ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حسابِ زندگی، خطوط کے رنگ، زندگی کے ڈھنگ،تحریر: یاسمین اختر طوبیٰ ،قسط سوم

نقطہ نظر
مصنف:

دنیا میں ہر چیز کی کوئی نہ کوئی قسم ضرور ہوتی ہے۔ انسان، جانور، پرندے، حتیٰ کہ سیاست دان بھی مختلف اقسام میں پائے جاتے ہیں مگر حیرت ہے کہ کسی نے خطوط کی ان اقسام پر غور نہیں کیا جن کا ہماری روزمرہ زندگی سے گہرا تعلق ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری زندگی بھی مختلف خطوط کا مجموعہ ہے۔ کوئی ہمیں سیدھا راستہ دکھاتا ہے، کوئی ٹیڑھے راستوں پر لے جاتا ہے اور کوئی عمر بھر الجھائے رکھتا ہے۔

خطِ مستقیم کو لیجیے۔ یہ بالکل سیدھا۔لیکن پرپیچ اور داؤ پیچ سے مزین خط ہے۔ بظاہر شریف اور قابلِ اعتماد، مگر اس سے وابستہ لوگوں کی زندگی اکثر مشکل ہوتی ہے۔ سیدھا آدمی نہ کسی کو دھوکا دیتا ہے، نہ کسی کی ٹانگ کھینچتا ہے لیکن دنیا اسے ایسا سیدھا سمجھتی ہے کہ ہر کوئی فائدہ اٹھانا اپنا حق سمجھتا ہے۔ دفتر میں کام سیدھا آدمی کرتا ہے اور ترقی ٹیڑھا آدمی لے جاتا ہے۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ سیدھے راستے پر ضرور چلو مگر اتنے سیدھے بھی نہ بنو کہ ہر کوئی تمہیں استعمال کرنے لگے۔

اس کے بعد خطِ منحنی آتا ہے، جو سیدھا ہونے کے بجائے حالات کے مطابق اپنا رخ بدلتا رہتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس کے پیروکاروں کی خاصی تعداد ہے جو چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی کے مصداق افسر کے سامنے ایک چہرہ، ماتحت کے سامنے دوسرا اور گھر پہنچتے ہی تیسرا روپ دھار لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اصول کوئی مستقل چیز نہیں بلکہ حالات کے ساتھ بدلنے والا معاملہ ہے۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر خطِ مستقیم بھی سوچتا ہوگا کہ کاش میں نے کچھ لچک پیدا کی ہوتی تو آج میری یہ درگت نہ بنتی۔

خطِ تقدیر بھی اپنی نوعیت کا منفرد خط ہے۔ اسے فرشتے پکی سیاہی سے لکھتے ہیں اور انسان ساری عمر اسے پڑھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ کسی کی تقدیر میں دولت لکھی ہوتی ہے تو کسی کے حصے میں بجلی، گیس اور مکان کے بل آتے ہیں۔ انسان محنت بھی کرتا ہے، دعا بھی مانگتا ہے اور کبھی تو حد سے سوا کسی عامل کے پاس بھی پہنچ جاتا ہے لیکن جب کچھ نہ بنے تو فوراً کہتا ہے کہ قسمت میں یہی لکھا تھا۔ یوں خطِ تقدیر ہر ناکامی کا بہترین وکیل بن جاتا ہے جو بغیر فیس لیے تمام عذر قبول کر لیتا ہے۔

اب آئیے خطِ بیرنگ کی طرف۔ اس پر ڈاک کا ٹکٹ نہیں لگایا جاتا اور اس کا خرچ وصول کرنے والے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اپنی ذمہ داری دوسروں کے کندھوں پر ڈال دیتے ہیں۔ غلطی کوئی کرتا ہے اور جرمانہ عوام بھرتے ہیں۔ مہنگائی کوئی بڑھاتا ہے اور قربانی عام آدمی دیتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ خطِ بیرنگ نے ڈاک خانے سے نکل کر ہماری قومی زندگی میں بھی مستقل رہائش اختیار کر لی ہے۔

