بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بحثیت مسلمان ہماری ذمہ داریاں ،تحریر: شگفتہ خان

نقطہ نظر
shagufta khan blog

بحثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنا ایمان و عقیدہ پختہ رکھیں. جو اسلامی اقدار و روایات ہیں. ان پر خود بھی عمل کریں اور اپنے اہل خانہ ، رشتہ دار، دوست احباب کو بھی عمل کرنے کی ہدایت کریں ۔ ان زمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیئے پہلے ہمارا مسلمان ہونا ضروری ہے لیکن کیا ہم مسلمان ہیں؟؟؟؟ اب تو بس نام کی حد تک محدود ہوکر رہ گئےہیں ۔اپنے مذہب سے آہستہ آہستہ اتنا دور ہو چکے ہیں کہ وہ تعلیمات جو میرے نبی اخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے بتا دی تھیں۔ وہ ہم نے یکسر بھلا د ی ہیں۔ درگزر، رواداری و وفاداری، احساس، خلوص و محبت، ہمدردی، نرم دلی، ایفائے عہد، حیا، صبر،شکر، اعتدال پسندی، دیانتداری و ایمانداری، عدل وانصاف، عاجزی اور انکساری۔ایک مسلمان میں یہ خوبیاں ہوں تو اسے اپنی ذمہ داری کا احساس ہو لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی خوبی بحثیت مسلمان ہم میں نہیں پائی جاتی۔ جب ہر صفت سے مبرا ہیں تو ذمہ داریاں کیا نبھائیں گے؟؟؟؟ہمارے تو ضمیر اتنے مردہ ہوچکے ہیں کہ کسی اور کو تکلیف ہو تو ہمیں فرق ہی نہیں پڑتا۔ اس کی مدد تو دور کی بات ہے ۔ ہم تو پر زور احتجاج بھی نہیں کرتے۔ ہمارے حکمرانوں نے عوام کو دو وقت کی روٹی کے جھگڑے میں اتنا الجھا دیا کہ ان کا دھیان ہی نہیں کہ ہمارے آس پاس رہنے والے لوگوں پہ ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ پہلے لوگوں کے پاس وسائل کم تھے مگر حوصلے جوان تھے۔ صلاح الدین ایوبی، محمد بن قاسم، ارتغزل غازی وہ بہادر سپہ سالار جو خود دوسرے مسلمانوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ اب وسائل ہیں تو حوصلہ وہمت نہیں ہے۔ آج ہمارے حکمران اتنے بزدل اور بے حس ہیں تو عوام میں جذبہ حب الوطنی کیا ہوگا؟معاشرہ میں انتشار، دہشتگردی، دھاندلی، رشوت، بےایمانی، بے حسی، بے حیائی اور ناجائز ذرائع آمدن کونسی ایسی برائی ہے جو آج مسلمان ملک میں موجود نہیں ہے۔ زندگی گزارنے کے جو اصول میرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بتائے تھے۔ دوسری اقوام اپنا کر ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں شامل ہو رہی ہے لیکن مسلمان اس کو بھول کر تنزلی کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی اقدار اور نظریات کو اسلام کے سانچے میں ڈھالیں۔ معاشرے میں امن و امان اور سکون کے لئے اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔ اپنے بچوں کی تربیت اسلامی خطوط پر کریں ۔ بچے نصحتوں اور کتب سے اتنا نہیں سیکھتے جتنا اپنے اردگرد کے ماحول سے سیکھتے ہیں ۔آپ ان کے سامنے نظم و ضبط، خلوص و محبت، رحم دلی اپنائیں گے تو وہ خودبخود وہی عادتیں اپناتے چلے جائیں گے۔ ایسے معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ فرد واحد درست سمت اختیار کرے تو آہستہ آہستہ قافلہ بنتا چلا جائے گا لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں ۔ اپنے یقین کو پختہ رکھیں اور اپنے عمل پر ثابت قدم رہیں۔ اندھی تقلید نہ کریں۔ افسوس صد افسوس کہ اس اندھی تقلید میں گم ہوکر ہی ہم نے اپنا درست راستہ چھوڑ دیا ہے اور گمراہی اور جہالت کے ان اندھیروں میں ڈوبتے چلے جارہے ہیں۔ جن سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہمارے آباؤ اجداد نے بہت سی قربانیوں اور جدوجہد سے نکالا تھا۔ سوشل میڈیا کے بے جا استعمال نے نئی نسل کو فحاشی اور بے راہ روی کا شکار کر دیا ہے۔ اس کا مثبت پہلو بھی ہے۔ وہ معلومات جن کا حصول ممکن نہیں ہوتا تھا۔ آج ایک لمحہ میں وہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ پلک جھپکتے ہی آپ دنیا کے دوسرے کونے میں بیٹھے شخص سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہم اس سے فائدہ اُٹھاتے۔ یہ ہماری کی تباہی کی وجہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے ہم آنے والی نسلوں کو اس تباہی سے بچائیں۔