ہمارے اخلاق کے اصل گواہ ، تحریر : ام عبد القہار
نقطہ نظر
کسی تقریب میں ایک شخص کی خوش گفتاری ہمیں متاثر کرتی ہے۔ وہ سلام میں پہل کرتا ہے، اختلاف پر مسکراتا ہے اور دوسروں کی بات توجہ سے سنتا ہے۔ واپسی پر ہم بے اختیار کہتے ہیں: ’’کتنے اچھے انسان ہیں!‘‘ ہمارا یہ تاثر درست بھی ہو سکتا ہے، مگر اس مختصر ملاقات میں ہم نے ان کی شخصیت کا کتنا حصہ دیکھا ہے؟ ان کے بچے، شریکِ حیات، بوڑھے والدین اور ماتحت کارکن بھی کیا ان کے ساتھ اتنی ہی آسانی سے بات کر سکتے ہیں؟ یہ سوال دوسروں کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے کے لیے نہیں، اپنے اخلاق کا جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے۔
معاشرتی زندگی میں شائستگی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ اجنبی کو راستہ دینا، مہمان کا احترام کرنا، مجلس میں تحمل برتنا اور ضرورت مند کی مدد کرنا قابلِ قدر اعمال ہیں۔ سوال وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں یہ خوش اخلاقی گھر کی دہلیز پر آ کر تھک جاتی ہے۔ باہر کسی کی معمولی تکلیف کا احساس رکھنے والا انسان گھر میں کسی کی مسلسل تھکن کو معمولی سمجھنے لگتا ہے۔ دفتر میں اپنے الفاظ احتیاط سے منتخب کرنے والا گھر میں کہہ دیتا ہے: ’’اپنوں سے بھی سوچ سمجھ کر بات کرنی پڑے گی؟‘‘ حالاں کہ اپنائیت تو لفظوں کی ذمہ داری مزید بڑھا دیتی ہے۔
گھر میں ہماری گفتگو اکثر بے تکلف ہوتی ہے، لیکن بے تکلفی اور بے احتیاطی کے درمیان ایک حد موجود ہے۔ کسی کی کمزوری جان لینا اسے ہر اختلاف میں استعمال کرنے کا حق نہیں دیتا۔ کسی کا ہم سے محبت کرنا اس کی دل آزاری کو بے ضرر نہیں بنا دیتا۔ ہم اپنے قریب رہنے والوں کی عادتوں، خوف، محرومیوں اور گزشتہ غلطیوں سے واقف ہوتے ہیں۔ اسی واقفیت کے سبب ہمارے پاس انہیں سہارا دینے کے مواقع بھی زیادہ ہوتے ہیں اور زخمی کرنے کے بھی۔ اخلاق کی ایک اہم آزمائش یہی ہے کہ ہم اس واقفیت کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ایک بچہ امتحان میں کم نمبر لے آئے تو اس کی غلطی سمجھانا والدین کی ذمہ داری ہے۔ لیکن نتیجے کی اصلاح کے لیے اس کی پوری شخصیت کو ناکام قرار دینا کیوں ضروری سمجھا جاتا ہے؟ ’’تم سے کچھ نہیں ہو سکتا‘‘، ’’تم ہمیشہ شرمندہ کرتے ہو‘‘ اور ’’دوسروں کے بچوں کو دیکھو‘‘ جیسے جملے مسئلے کا حل واضح نہیں کرتے۔ ان کے بعد بچہ یہ تو جان لیتا ہے کہ والدین ناراض ہیں، مگر یہ نہیں سمجھ پاتا کہ اپنی کمزوری کیسے دور کرے۔ تربیت میں سوال، وضاحت اور رہنمائی کی جگہ صرف موازنہ لے لے تو گفتگو کے دروازے تنگ ہونے لگتے ہیں۔
