بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہم دنیا کو نہیں، اپنی نظر کی حد کو دیکھتے ہیں،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

نقطہ نظر
zaigham abidi syed

ہم جس نظر سے اس دنیا کو دیکھتے ہیں، باقی مخلوقات اس نظر سے دنیا کو نہیں دیکھتیں۔ ہم جس رنگ کو حقیقت سمجھتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ہر مخلوق کے لیے بھی اسی طرح حقیقت ہو۔ ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں اس کا رنگ نیلا دکھائی دیتا ہے، مگر دنیا میں موجود دوسری مخلوقات اپنے حواس کی ساخت اور صلاحیت کے مطابق اسی کائنات کو مختلف انداز میں محسوس کرتی ہیں۔ گویا ایک ہی دنیا میں رہنے کے باوجود ہر مخلوق کا تجربۂ دنیا مختلف ہے۔ کائنات ایک ہے، مگر اسے دیکھنے کے زاویے بے شمار ہیں۔ ہم دنیا کو ویسا نہیں دیکھتے جیسی وہ اپنی تمام تر وسعتوں کے ساتھ موجود ہے، بلکہ ہم اسے ویسا دیکھتے ہیں جیسا ہمارا جسم، ہمارے حواس اور ہماری فطری صلاحیتیں ہمیں دیکھنے کی اجازت دیتی ہیں۔ ہماری آنکھ ایک مخصوص حد تک روشنی کو محسوس کرتی ہے، ہمارا کان آوازوں کی ایک محدود حد کو سنتا ہے اور ہماری جلد درجۂ حرارت، دباؤ اور لمس کی مخصوص کیفیتوں کو محسوس کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے سامنے موجود حقیقت کا ایک بڑا حصہ ہماری براہِ راست رسائی سے باہر رہتا ہے۔ ہم جسے دنیا کا مکمل مشاہدہ سمجھتے ہیں، وہ دراصل ایک محدود مشاہدہ ہے، جسے ہم نے اپنی فطری صلاحیتوں کی بنیاد پر مکمل سمجھ لیا ہے۔ شاید انسان کی فکری تاریخ کا سب سے بڑا سوال بھی یہی ہے کہ کیا ہم واقعی اس دنیا کو جانتے ہیں جس میں ہم زندگی گزارتے ہیں، یا ہم صرف اس دنیا کو جانتے ہیں جو ہمارے حواس ہمیں دکھاتے ہیں؟


ذرا تصور کیجیے کہ اگر کسی انسان کو پیدائش ہی سے ایک ایسا لینز دے دیا جائے جس کے ذریعے وہ دنیا کو دیکھتا ہو تو اس کے لیے دنیا کی حقیقت اسی لینز کے دائرے میں تشکیل پائے گی۔ وہ جس رنگ کو دیکھ سکے گا، اسی کو رنگ سمجھے گا؛ جس آواز کو سن سکے گا، اسی کو آواز تصور کرے گا اور جس چیز کو محسوس نہیں کر سکے گا، ممکن ہے اس کے وجود کے بارے میں اسے کبھی خیال ہی نہ آئے۔ لیکن کیا کسی چیز کا ہماری نظر سے اوجھل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ موجود نہیں؟ ہرگز نہیں۔ حقیقت ہمارے ادراک کی محتاج نہیں ہوتی۔ ہم کسی چیز کو نہ دیکھ سکیں تو اس سے اس چیز کا وجود ختم نہیں ہو جاتا۔ مسئلہ حقیقت کی عدم موجودگی کا نہیں، ہماری رسائی کی محدودیت کا ہے۔ انسان کی سب سے بڑی غلطی شاید یہی ہے کہ وہ اپنی نظر کی حدود کو کائنات کی حدود سمجھ بیٹھتا ہے۔ وہ اپنے تجربے کو آخری دلیل، اپنے مشاہدے کو مکمل علم اور اپنے نقطۂ نظر کو حقیقت کا حتمی معیار قرار دے دیتا ہے، حالانکہ جس کھڑکی سے وہ باہر دیکھ رہا ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ اس کھڑکی سے پوری کائنات دکھائی بھی دیتی ہو۔