خطِ شکستہ کا ذکر ہو تو سب سے پہلے ڈاکٹروں کے نسخے یاد آتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی تحریر ایسی ہوتی ہے جیسے کسی قدیم تہذیب کے آثار دریافت کرنے ہوں۔ مریض نسخہ لے کر میڈیکل اسٹور پہنچتا ہے تو سیلزمین بڑے اعتماد سے دوا پکڑا دیتا ہے حالانکہ اسے خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ لکھا کیا ہے۔ اس صورتِ حال میں مریض کا علاج کم اور قسمت کا امتحان زیادہ ہوتا ہے۔ ہماری تجویز ہے کہ ڈاکٹروں کو طب کے ساتھ خط شناسی کا کورس بھی کروایا جائے تاکہ مریض کو کم از کم یہ تو معلوم ہو کہ اسے دوا دی جا رہی ہے یا کوئی خفیہ پیغام۔

خطِ استوا دنیا کے وسط سے گزرنے والا فرضی خط ہے جہاں دن اور رات برابر ہوتے ہیں۔ قدرت نے یہاں مساوات کا بہترین نمونہ پیش کیا ہے مگر افسوس کہ انسانی معاشرے میں یہ توازن کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ کسی کے گھر میں دولت کی فراوانی ہے تو کسی کے آنگن میں دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے پہنچتی ہے۔ کاش کوئی ایسا خط بھی دریافت ہو جائے جس کے دونوں طرف امیر اور غریب کے درمیان وسائل کی تقسیم برابر ہو لیکن اس کے لیے سائنس دان سے زیادہ ایک مخلص انسان کی ضرورت ہے۔

متوازی خطوط ریاضی ہمیں بتاتی ہے کہ یہ کتنے ہی طویل ہو جائیں، کبھی آپس میں نہیں ملتے۔ انسانی تعلقات بھی کچھ ایسے ہی ہو گئے ہیں۔ بھائی بھائی سے ناراض، دوست دوست سے خفا اور پڑوسی پڑوسی سے الجھا ہوا ہے۔ دونوں اپنی اپنی انا کے متوازی خطوط پر چل رہے ہیں۔ کوئی پہل کرنے کو تیار نہیں۔ اگر ایک قدم کوئی آگے بڑھا لے تو شاید فاصلے ختم ہو جائیں مگر آج کل لوگ قدم بڑھانے کے بجائے اپنی انا بڑھانے میں مصروف ہیں۔

ویسے بھی یہ ناممکنات کا زمانہ نہیں رہا۔ انسان چاند تک پہنچ گیا، مریخ کی تیاری کر رہا ہے اور مصنوعی ذہانت سے حیرت انگیز کام لے رہا ہے۔ ایسے میں متوازی خطوط کو ملانے کے لیے ایک کانفرنس کیوں منعقد نہیں کی جا سکتی؟ دونوں کو ایک میز پر بٹھایا جائے، چائے بسکٹ پیش کیے جائیں اور سمجھایا جائے کہ زندگی کا مقصد صرف دور رہنا نہیں، کبھی قریب آنا بھی ہے۔ البتہ ریاضی کے ماہرین کو مدعو نہ کیا جائے، ورنہ وہ فوراً ثابت کر دیں گے کہ یہ ملاقات ناممکن ہے۔

الغرض ہماری زندگی بھی انہی خطوط کے درمیان گردش کرتی ہے۔ کبھی ہم خطِ مستقیم بن کر نقصان اٹھاتے ہیں، کبھی خطِ منحنی کی طرح حالات کے ساتھ بدلتے ہیں، کبھی خطِ تقدیر کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں اور کبھی متوازی خطوط کی طرح اپنے ہی لوگوں سے دور کھڑے رہتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خطِ مستقیم کی سادگی کے ساتھ تھوڑی سی سمجھ داری، خطِ منحنی کی لچک کے ساتھ کچھ اصول، خطِ بیرنگ سے بچنے کے لیے احساسِ ذمہ داری اور متوازی خطوط کو ملانے کے لیے محبت و خلوص پیدا کریں۔ زندگی کا اصل حسن ایک دوسرے کو شکست دینے میں نہیں بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے اور قریب آنے میں ہے۔

اور ہاں! اگر کبھی کوئی ایسا خط دریافت ہو جائے جو انسان کو انسان سے ملا دے تو براہِ کرم اس پر ڈاک کا ٹکٹ ضرور لگا دیجیے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بھی بیرنگ ہونے کے باعث وصول کرنے والا واپس کر دے۔