جمعرات، 29 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حکمرانوں کی بھوک انسانوں کو نوالہ بنا رہی ہے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

نقطہ نظر
zafar iqbal zafar

نیکی اور بدی کے درمیان ایک قدم کا ہی فاصلہ ہے جو پیچھے ہٹائیں تو کائنات کے عیب میں شمار ہوں،آگے بڑھیں تو اشرف المخلوقات،درمیان میں ٹھہرے رہیں تو جانوروں والی بے مقصد زندگی کا مظاہرہ۔تاریخ آگے بڑھ رہی ہو اور تاریخ ساز پیچھے ہٹ رہے ہوں تو پھر حالات اپنی کہانی خود لکھتے ہیں۔خالق کائنات کی زمین انسانی رزق مفت دے رہی ہے اور حکمران اسے بازار زندگی میں گراں بیچیں تو زمین کو چاہیے کہ ایسے حکمرانوں کو فرعون کی طرح اپنے اندر رکھنے سے انکار کر دے۔

ایک دفعہ کسی نے مجھے کہا کہ اس وجود کو توقبر میں کیڑے کھائیں گئے،میں نے فخریہ طور پر زیر لب تبسم سجا کر جواب دیا،جیتے جی تو کسی انسان کا پیٹ بھرنے کی توفیق نہیں ہوئی چلو مر کر حشرات کا رزق ہی بن جاؤں گا،میں بھوک کا مسلہ سمجھتا ہوں صاحب۔یہ پیٹ تواشرف المخلوقات کی عزت غیرت ایمان تک کھا جاتا ہے۔نہ غذاکا کوئی مذہب نہ بھوک کا۔اس بھوک نے ہر مذہب کے انسان کو نوالہ بنا کر نگل لیا۔بابا فرید ؒ نے کہا تھا،پنج رکن اسلام دے تے چھیواں فریدا،ٹک، جے نہ لبھے چھیواں تے پنجے جاندے مک،یعنی پانچ رکن اسلام کے اور چھٹا روٹی۔اگر روٹی نہ ملے تو پانچوں ختم ہو جاتے ہیں۔آج تک کوئی ایسا وظیفہ،ودر،منتر،یا دوائی جیسا حل دریافت نہیں ہوا جیسے غریب یا کوئی بھی انسان پڑھے اور اُسے بھوک نہ لگے۔جہاں پیر رکھنے کو ضمیر نہیں مانتا وہاں ایک باپ اپنے بچوں کی بھوک کے لیے ہاتھ تک پھیلا دیتا ہے۔ اپنے بچوں کو دودھ اور خوراک کے لیے ایک ماں اپنی عزت یعنی جسم تک کا سودا کر لیتی ہے،اور وہ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والی ذات ایک ماں کی عزت بچانے کے لیے دولت مندوں کے دلوں کو جذبہ سخاوت کی دولت سے نہیں بھرتا،اس پر غور کیا تو علم ہوا اُس نے انسانوں کے امتحان واسطے اپنی ذات پر صبر و برداشت کے اصول لاگوکر رکھے ہیں،یہ جو انسانوں کو کھانا کھلاتے ہیں یہ اپنے خون کی خصلت،تربیت کے اثر،اور ایمان کی حرارت میں کھلاتے ہیں۔ورنہ جس خالق نے زمین سے ان گنت چیزوں کو انسان کے لیے اُگایا ہے وہ فرشتوں کی طرح انسانی پیٹ کو بھوک سے آزاد بھی رکھ سکتا تھا۔اُس نے پرندوں کو بھوک دی تو ایک اصول بھی دیا کہ وہ روزانہ کا رزق کھاتے ہیں کل کے لیے جمع نہیں کرتے۔

حضرت عیسیٰ ؑ اپنے شاگرد یوحنا کے ساتھ دریا کے کنارے پرجا رہے تھے اوریو حنا کے پاس تھیلا دیکھ کر پوچھا اس میں کیا ہے؟یوحنا نے کہا اس میں دو روٹیاں ہیں ایک آج کے لیے ایک کل کے لیے۔حضرت عیسیٰ ؑ نے کہا اے یوحنا تم نے توکل کے معاملے میں خود کوپرندوں سے بھی نیچے گرا لیا۔ایک روٹی رکھ دوسری صدقہ کر۔آج کا رزق آج کھا کل کے لیے بچا کر نہ رکھ کل کا رزق کل ملے گا۔اس ملک کے غریب،مڈل کلاس، کھانے والے جمع نہیں کر پاتے اور جمع کرنے والے سستا کھانے نہیں دیتے۔تب سمجھ آیا یہ جو زخیرہ اندوزی ہے یہ بھوکے پیٹوں کی چھینی ہوئی خوراک کا وہ گودام ہیں جو حرام خورانسان کی ہوس کابڑاسارا پیٹ ہے۔

