بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خدمتِ خلق حقیقی خوشی کا راز،تحریر: مہوش بنت بشارت

نقطہ نظر

آج کا انسان ایک عجب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف سائنس اور ٹیکنالوجی کی بدولت مادی آسائشوں کا طوفان ہے۔ فلک بوس عمارتیں، تیز رفتار گاڑیاں اور دنیا بھر کی معلومات موبائل اسکرین پر دستیاب ہیں۔ دوسری طرف اسی انسان کے اندر اضطراب، اکیلاپن اور ذہنی تناؤ اپنی انتہا کو چھو رہا ہے۔ جدید سہولیات کے باوجود انسان سچے سکون سے محروم ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے خوشی کا معیار صرف حاصل کرنے کو بنا لیا ہے جبکہ کائنات کا اصول ہے کہ حقیقی خوشی صرف بانٹنے سے ملتی ہے۔ موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ انفرادیت پسندی اور نفسا نفسی ہے۔ پرانے وقتوں میں معاشرہ ایک اکائی تھا۔ دکھ درد سانجھے تھے۔ پڑوس میں کوئی بیمار ہوتا تو پورا محلہ عیادت کو پہنچ جاتا۔ ایک گھر کی خوشی پورے محلے کی خوشی بن جاتی۔ آج ہم نے زندگی کو صرف اپنی ذات اپنے بینک بیلنس اور سوشل میڈیا تک محدود کر لیا ہے۔ ہم ایک اندھی دوڑ میں ہیں جہاں ہر کوئی آگے نکلنے کی فکر میں ہے اور برابر چلنے والوں کو بھول چکے ہیں۔ آج کا انسان میں، میرا اور مجھے کے حصار میں قید ہے۔ ہمیں پرواہ نہیں کہ پڑوس میں کوئی بھوکا سویا ہے یا کسی کی بیٹی جہیز نہ ہونے سے گھر بیٹھی ہے۔ اس خود غرضی نے سماجی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ جب انسان صرف اپنے لیے جیتا ہے تو اس کی زندگی کا دائرہ تنگ ہو جاتا ہے۔ وہ دائرہ اسے شدید مایوسی اور نفسیاتی امراض کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ سائنس نے ہمیں جسمانی طور پر قریب کیا لیکن دلوں کے فاصلے بڑھا دیے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ زیادہ پیسہ، بڑا گھر اور مہنگی گاڑی خوشی دے گی۔ یہ چیزیں عارضی اچھا احساس تو دلا سکتی ہیں لیکن روح کو سکون نہیں دے سکتیں۔ مادی چمک دمک وقت کے ساتھ مدہم پڑ جاتی ہے۔ جب انسان اپنی توانائیاں صرف دولت جمع کرنے پر لگا دے اور اخلاقی اقدار کو پس پشت ڈال دے۔ وہ ایسے اندرونی خالی پن کا شکار ہو جاتا ہےجسے کوئی دولت نہیں بھر سکتی۔ حقیقی خوشی کا تعلق باہر کے حالات سے زیادہ اندر کی کیفیت سے ہے۔ جدید نفسیات بھی تصدیق کرتی ہے کہ دوسروں کی مدد کرنے والے لوگ صرف اپنے لیے جینے والوں سے زیادہ خوش رہتے ہیں۔ جب آپ کسی مجبور، یتیم یا بے بس کی مدد کرتے ہیں تو دماغ میں ایسے کیمیکلز خارج ہوتے ہیں جو گہرا اطمینان اور دائمی خوشی دیتے ہیں۔ خدمتِ خلق انسان کو عاجزی سکھاتی ہے اور تکبر و انا کا خاتمہ کرتی ہے۔ دوسروں کے دکھ دیکھ کر ہمیں اپنی نعمتوں کا احساس ہوتا ہے اور دل میں شکر گزاری پیدا ہوتی ہے۔ اور شکر گزاری ہی حقیقی خوشی کی بنیاد ہے۔ ایک صحت مند معاشرہ وہی ہے جہاں کمزور کو سہارا دیا جائے۔ جب ہم ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں تو معاشرے سے جرم، حسد، چوری اور نفرت کم ہوتی ہے۔ اگر ہر فرد صرف اپنے بارے میں سوچے گا تو امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جائے گا۔ جس سے انتشار اور بدامنی پیدا ہوگی۔ اخلاقی اور مذہبی طور پر یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے وسائل، علم اور وقت کا ایک حصہ فلاح و بہبود کے لیے وقف کریں۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ خدمتِ خلق کے لیے بہت دولت یا کسی بڑی این جی او کا حصہ بننا ضروری ہے۔ یہ غلط فہمی ہے۔ چھوٹے اقدامات سے بڑا فرق پڑتا ہے۔ کسی اداس انسان سے نرمی سے بات کرنا، اس کا دکھ سننا اور حوصلہ دینا بھی نیکی ہے۔ اگر اللہ نے علم یا ہنر دیا ہے تو کسی مستحق نوجوان کو سکھا دیں۔ اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا نسلوں کی خدمت ہے۔ کسی بیمار رشتہ دار کی عیادت کرنا، ضعیف پڑوسی کا سودا لا دینا، راستے سے پتھر ہٹا دینا، ٹریفک میں کسی کو مسکرا کر راستہ دے دینا یا پیاسے کو پانی پلا دینا یہ بظاہر چھوٹے کام ہمارے رویوں میں نرمی پیدا کرتے ہیں۔ جب اکٹھے ہوتے ہیں تو پورے معاشرے کا رخ بدل دیتے ہیں۔ انسانی زندگی کا مقصد صرف سانس لینا، کھانا پینا اور دولت جمع کرنا نہیں۔ یہ کام تو جانور بھی کرتے ہیں۔ انسان کو اشرف المخلوقات اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ وہ دوسروں کے کام آ سکے۔ کائنات کا اٹل اصول ہے کہ جو چیز آپ بانٹتے ہیں وہی کئی گنا ہو کر آپ کے پاس واپس آتی ہے۔ اگر آپ محبت، آسانیاں اور خوشیاں بانٹیں گے تو آپ کی زندگی بھی انہی نعمتوں سے بھر جائے گی۔شاعرِ مشرق نے کیا خوب کہا

"ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔"

اگر ہم پرسکون زندگی اور مثالی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں انفرادیت پسندی کے خول سے نکلنا ہوگا۔ خدمتِ خلق کو شعار بنا کر ہی ہم اس دنیا کو جنت کا نمونہ اور اپنی روح کو سچے سکون سے سرشار کر سکتے ہیں۔