

نقطہ نظر

غذا اور صحت کا اپس میں گہرا پیار محبت بھرا رشتہ ہے غذا اللہ تعالی کی پیدا کی ہوئی نعمتوں میں سے ایک بہت اعلی قسم کی نعمت ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کب کیوں اور کس وقت کون سی غذا کھانی چاہیے اور کون سی غذا کس عمر کے افراد کے لیے کس قدر فائدہ مند اور بہتر ہے

صحت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ انمول نعمتوں میں سے ایک ہے۔ انسان کے پاس دولت، آسائشیں اور زندگی کی تمام سہولتیں موجود ہوں، لیکن اگر صحت اچھی نہ ہو تو وہ ان نعمتوں سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اسی لیے اسلام نے صحت کے تحفظ اور متوازن طرزِ زندگی پر خصوصی زور دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے: *"کھاؤ اور پیو، لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔"* یہ مختصر ہدایت ہمیں اعتدال اور توازن کا درس دیتی ہے، جو صحت مند زندگی کی بنیاد ہے۔


موجودہ دور میں مسئلہ خوراک کی کمی کا نہیں بلکہ صحیح انتخاب کا ہے۔ نت نئی غذائیں اور مشروبات آسانی سے دستیاب ہیں، مگر ہر چیز صحت کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتی۔ جدید زندگی نے ہماری کھانے پینے کی عادات کو تبدیل کر دیا ہے۔ اکثر لوگ ضرورت سے زیادہ صرف ذائقے، عادت یا مصروفیات کی وجہ سے کھاتے ہیں۔ یہی غیر متوازن طرزِ زندگی موٹاپے، ذیابیطس، بلند فشارِ خون اور دل کی بیماریوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔


صحت مند زندگی کے لیے تین بنیادی اصولوں کو سمجھنا ضروری ہے: *کیا کھائیں؟ کب کھائیں؟ اور کتنی مقدار میں کھائیں؟*


کیا کھانا چاہیے؟ اللہ تعالی نے انسانی جسم کا نظام اس طرح سے بنایا ہے کہ انسان کو مقررہ وقت پر بھوک لگتی ہے اور جسمانی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے لیکن ہم نے بطور پاکستانی اللہ تعالی کی اس عطا کردہ نعمت یعنی غذائی اجناس کو اپنی مرضی اور ذائقے کی بنیاد پر کھانا شروع کر دیا اور بسیار خوری کا شکار ہو گئے جس کی وجہ سے بہت سی بیماریوں نے ہمارے گھر کا اور ہمارے جسم کا راستہ دیکھ لیا


جسم کو توانائی، نشوونما اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے متوازن غذا درکار ہوتی ہے۔ روزمرہ خوراک میں تازہ سبزیاں، پھل، دالیں، دودھ، دہی، انڈے، مچھلی، مناسب مقدار میں گوشت، خشک میوہ جات اور پانی شامل ہونا چاہیے۔ قدرتی اور کم پراسیس شدہ غذائیں عموماً زیادہ مفید ہوتی ہیں کیونکہ ان میں غذائی اجزاء اپنی اصل شکل میں موجود رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر تازہ پھل مصنوعی جوس یا فلیورڈ ڈرنکس کے مقابلے میں کہیں زیادہ فائدہ مند ہیں، جبکہ گھر کا تیار کردہ سادہ کھانا فاسٹ فوڈ سے بہتر انتخاب ہے۔


کب کھانا چاہیے؟

ہر وقت کھاتے رہنا اور خواہ مخواہ میں اپنےمنہ کو ہر وقت کھاتے رہنے پر مجبور کرنا غیر صحت مندانہ علامت ہے