یہی معاملہ تعلیمی اداروں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ معلم کو نظم قائم رکھنا ہوتا ہے، غلطی کی نشان دہی بھی کرنا ہوتی ہے اور بعض اوقات سخت فیصلہ بھی لینا پڑتا ہے۔ اس ذمہ داری کے ساتھ طالب علم کی عزت کی حفاظت بھی وابستہ ہے۔ سبق یاد نہ ہونے پر بازپرس کی جا سکتی ہے، مگر پوری جماعت کے سامنے کسی کے گھر، ذہانت یا حیثیت کو مذاق بنانا کس تعلیمی ضرورت کو پورا کرتا ہے؟ استاد کا مؤثر ہونا اور شاگرد کا خوف کے باعث خاموش رہنا دو مختلف صورتیں ہیں۔ ایک ذمہ دار معلم کو ان کے درمیان فرق پہچاننا چاہیے۔
دفتر اور کاروبار میں بھی ہمارے اخلاق کے ایسے گواہ موجود ہوتے ہیں جن کی رائے شاذ ہی پوچھی جاتی ہے۔ ملازم کی اجرت وقت پر ادا کرنا، اس کے آرام کا لحاظ رکھنا، غلطی سننے سے پہلے اس کی بات سمجھنا اور کام کی حدود واضح رکھنا روزمرہ کے معاملات ہیں۔ ان کے لیے کسی تقریب، اشتہار یا تعریفی سند کی ضرورت نہیں پڑتی۔ گھر میں کام کرنے والی خاتون، دفتر کا معاون اور دروازے پر کھڑا محافظ ہمارے القاب سے پہلے ہمارے لہجے سے واقف ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارا برتاؤ بتاتا ہے کہ ہمارے نزدیک احترام کا تعلق انسان ہونے سے ہے یا سماجی مرتبے سے۔
اختیار کا دائرہ جتنا چھوٹا ہو، اس کا استعمال اتنا ہی غیر محسوس ہو سکتا ہے۔ کبھی یہ اختیار تنخواہ دینے والے کے پاس ہوتا ہے، کبھی گھر کا خرچ اٹھانے والے کے پاس، کبھی عمر میں بڑے فرد کے پاس اور کبھی کسی ادارے کے ذمہ دار کے پاس۔ مسئلہ اختیار رکھنے میں نہیں، اس گمان میں ہے کہ ہماری ذمہ داری ہمیں دوسروں کی تذلیل کی اجازت بھی دیتی ہے۔ اصول پر قائم رہتے ہوئے کسی کا مؤقف سنا جا سکتا ہے۔ غلط مطالبہ رد کرتے ہوئے بھی مہذب رہا جا سکتا ہے۔ ہر انکار کے ساتھ سخت لہجہ اور ہر اصلاح کے ساتھ تحقیر ضروری نہیں۔
دینی شعور رکھنے والے انسان کے لیے یہ پہلو مزید توجہ چاہتا ہے۔ عبادت ہمیں اپنے رب کے سامنے جواب دہی کا احساس دلاتی ہے۔ اسی احساس کا اثر ہمارے معاملات، وعدوں، زبان اور دوسروں کے حقوق میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔ گھر میں کسی کا حق ادا کرنا، قرض واپس کرنا، کمزور کی بات سننا اور اپنی غلطی تسلیم کرنا بھی ہماری عملی زندگی کے دینی تقاضوں میں شامل ہے۔ ہم جس نرمی کی فضیلت بیان کرتے ہیں، اس کا حصہ ہمارے قریب رہنے والوں کو بھی ملنا چاہیے۔ ہماری گفتگو سے دین کا تعارف پانے والے لوگ ہمارے طرزِ عمل کو بھی دیکھتے ہیں۔
