رات کے بارہ بج کر پندرہ منٹ تھے۔
پورا گھر خاموش تھا، مگر نایاب کے کمرے کی بتی ابھی تک جل رہی تھی۔ وہ آئینے کے بالکل قریب کھڑی تھی، آج پھر نیا سوٹ پہنا تھا، بال بھی ویسے ہی بنائے تھے جیسے انسٹاگرام پر دیکھے تھے، مگر دل کو سکون نہیں آ رہا تھا۔
وہ خود سے بڑبڑائی، "سب کتنی پیاری لگتی ہیں، میں کیوں نہیں لگتی؟ آخر کمی کیا ہے مجھ میں؟"
پچھلے چھ مہینے سے یہی حال تھا۔ کالج میں اس کی نظریں خود پر کم اور دوسروں پر زیادہ ہوتیں۔ ریل دیکھ دیکھ کر اسے لگتا تھا کہ خوبصورتی کا مطلب سب کی نظروں میں آنا ہے۔ اسی چکر میں دوپٹہ ڈھیلا ہو گیا، ہنسی اونچی ہو گئی، مگر تنہائی میں آئینے کے سامنے ایک خالی پن اسے گھیر لیتا۔
پیچھے دروازہ کھلا۔ دادی وضو کے لیے اٹھی تھیں۔ سفید چادر میں ان کا چہرہ چمک رہا تھا۔
"نایاب میری جان، ابھی تک جاگ رہی ہو؟"
نایاب گھبرا کر بولی، "جی دادی، بس کل فنکشن کی تیاری کر رہی تھی۔"
دادی قریب آئیں اور پیار سے کہا، "بیٹا، تم آئینے میں غلط چیز ڈھونڈ رہی ہو۔"
"مطلب؟"
"تم آئینے میں صرف چہرہ ڈھونڈ رہی ہو، کبھی اپنی حیا دیکھی ہے؟"
"دادی! حیا بھی نظر آتی ہے؟"
دادی نے کہا، "ہاں بیٹا، حیا نظر نہیں آتی، مگر اس کا نور چہرے پر نظر آتا ہے۔ سنو، حیا دو جگہ ہونا بہت ضروری ہے، دل میں اور آنکھوں میں۔ جہاں یہ نہ ہو، عورت خالی ہو جاتی ہے۔"
پہلی چیز: حیا دل میں ہونا۔
دل میں حیا یہ ہے کہ ہر وقت یہ خیال رہے کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ جب یہ بات دل میں بیٹھ جائے تو لڑکی تنہائی میں بھی غلط نہیں سوچتی، کسی سے حسد نہیں کرتی، دل صاف رکھتی ہے۔ اور جس کا دل صاف ہو، اس کے چہرے پر خود بخود کشش آ جاتی ہے۔
دوسری چیز: حیا آنکھوں میں ہونا۔
بیٹا، آنکھیں دل کا دروازہ ہیں۔ جس کی آنکھ بے حیا ہو جائے، اس کا دل بھی بے حیا ہو جاتا ہے۔ آنکھوں میں حیا یہ ہے کہ نامحرم سے نظر جھک جائے، موبائل پر کوئی بے حیا چیز آئے تو آنکھ فوراً ہٹ جائے۔ یہی شرم کا پردہ عورت کو سب سے زیادہ خوبصورت بناتا ہے۔
پھر دادی نے اس کا ہاتھ تھاما،
"ایک حدیث دل پر لکھ لو بیٹا:
اَلْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ
ترجمہ: حیا ایمان کا ایک حصہ ہے۔
(صحیح بخاری: 9، صحیح مسلم: 35)
حیا عورت کا زیور ہے۔ دنیا کا ہر زیور ٹوٹ جاتا ہے، سونا کالا پڑ جاتا ہے، میک اپ اتر جاتا ہے، مگر حیا کا زیور جو ایک بار پہن لے، وہ قبر تک ساتھ رہتا ہے۔"
نایاب کے دل پر جیسے کوئی دروازہ کھل گیا۔ اسے سمجھ آ گیا، جو کمی وہ مہینوں سے ڈھونڈ رہی تھی، وہ لپ اسٹک کی نہیں، حیا کی کمی تھی۔
اگلی صبح وہ فجر سے پہلے اٹھی، وضو کیا، نماز پڑھی۔ الماری کے اوپر والے خانے میں خالہ کا دیا ہوا کالا عبایا تہہ کیا ہوا پڑا تھا، جو اس نے کبھی پہنا نہیں تھا۔ آج اس نے اسے نکالا۔
جیسے ہی اس نے عبایا پہنا، اسے لگا جیسے کسی نے اسے ڈھانپ کر محفوظ کر لیا ہو، جیسے وہ دنیا کی میلی نظروں سے چھپ کر اللہ کی امان میں آ گئی ہو۔ اس نے ہلکی خوشبو لگائی، کوئی تیز میک اپ نہیں، کوئی اونچی ہنسی نہیں۔ آئینے میں دیکھا تو آج آنکھیں جھکی ہوئی تھیں اور دل میں ایک عجیب سکون تھا۔ اسے لگا اس کے چہرے پر نور اتر آیا ہو۔
وہ دوڑ کر دادی کے پاس گئی، "دادی دیکھیں، آج آئینہ کیا کہہ رہا ہے؟"
دادی کی آنکھیں چمک اٹھیں، گلے سے لگا کر بولیں، "آج آئینہ کہہ رہا ہے، میری نایاب سب سے پیاری لگ رہی ہے، کیونکہ آج اس نے دنیا کا نہیں، جنت کا زیور پہنا ہے۔"
اس دن کے بعد سہیلیوں نے بھی اس میں فرق محسوس کیا، اب وہ سب سے الگ، سب سے باوقار لگتی تھی۔
اور نایاب کا آئینہ ہمیشہ کے لیے بدل گیا۔ اب وہ آئینے میں اپنا چہرہ نہیں، اپنا ایمان دیکھتی تھی۔
مزید پڑھیں




