Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خلیوں کی بقا کا پوشیدہ نظام دریافت، کینسر کے علاج میں نئی راہ کھلنے کا امکان

Scientists uncover hidden cell survival pathway | BaaghiTV

سائنسدانوں نے خلیوں میں بقا کا ایک ایسا پوشیدہ نظام دریافت کیا ہے جسے پہلے ناممکن سمجھا جاتا تھا، یہ دریافت مستقبل میں کینسر کے علاج کو مزید مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

مونٹانا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے دریافت کیا کہ ممالیہ جانوروں کے خلیے ان حالات میں بھی ضروری امینو ایسڈ سسٹین تیار کر سکتے ہیں جب وہ نظام ناکارہ ہو جائیں جنہیں سائنسدان طویل عرصے سے سسٹین کی فراہمی کے لیے لازمی سمجھتے رہے ہیں۔ یہ تحقیق جرنل ’نیچر کیمیکل بائیولوجی‘ میں شائع ہوئی ہے۔

سسٹین خلیوں کی بقا کے لیے ضروری امینو ایسڈ ہے۔ یہ پروٹین بنانے، خلیوں کو نقصان سے بچانے اور پروٹین کی ساخت کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ خلیے سسٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے سسٹین کے آکسیڈائزڈ فارم سسٹین کو مخصوص ڈسلفائیڈ ریڈکٹیس نظام کے ذریعے توڑتے ہیں اور اس کے بغیر خلیوں کا زندہ رہنا ممکن نہیں۔

تاہم محققین نے ایک متبادل کیمیائی راستہ دریافت کیا ہے۔ معمول کا نظام ناکارہ ہونے کی صورت میں خلیے سسٹین کے اندر موجود کاربن اور سلفر کے ایک دوسرے بند کو توڑ کر سسٹین حاصل کر لیتے ہیں، جس سے خلیوں کو زندہ رہنے کے لیے ضروری مادہ دستیاب ہو جاتا ہے۔

اس دریافت کا ابتدائی اشارہ 2014 میں اس وقت ملا جب جینیاتی طور پر تبدیل کیے گئے چوہے ایسی صورتحال میں بھی زندہ رہے جہاں موجودہ سائنسی سمجھ کے مطابق ان کا زندہ رہنا ممکن نہیں ہونا چاہیے تھا۔ محققین نے تقریباً سات سال مزید تحقیق کے بعد اس متبادل نظام کا سراغ لگایا۔

ماہرین کے مطابق یہ نظام ممکنہ طور پر قدیم کثیر خلوی جانداروں میں زہریلے کیمیائی مادوں سے تحفظ کے لیے ارتقا پذیر ہوا تھا۔ تاہم یہی نظام بعض کینسر کے خلیوں کو کیموتھراپی، ریڈی ایشن یا مدافعتی علاج کے دوران زندہ رہنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگر اس متبادل راستے کو کینسر کے خلیوں میں مخصوص طور پر ناکارہ بنانے کا طریقہ دریافت کر لیا جائے تو مستقبل میں کینسر کے موجودہ علاج کو زیادہ مؤثر بنانے کی ایک نئی راہ سامنے آ سکتی ہے۔ تاہم اس امکان پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

یہ تحقیق نو سال پر محیط کام کا نتیجہ ہے، جس میں مونٹانا اسٹیٹ یونیورسٹی کے طلبہ سمیت امریکا اور ہنگری کے مختلف اداروں کے محققین نے حصہ لیا۔