البتہ یہاں انصاف کا ایک دوسرا تقاضا سمجھنا ضروری ہے۔ کسی ایک ناراض رشتے کی شکایت کسی انسان کے پورے کردار کا آخری فیصلہ نہیں ہو سکتی۔ بعض اوقات جائز حد قائم کرنے، غیر مناسب مطالبہ رد کرنے یا اصول کی پابندی کرنے پر بھی لوگ خفا ہوتے ہیں۔ اس لیے مقصد ہر شکایت کو بلا تحقیق درست مان لینا نہیں۔ اصل ضرورت یہ دیکھنا ہے کہ کیا ہمارے رویے میں تکلیف پہنچانے کا کوئی مسلسل انداز موجود ہے؟ کیا مختلف لوگ ایک ہی بات کی نشان دہی کرتے ہیں؟ کیا ہم شکایت سننے سے پہلے ہی اسے ناشکری، بدتمیزی یا مخالفت قرار دے دیتے ہیں؟
تھکن، مالی دباؤ، بیماری اور مسلسل ذمہ داریاں انسان کے مزاج پر اثر ڈالتی ہیں۔ کوئی شخص ہر وقت یکساں خوش گوار نہیں رہ سکتا۔ گھر والوں کو ایک دوسرے کی گنجائش سمجھنی چاہیے، لیکن اپنی مشکل بیان کرنے اور اس کا بوجھ کسی کی تذلیل کی صورت میں اتارنے کے درمیان فرق بھی واضح رہنا چاہیے۔ ’’میں اس وقت بہت تھکا ہوا ہوں، کچھ دیر بعد بات کرتے ہیں‘‘ کہنا تعلق میں وضاحت پیدا کرتا ہے۔ چیخ کر خاموش کرا دینا مسئلے کو مؤخر تو کر سکتا ہے، حل نہیں کرتا۔
اصلاح کی ابتدا کسی بڑے اعلان سے نہیں، ایک قابلِ عمل سوال سے ہو سکتی ہے: ’’میری کون سی عادت آپ کو تکلیف دیتی ہے؟‘‘ اس سوال کی اصل قدر تب سامنے آتی ہے جب جواب ہماری پسند کے خلاف ہو۔ اگر ہم فوراً اپنی صفائی دینے لگیں، پرانے احسان گنوائیں یا جواب دینے والے کی خامیاں کھول دیں تو آئندہ شاید وہ سچ کہنے سے گریز کرے۔ بہتر ہے پوری بات سنی جائے، ضرورت ہو تو مثال پوچھی جائے اور پھر اپنے رویے پر غور کیا جائے۔ معافی کے بعد عملی تبدیلی، بار بار کی وضاحت سے زیادہ معنی رکھتی ہے۔
آج کسی محفل سے ملنے والی تعریف پر خوش ہوتے ہوئے ہمیں ان خاموش لوگوں کا بھی خیال کرنا چاہیے جو ہماری روزمرہ زندگی کے شریک ہیں۔ کیا وہ اپنی بات کہنے کے لیے ہمارا اچھا موڈ تلاش کرتے رہتے ہیں؟ کیا اپنی غلطی بتاتے ہوئے انہیں اصلاح کی امید ہوتی ہے یا تذلیل کا اندیشہ؟ کیا ہمارے گھر میں معافی صرف کمزور مانگتا ہے، یا اختیار رکھنے والا بھی اپنی زیادتی تسلیم کرتا ہے؟ ان سوالوں کے جواب ہماری شخصیت کے ان حصوں کو روشن کر سکتے ہیں جو تعارف اور القاب میں نظر نہیں آتے۔
ہمارے اخلاق کے اصل گواہ وہ بھی ہیں جنہیں ہماری تعریف کرنے کے لیے اسٹیج نہیں ملتا۔ ان کی خاموشی کو ہمیشہ اطمینان سمجھ لینا آسان ہے؛ ان کے احساسات جاننے کے لیے خود قدم بڑھانا ذمہ داری ہے۔ آج اپنے کسی قریبی انسان کو اتنی مہلت دیجیے کہ وہ بلا خوف اپنی بات مکمل کر سکے۔ ممکن ہے ہمارے کردار کی سب سے ضروری اصلاح اسی جملے سے شروع ہو جسے ہم اب تک بیچ میں کاٹتے آئے ہیں۔
مزید پڑھیں





