قومی یکجہتی: رنگ نسل اور فرقوں سے بلند ایک شناخت،تحریر:نمرہ امین
نقطہ نظرقومی یکجہتی ہر قوم کی ترقی اور استحکام کے لیے لازمی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ ایک قوم کے تمام افراد خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب، زبان، رنگ و نسل، فرقے یا علاقے سے ہو ایک دوسرے کو برابر کا شہری سمجھیں اور اس بات پر قائم رہیں کہ ہم سب ایک متحد قوم ہیں۔ ایک ساتھ ہیں۔ قومی یکجہتی ایک ایسی طاقت ہے جو قوم کو متحد اور مضبوط بناتی ہے۔ اس سے قوم کے ہر فرد میں محبت، اخوت، ہم آہنگی ہوگی جو قوم کو آپس میں جوڑے رکھے گی۔ ان میں کوئی اختلافات نہیں ہو سکیں گے نہ کوئی دشمن ان کو نقصان پہنچا کر ان پر حملہ کر سکے گا۔ وہ مل کر دشمنوں کے وار کا سامنا کر سکیں گے۔ جب ایک قوم کے سب افراد متحد ہو کر ایک ساتھ مل کر محبت، سلوک کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کو کوئی بھی دشمن الگ نہیں کر سکتا ہے نہ ہی کوئی ان کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
قومی یکجہتی کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتی ہے۔ ہر ملک میں مختلف مذاہب، مختلف زبان، رنگ و نسل اور مختلف فرقوں کے افراد رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ سب کے طور طریقے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ اگر وہ سب ایک دوسرے کو سمجھیں آپس میں پیار، محبت، سلوک کے ساتھ مل کر رہیں تو ہر موڑ پر اپنی قوم، اپنے شہر اور اپنے وطن کی حفاظت کر سکیں گے۔ لیکن اگر ان میں اتحاد، محبت، سلوک اور بھائی چارہ ہی نہیں ہوگا تو وہ کبھی ایک قوم بن کر ترقی نہیں کر سکیں گے اور ہمیشہ دشمنوں کی سازشوں کا شکار رہیں گے۔
ہر قوم کی ترقی، بقاء اور عزت ان مضبوط ستونوں پر منحصر ہے جس میں آزادی، حب الوطنی، قومی یکجہتی، انفرادی کردار شامل ہیں۔ ان میں سے اگر کوئی ایک بھی ٹوٹ جائے تو پوری قوم کی بنیاد موتیوں کی طرح ٹوٹ کے بکھر جاتی ہے۔
یہ وہ عمارت ہے جس میں ہر فرد کو محبت، سلوک، دیانت داری، سچائی اور ایمان داری سے ایک قوم بن کر رہنا ہوگا تاکہ کسی ایک کے بھی جھوٹ، بد نیتی، نفرت اور خود غرضی سے کوئی دشمن اس ملک پر حملہ کر کے اس قوم کو جدا نہ کر سکے۔ ان کی محبت میں دڑاڑ نہ ڈال سکے۔ ان کی بنائی ہوئی مضبوط عمارت کو توڑ نہ سکے۔ ان کی خوشحال طرز زندگی میں کوئی خلل نہ ڈال سکے۔
آزادی اللہ کا عطا کیا بہت بڑا انعام ہے۔ یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ملک اور قوم کو خوشحال رکھنے میں معاون و مددگار ثابت ہوتی ہے۔ بے جا قربانیوں، جدوجہد، صبر اور عزم کے نتیجے پر ملنی والی آزادی جہاں کھلی ہوا میں سانس لینا نعمت خداوندی ہے۔ اس کی حفاظت اور قدر قوم کے ہر فرد پر لازم و ملزوم ہے۔
حب الوطنی ایسا جذبہ ہے جو ہر قوم کے ہر باشندے کو اپنے وطن سے محبت، وفاداری کرنا سیکھاتا ہے۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ اپنے وطن کی عزت، سلامتی و ترقی کے لیے اس کے قوانین کا احترام کرے اور ملک کی حفاظت کر کے ایک محب وطن شہری بن کر دکھائے۔