یہاں سے انسان کی کہانی ایک نیا موڑ لیتی ہے۔ قدرت نے انسان کو محدود حواس دیے، مگر اسے عقل بھی عطا کی؛ ایسی عقل جس نے ان محدود حواس کے دائرے کو مسلسل وسیع کرنے کا راستہ تلاش کیا۔ انسان اپنی ننگی آنکھ سے ان جرثوموں کو نہیں دیکھ سکتا تھا جو اس کے اردگرد موجود تھے، مگر اس نے خوردبین ایجاد کی اور ایک ایسی دنیا اس کے سامنے کھل گئی جس کا وجود اس کے لیے پہلے محض ایک امکان تھا۔ اس نے دوربین بنائی تو اس کی نگاہ زمین کی سطح سے اٹھ کر دور دراز ستاروں، کہکشاؤں اور کائنات کی وسعتوں تک پہنچ گئی۔ اس نے آلات کی مدد سے ایسی آوازوں، لہروں اور شعاعوں کا سراغ لگایا جنہیں اس کے قدرتی حواس براہِ راست محسوس نہیں کر سکتے تھے۔ یوں انسان نے صرف نئی چیزیں دریافت نہیں کیں بلکہ اس نے اپنے مشاہدے کی تعریف ہی بدل دی۔ اس نے ثابت کیا کہ آنکھ کا نہ دیکھنا، کان کا نہ سننا اور جسم کا محسوس نہ کرنا، حقیقت کے انکار کے لیے کافی نہیں۔ انسان نے اپنی عقل کے ذریعے ایسے راستے بنائے جن سے اس کے محدود حواس کی رسائی بڑھتی چلی گئی۔ خوردبین نے اسے چھوٹی دنیا دکھائی، دوربین نے بڑی دنیا کے دروازے کھولے اور سائنسی آلات نے اسے ایسے مظاہر سے روشناس کرایا جن کا تصور بھی اس کے عام مشاہدے سے ممکن نہ تھا۔ گویا انسان کی عقل نے اس کے لیے ایک نئی آنکھ، ایک نیا کان اور ایک نیا احساس پیدا کیا، جس کے ذریعے وہ اس کائنات کے ان پہلوؤں تک پہنچنے لگا جو پہلے اس کی دسترس سے باہر تھے۔


یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اور دوسری مخلوقات کے درمیان ایک اہم فرق سامنے آتا ہے۔ فرق صرف یہ نہیں کہ انسان کیا دیکھ سکتا ہے اور دوسری مخلوقات کیا دیکھ سکتی ہیں؛ فرق یہ بھی ہے کہ انسان اپنی محدودیت کو پہچان کر اس سے آگے بڑھنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ وہ اپنے مشاہدے پر سوال اٹھا سکتا ہے، اپنے تجربے کو جانچ سکتا ہے، اپنی غلطی تسلیم کر سکتا ہے اور ایسے ذرائع تخلیق کر سکتا ہے جو اسے اس کی ابتدائی صلاحیتوں سے کہیں آگے لے جائیں۔ ایک عام آنکھ کسی شے کو دیکھتی ہے، مگر عقل اس سوال تک پہنچتی ہے کہ کیا آنکھ سے دکھائی دینے والی شے ہی حقیقت کا مکمل وجود ہے؟ ایک عام کان آواز سنتا ہے، مگر عقل یہ دریافت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ کیا ایسی آوازیں بھی موجود ہیں جنہیں ہمارا کان نہیں سن سکتا؟ ایک عام ذہن سامنے موجود دنیا کو قبول کر لیتا ہے، مگر عقل پوچھتی ہے کہ اس دنیا کے پیچھے کون سے ایسے حقائق پوشیدہ ہیں جن تک ابھی ہماری رسائی نہیں ہوئی؟ یہی سوال انسان کو محض دیکھنے والی مخلوق سے حقیقت کی تلاش کرنے والی مخلوق بناتا ہے۔


اس تناظر میں جب یہ کہا جاتا ہے کہ انسان کی عقل کی بھی ایک حد ہے تو اس جملے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ انسان کی موجودہ ذہنی صلاحیت، اس کی معلومات، اس کے تجربات اور اس کی سمجھ بوجھ محدود ہو سکتی ہے۔ انسان ہر سوال کا جواب نہیں جانتا، ہر حقیقت کو نہیں سمجھتا اور ہر مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا۔ لیکن کسی وقت انسان کا کسی حقیقت کو نہ سمجھ پانا اس بات کا ثبوت کیسے بن سکتا ہے کہ عقل ہمیشہ کے لیے اسی مقام پر رک گئی ہے؟ جو چیز آج ہماری سمجھ سے باہر ہے، ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ ہماری سمجھ سے باہر رہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انسانی عقل نے بارہا ان امکانات کے دروازے کھولے جنہیں کبھی ناقابلِ تصور سمجھا جاتا تھا۔ جو بیماریاں کبھی پراسرار دکھائی دیتی تھیں، ان کے اسباب دریافت ہوئے؛ جو فاصلے ناقابلِ عبور محسوس ہوتے تھے، انسان نے انہیں سمیٹ دیا؛ جو مظاہر آنکھوں سے اوجھل تھے، ان کے مطالعے کے لیے آلات تخلیق کیے گئے۔ ہر نئی دریافت نے انسان کو یہ احساس دلایا کہ اس کا سابقہ علم مکمل نہیں تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ایک نئی بات بھی سامنے آئی: جتنا علم بڑھتا ہے، اتنے ہی نئے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ یوں عقل کی ترقی صرف جواب تلاش کرنے کا نام نہیں بلکہ ان سوالات تک پہنچنے کا سفر بھی ہے جن کے بارے میں پہلے انسان جانتا ہی نہیں تھا کہ انہیں پوچھا بھی جا سکتا ہے۔


اصل بات یہ ہے کہ انسان اپنی عقل کے استعمال سے اپنے حواس کو بڑھاتا ہے۔ یہ اس خیال کی بنیاد ہے کہ عقل کو محض موجودہ صلاحیتوں کے پیمانے پر پرکھنا درست نہیں۔ عقل اپنے لیے نئے پیمانے، نئے آلات، نئے طریقے اور نئی راہیں تلاش کرتی ہے۔ البتہ اس وسعت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان لازماً ہر حقیقت جان لے گا یا اس کی عقل کبھی غلطی نہیں کرے گی۔ عقل کے ذریعے حاصل ہونے والے علم کو بھی تحقیق، دلیل، تجربے اور نظرثانی کی ضرورت رہتی ہے۔ انسان کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ ہر بات جاننے کا دعویٰ کرے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنی لاعلمی کو پہچان کر جاننے کی کوشش جاری رکھے۔ وہ اپنی محدود نظر کو آخری حقیقت نہ سمجھے اور اپنے موجودہ علم کو علم کی آخری منزل قرار نہ دے۔ جو عقل اپنی حدود سے واقف ہو، وہ ان حدود کو سمجھنے اور جہاں ممکن ہو انہیں وسیع کرنے کی کوشش کرتی ہے؛ لیکن جو عقل اپنی موجودہ گرفت کو مکمل گرفت سمجھ بیٹھے، وہ خود اپنے لیے دروازے بند کر لیتی ہے۔


اس خیال کا ایک اور اہم پہلو بھی ہے۔ اگر ہر مخلوق دنیا کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق دیکھتی ہے تو انسان کو اپنے نقطۂ نظر کے بارے میں بھی محتاط ہونا چاہیے۔ ممکن ہے جس معاملے کو ہم ایک خاص زاویے سے دیکھ رہے ہوں، اس کا کوئی دوسرا پہلو ہماری نظر سے اوجھل ہو۔ ممکن ہے ہمارا تجربہ درست ہو، مگر نامکمل ہو؛ ہماری دلیل مضبوط ہو، مگر اس میں مزید وضاحت کی گنجائش ہو؛ ہمارا مشاہدہ حقیقت کا حصہ ہو، مگر پوری حقیقت نہ ہو۔ اس لیے عقل کا حقیقی استعمال صرف اپنی بات ثابت کرنا نہیں بلکہ اپنے مشاہدے کو جانچنا، اپنے مفروضوں پر سوال اٹھانا اور نئے شواہد کے سامنے اپنی رائے پر نظرثانی کرنا بھی ہے۔ جو انسان اپنی نظر کی محدودیت کو سمجھ لیتا ہے، وہ دوسروں کے نقطۂ نظر کو سننے کی صلاحیت بھی پیدا کرتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف ہمیشہ جہالت کی علامت نہیں ہوتا اور اپنی بات پر یقین رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ باقی تمام امکانات ختم ہو چکے ہیں۔ یہی شعور علم کو تعصب سے، تحقیق کو ضد سے اور عقل کو محض خودپسندی سے الگ کرتا ہے۔


ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کائنات کی وسعت اور انسانی عقل کی جستجو کے درمیان تعلق محض سائنس کی تجربہ گاہوں تک محدود نہیں۔ یہ فلسفے، ادب، معاشرت اور انسانی شعور کا بھی بنیادی مسئلہ ہے۔ ہر دور میں انسان نے اپنے علم کو حتمی سمجھنے کی غلطی کی، مگر ہر نئے دور نے اس کے سامنے کچھ ایسے سوال رکھ دیے جنہوں نے اس کے یقین کی عمارت کو نئے سرے سے تعمیر کرنے پر مجبور کیا۔ علم کی تاریخ دراصل انسان کے اپنے محدود تصورات سے باہر نکلنے کی تاریخ بھی ہے۔ جب انسان نے یہ سمجھا کہ اس کی آنکھ ہر حقیقت نہیں دیکھ سکتی، تو اس نے خوردبین اور دوربین کی طرف قدم بڑھایا۔ جب اس نے محسوس کیا کہ اس کے کان ہر آواز نہیں سن سکتے، تو اس نے آواز کی ان حدود سے باہر موجود مظاہر کا مطالعہ کیا۔ اور جب اس نے جانا کہ اس کا موجودہ علم ہر سوال کا جواب نہیں دے سکتا، تو اس نے تحقیق کو جاری رکھا۔ اس سفر میں انسان کی اصل طاقت اس کے پاس موجود معلومات کی تعداد نہیں، بلکہ اس کی وہ صلاحیت ہے جو اسے اپنی معلومات کی خامیوں کا احساس دلاتی ہے اور انہیں دور کرنے کے لیے متحرک کرتی ہے۔


آخر میں سوال یہ نہیں کہ انسان کی عقل محدود ہے یا لامحدود، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم عقل کی وسعت کو کس پیمانے سے ناپ رہے ہیں۔ اگر ہم عقل کو صرف اس بات سے جانچیں کہ انسان اس وقت کیا جانتا ہے، تو یقیناً اس کے علم میں بہت سی کمیوں اور حدوں کی نشان دہی کی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم عقل کو اس صلاحیت کے طور پر دیکھیں جو انسان کو اپنی محدودیت پہچاننے، سوال اٹھانے، نئے ذرائع ایجاد کرنے اور اپنے مشاہدے کو وسعت دینے کے قابل بناتی ہے، تو پھر عقل کو محض اس کے موجودہ علم کے دائرے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ ہم آج جو کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ ہماری موجودہ رسائی کا منظر ہے، پوری کائنات کا آخری نقشہ نہیں۔ ہماری آنکھ ایک نقطۂ آغاز ہے، آخری منزل نہیں؛ ہمارے حواس علم کا پہلا دروازہ ہیں، تمام دروازے نہیں۔ انسان نے اپنی عقل کے ذریعے ان دروازوں کو کھولنے کی کوشش کی ہے اور اس کوشش نے اس کی دنیا بدل دی ہے۔ ممکن ہے آج بھی حقیقت کے ایسے بے شمار پہلو موجود ہوں جن کا ہمیں علم نہیں، ایسے سوال ہوں جنہیں ہم ابھی پہچان نہیں سکے اور ایسے امکانات ہوں جن کا تصور بھی ہماری موجودہ سمجھ سے باہر ہو۔ لیکن یہی تو عقل کا کمال ہے کہ وہ اپنے موجودہ مقام کو اپنی آخری منزل تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے۔


ہمیں آسمان نیلا دکھائی دیتا ہے، مگر آسمان کی حقیقت ہمارے دیکھنے سے بڑی ہے۔ ہماری آنکھ دنیا کا ایک منظر دکھاتی ہے، مگر عقل اس منظر کے پیچھے چھپی دنیا کو تلاش کرتی ہے۔ انسان کے حواس محدود ہو سکتے ہیں، اس کا موجودہ علم محدود ہو سکتا ہے، اس کا مشاہدہ محدود ہو سکتا ہے؛ لیکن اس کی عقل اسے ان حدود کو پہچاننے، ان سے آگے بڑھنے اور اپنے لیے نئے امکانات دریافت کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ شاید انسان کی سب سے بڑی طاقت یہ نہیں کہ وہ دنیا کو دیکھ سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ جان سکتا ہے کہ جو کچھ اسے دکھائی دے رہا ہے، ضروری نہیں کہ دنیا صرف اتنی ہی ہو۔


یہی شعور انسانی عقل کی اصل وسعت ہے: اپنی نظر کو حقیقت کی آخری حد نہ سمجھنا، بلکہ ہر نئی دریافت کے ساتھ یہ امکان زندہ رکھنا کہ دنیا اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے جتنی آج ہمیں دکھائی دیتی ہے۔