بھوک سے مرتے،لڑتے،سسکتے لوگوں کے سامنے مہنگے راشن کوانسانی مجبوری بنا کر فروخت کروانے کے پیچھے نالائق لوگوں کا صاحب اختیار ہوناہے۔ عوامی ضرورتوں کے پیچھے ملز،فیکٹری،کارخانے،سیاست دانوں کے ہی کیوں ہوتے ہیں؟حکومتیں مصنوعی مہنگائی پرانہیں نہیں پکڑتی بلکہ چھوٹے دُکانداروں پر بلاجوازجرمانے کرکے بددُعائیں لیتی ہے۔حضرت علی ؓ کا فرمان ہے کہ کوئی چوری کرئے تو اس کے ہاتھ کاٹ دو،اور اگر روٹی کے لیے چوری کرئے تو حکمرانوں کے ہاتھ کاٹ دو،روٹی کا چور،چور نہیں ہوتا،مجبور ہوتا ہے۔روز قیامت جب جرموں کی کتاب کھلے گئی تو ان کی وجہ بھی سامنے لائی جائے گئی ناچاہتے ہوئے کیے جانے والے عوامی جرموں کے پیچھے احمق و ظالم حکمرانوں کی انسانیت دشمن،پالسیاں،قانون سازیاں،زبردستی کے ناجائز ٹیکس،سودی قرضوں کی وصولی جیسے فیصلوں کا ہاتھ نکلے گا۔

لاکھوں عام انسانوں کی بھوک اتنی بھیانک نہیں ہوتی جتنی چند حکمرانوں کی بھوک ہے جو لاکھوں انسانوں کو ہی نگل جاتی ہے۔حالات سے تنگ عوام کی خودکشیوں کے پیچھے قاتل حکمران ہی ہوتے ہیں۔بے روزگاری و مہنگائی زمین پر ظالم حکمرانوں کے عذاب ہیں۔خدا کی زمین مسلسل سارے رزق پورے ذائقوں اور رنگوں سے اُگل رہی ہے،پانی خشک نہیں ہوا،ہوائیں رُوکی نہیں گئیں،سورج،چاند،دن،رات سارا خدائی نظام بغیر کوتاہی کے انسانوں کے لیے مفت میں چل رہا ہے،جہاں خدا اصلاح کی سختی کرتا ہے وہاں زبان خاموش،چہرے مرجھائے،لب خشک،حلق سوکھے،جہاں پانی موجیں مارتا ہے وہاں خاک اڑنے لگتی ہے جہاں بارش برستی ہے پھر آگ برسنے لگتی ہے،لوگ پہلے نڈھال پھر بدحال،آبادیاں اُجڑ گئیں، ویرانیاں بس گئیں، انسانی زندگی نے خدائی ناراضگی کا یہ منظر دیکھا تو کہیں دُور نکل گئی،جہاں خدا کے سامنے آنسوؤں کے پانی سے دل کوباوضوکر کے توبہ و معافی کے رونے روئے گئے اور دونوں ہاتھوں کا پیالہ بنا کر یہ دُعا مانگی گئی کہ اے خدا اگر ہماری خطائیں تیری رحمت سے زیادہ ہیں تو ہمیں مٹا دے،اور اگر تیری رحمت زیادہ ہے زندگی کی بہاریں لُوٹا دے۔اور پھر خدا کی رحمت اُس کے غصے پہ غالب آئی اور زمین کے ساتھ ساتھ دلوں پہ بھی شادابی اُتر آئی۔آج غریب و شریف انسانیت کے حصول حقوق واسطے یہ دُعا مانگتی ہے کہ اس ملک کے نظام کو کنٹرول کرنے والوں کے دلوں کو خدا اپنی ہدایت سے کنٹرول کر کے ہماری خوشحالی لُوٹا دے آمین ثم آمین