اگر ایک شہری ایمان دار، فرض شناس، دیانت دار اور محنتی ہوگا تو اپنے پورے ملک کے لیے قابل فخر ہوگا۔ یہی انفرادی کردار قوم کے اخلاق اور ترقی کا آئینہ ہوگا۔
کیا آج ہمارے تعلیمی ادارے نوجوان نسل کو قومی یکجہتی کی تعلیم دیتے ہیں؟ ان کو آگاہی فراہم کرتے ہیں؟ کیا ان کو مختلف زبانوں، فرقوں، مذاہب اور ان کے مختلف علاقوں کے لوگوں سے محبت اور احترام کرنے کی تربیت دیتے ہیں؟
اگر ایسا ہے تو یہ قابل اعزاز بات ہے ہماری قوم کے لیے جو آج کے دور میں اتنی ضروری تعلیمات نوجوانوں کو دی جا رہی ہیں۔ جس سے ان میں اپنے وطن، ہر قوم و فرقے، ہر علاقے کے لوگوں کی زبانوں، رہن سہن، ان کے رنگ و نسل اور مذاہب سے محبت پروان چڑھے گی۔ وہ ہر فرد سے محبت، عزت، قدر کرنا سیکھ جائیں گے اور مل کر ایک مضبوط اور متحد قوم بن کر اپنے ملک کا دفاع کر سکیں گے۔ ہر دشمن کی میلی آنکھ سے اپنے وطن کو بچا سکیں گے۔
وہ سب مل کر ایک متحد اور خوشحال قوم بن کر اپنے دشمنوں کے وار کا جواب دے سکیں گے۔ تعلیم انسان کو با شعور بناتی ہے اس کو قومی اتحاد اور بھائی چارے کی اہمیت سے آگاہ کرتی ہے۔ جس میں اسلامی تعلیمات کی آگاہی بہت ضروری ہے۔ اسلام بھی اتحاد، مساوات اور بھائی چارے، کا درس دیتا ہے۔
(قرآن پاک میں سورہ آلِ عمران:103) میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔"
(سورہ حجرات: 13) "ہم نے تمہیں قوموں اور قبیلوں. میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، اللہ کے نزدیک سب سے معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔"
یہ آیات واضح طور پر ہمیں بتاتی ہیں کہ نسل، رنگ، زبان کی بنیاد پر کوئی کسی سے برتر نہیں ہوتا ہے۔ انسان کی اصل قدر و قیمت ہی اس کے تقویٰ اور کردار کی ہوتی ہے۔
قومی یکجہتی کی ہی بدولت پورے ملک میں امن و امان، استحکام قائم رہتا ہے۔ یہی ایک قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے جو اس کے باشندوں کو بھائے چارے، محبت، سلوک کے ساتھ ایک قوم بنا کر رکھتی ہے۔ جس میں ان کے مل جل کر کام کرنے سے، ساتھ رہنے سے ملک کی معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی ممکن ہوتی ہے۔
آج کل کے حالات میں پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت قومی یکجہتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب قوم کے ہر فرد کو سیاسی، مذہبی، سماجی آپسی اختلافات کو ختم کر کے ایک قوم بن کر متحد رہنا ہے اور دشمنوں پر ثابت کرنا ہے کہ پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ وہ اپنے وطن کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں اور جب ایک قوم متحد، با شعور اور پر عزم ہوگی ملک اتنا ہی مضبوط اور طاقتور ہوگا۔
اگر ہم ایک مضبوط، خوشحال اور پُر امن پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں ہر زبان، رنگ و نسل اور مذاہب کو اپنا کر ان کے ساتھ محبت، سلوک قائم رکھ کر ایک متحد قوم بن کر رہنا ہوگا اور اپنی ایک پہچان بنانی ہوگی۔ اپنے دشمنوں کو ان کے ہر وار پر شکست دینی ہوگی۔ ان کو بتانا ہوگا ہم سب ایک ہیں اور ہم مسلمان ہیں۔ ہماری پہچان پاکستان ہے اور ہم اپنے وطن کی حفاظت کی خاطر اپنی جان کی قربانی بھی دے سکتے ہیں۔