کھانے کے اوقات بھی صحت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ آج بہت سے لوگ ناشتہ چھوڑ دیتے ہیں، دیر رات بھاری کھانا کھاتے ہیں یا پورا دن وقفے وقفے سے غیر ضروری چیزیں کھاتے رہتے ہیں۔ صحت مند عادت یہ ہے کہ کھانا باقاعدہ اوقات میں کھایا جائے، ناشتہ نہ چھوڑا جائے اور کھانوں کے درمیان مناسب وقفہ رکھا جائے۔ جب ہم جسم کی حقیقی ضرورت کے مطابق کھاتے ہیں تو نظامِ ہضم بہتر کام کرتا ہے اور غذائیت بھی مؤثر انداز میں جذب ہوتی ہے۔


کتنا کھانا چاہیے؟


خوراک کی مقدار صحت مند زندگی کا ایک اہم پہلو ہے۔ اسلام نے اس حوالے سے بہترین رہنمائی فراہم کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انسان اپنے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرتا، اور اگر کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے، ایک تہائی پانی اور ایک تہائی سانس کے لیے ہونا چاہیے۔ آج کی جدید غذائی سائنس بھی اسی تصور کو "پورشن کنٹرول" کے نام سے تسلیم کرتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ کھانا وزن بڑھنے، بدہضمی، سستی اور مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ اعتدال کے ساتھ کھانا جسم کو متوازن رکھتا ہے۔


پراسیسڈ اور پیکٹ بند غذاؤں کے نقصانات


موجودہ دور میں چپس، بسکٹ، نمکو، فاسٹ فوڈ، بیکری مصنوعات اور دیگر پیکٹ بند اشیاء کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے۔ ان میں اکثر چینی، نمک، غیر صحت بخش چکنائیوں اور مصنوعی اجزاء کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ ان غذاؤں کا مسلسل استعمال موٹاپے، شوگر، بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔


اسی طرح تیار شدہ فروزن مصنوعات جیسے نگٹس، فرائز اور پراسیسڈ کباب بظاہر آسان اور وقت بچانے والی ہوتی ہیں، لیکن ان میں اضافی نمک، چکنائی اور محافظ کیمیکلز شامل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے انہیں روزمرہ خوراک کا مستقل حصہ بنانے کے بجائے محدود مقدار میں استعمال کرنا بہتر ہے۔


میٹھے مشروبات سے احتیاط


سافٹ ڈرنکس اور دیگر میٹھے مشروبات صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ ان میں چینی کی مقدار بہت زیادہ جبکہ غذائی افادیت نہایت کم ہوتی ہے۔ ان کا زیادہ استعمال وزن میں اضافے، ذیابیطس اور دانتوں کی خرابی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے پانی کو اپنی بنیادی اور پسندیدہ مشروب بنانا چاہیے۔


خواتین کی صحت کی اہمیت


خواتین اکثر پورے خاندان کی خوراک اور صحت کا خیال رکھتی ہیں، مگر اپنی صحت کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں خون کی کمی، وٹامن ڈی اور کیلشیم کی کمی، مسلسل تھکاوٹ اور کمزوری جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایک صحت مند عورت نہ صرف اپنی زندگی بہتر انداز میں گزار سکتی ہے بلکہ ایک صحت مند اور مضبوط خاندان کی بنیاد بھی بنتی ہے۔

اسلام ہمیں سادگی، اعتدال اور شعوری طرزِ زندگی اپنانے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر ہم اپنی خوراک میں توازن پیدا کریں، قدرتی غذاؤں کو ترجیح دیں، میٹھے مشروبات اور پراسیسڈ فوڈز کا استعمال کم کریں اور کھانے کی مقدار پر توجہ دیں تو بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔


مختصراً، صحت مند زندگی کا راز ان تین سوالوں کے درست جواب میں پوشیدہ ہے: *کیا کھانا ہے؟ کب کھانا ہے؟ اور کتنا کھانا ہے؟* اگر ہم ان اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف اپنی صحت بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثبت مثال قائم کر سکتے ہیں۔


*یاد رکھیں: ایک صحت مند عورت، صحت مند خاندان اور صحت مند معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔*