بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہم سب بہت مصروف ہیں،تحریر:انعم عباسی

نقطہ نظر
anam abbasi

ہمارے معاشرے میں اب کسی شخص کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جاتا کہ وہ کتنا اچھا انسان ہے، اس کے اخلاق کیسے ہیں، وہ دوسروں کے دکھ درد میں کتنا شریک ہوتا ہے یا اس کی موجودگی کسی کے لیے کتنی باعثِ سکون ہے۔ اب تو کسی کی اہمیت جانچنے کا ایک ہی پیمانہ رہ گیا ہے، اور وہ ہے اس کی مصروفیت! جو شخص جتنا مصروف نظر آئے، لوگ اسے اتنا ہی اہم سمجھتے ہیں۔ اور اگر کوئی بھولے سے یہ کہہ دے کہ آج میرے پاس خاصا وقت ہے تو سننے والے اسے یوں دیکھتے ہیں جیسے اس نے اپنی زندگی کا کوئی بہت بڑا مقصد ہی کھو دیا ہو۔


اب ذرا اپنے اردگرد دیکھیے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی زندگی ایک دوڑ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ کسی کو دفتر پہنچنا ہے، کسی کو اسکول، کسی کو بچوں کو تیار کرنا ہے، کسی کو گھر کے کام نمٹانے ہیں اور کسی کو موبائل کی اسکرین پر دنیا بھر کے معاملات سے باخبر رہنا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اگر ہم نے چند منٹ سکون سے گزار لیے تو دنیا کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگوں کو اپنی مصروفیات گنوانے کا بھی خاصا شوق ہے۔ کسی سے خیریت دریافت کر لیجیے تو جواب ملے گا، ’’بس کیا بتاؤں، بہت مصروف ہوں!‘‘ گویا مصروف ہونا کوئی کیفیت نہیں بلکہ ایک اعزاز ہے، جسے بار بار دوسروں کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔


کبھی غور کیجیے کہ ہماری یہ مصروفیت ہمیں دے کیا رہی ہے؟ ہم صبح سے شام تک بھاگتے رہتے ہیں، ایک کام ختم ہوتا ہے تو دوسرا سر پر کھڑا ہوتا ہے، ایک ذمہ داری پوری ہوتی ہے تو کئی نئی ذمہ داریاں انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔ دن ختم ہونے پر جسم تھکا ہوا، ذہن الجھا ہوا اور دل بے شمار ادھوری خواہشات سے بھرا ہوتا ہے۔ ہم بستر پر لیٹتے ہوئے سوچتے ہیں کہ آج بھی اپنے لیے کچھ نہ کر سکے، مگر اگلی صبح پھر اسی رفتار سے زندگی کی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں۔


یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ہمارے پاس وقت نہیں، یا ہم نے اپنی ترجیحات کچھ اس طرح ترتیب دے لی ہیں کہ ضروری چیزیں غیر ضروری اور غیر ضروری چیزیں ضروری دکھائی دینے لگی ہیں؟


ہمیں دفتر کے کسی کام کے لیے دیر ہو جائے تو بے چینی شروع ہو جاتی ہے، کسی میٹنگ میں چند منٹ کی تاخیر ہو جائے تو وضاحتیں پیش کرنے لگتے ہیں، لیکن کسی اپنے سے بات کیے ہفتے گزر جائیں تو ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔ والدین کی آواز سننے، بچوں کے ساتھ بیٹھنے، کسی دوست کا حال پوچھنے یا کسی پریشان حال انسان کی بات سننے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا۔ البتہ سوشل میڈیا پر گھنٹوں گزر جائیں تو ہمیں اپنی مصروفیت میں کوئی خلل محسوس نہیں ہوتا۔


ہم دوسروں کی تصاویر دیکھتے ہیں، ان کی کامیابیوں پر تبصرے کرتے ہیں، ان کی زندگیوں کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ زندگی میں سکون نہیں رہا۔ شاید ہم نے اپنی زندگی جینے سے زیادہ دوسروں کی زندگیوں پر نظر رکھنا ضروری سمجھ لیا ہے۔


ایک اور دلچسپ رویّہ دیکھیے۔ اگر کوئی شخص کسی مشکل میں ہو اور ہم سے مدد مانگ لے تو ہمارے پاس فوراً وقت کی کمی کا عذر موجود ہوتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اس وقت حالات بہت مصروف ہیں، بعد میں بات کرتے ہیں، فرصت ملی تو ضرور دیکھیں گے۔ لیکن یہی شخص اگر کسی تقریب میں کامیاب لوگوں کے درمیان بیٹھا ہو تو اس سے ملاقات کے لیے ہم اپنی مصروفیات میں سے وقت نکالنے کی کوشش ضرور کریں گے۔ شاید ہم نے انسانوں کی ضرورت سے زیادہ ان کی حیثیت کو اہمیت دینا سیکھ لیا ہے۔


یہی معاملہ ہمارے رشتوں کا بھی ہے۔ پہلے لوگ ایک دوسرے کے گھر بلا تکلف چلے جایا کرتے تھے۔ چائے کے ایک کپ پر گھنٹوں گفتگو ہوتی، چھوٹی چھوٹی باتوں پر قہقہے لگتے اور کسی کے چہرے کی اداسی دیکھ کر اس کا حال پوچھ لیا جاتا تھا۔ اب ملاقات سے پہلے وقت لینا پڑتا ہے، فون کرنے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے اور کبھی کبھار تو قریبی رشتوں سے بات کرنے کے لیے بھی باقاعدہ منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔ رابطے کے ذرائع جتنے آسان ہوئے ہیں، دلوں تک پہنچنے کے راستے شاید اتنے ہی مشکل ہو گئے ہیں۔


میں یہ نہیں کہتی کہ مصروف رہنا غلط ہے۔ ذمہ داریاں نبھانا، محنت کرنا، اپنے مستقبل کے لیے جدوجہد کرنا اور اپنے فرائض پورے کرنا یقیناً ضروری ہے۔ زندگی صرف فرصت کا نام بھی نہیں۔ مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مصروفیت ہماری ضرورت کے بجائے ہماری شناخت بن جاتی ہے، جب ہم اپنے کاموں میں اس قدر کھو جاتے ہیں کہ زندگی کے اصل مقاصد ہی نگاہوں سے اوجھل ہونے لگتے ہیں۔


ہمیں کبھی رک کر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جس کامیابی کے لیے ہم اپنی نیند، صحت، رشتوں اور ذہنی سکون کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں، اس کامیابی کا لطف آخر کب اٹھائیں گے؟ کیا زندگی صرف اگلے مرحلے تک پہنچنے کا نام ہے؟ کیا ہم ہر خوشی کو یہ کہہ کر مؤخر کرتے رہیں گے کہ ابھی وقت نہیں، ابھی بہت کام ہیں، ابھی ذمہ داریاں باقی ہیں؟


حقیقت تو یہ ہے کہ ذمہ داریاں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ ایک منزل پر پہنچ کر دوسری منزل ہمارا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی مصروف زندگی میں چند لمحے اپنے لیے، اپنے رشتوں کے لیے اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کے لیے بھی مختص کریں۔ ہر فون کا جواب فوراً دینا ضروری نہیں، مگر کسی ضرورت مند کی بات سن لینا کبھی کبھی بہت ضروری ہوتا ہے۔ ہر دعوت میں شریک ہونا لازم نہیں، مگر اپنے کسی عزیز کے دکھ میں شریک ہونا ہماری انسانیت کا تقاضا ہے۔


زندگی کی سب سے بڑی محرومی شاید یہ نہیں کہ ہمارے پاس وقت کم ہے، بلکہ یہ ہے کہ وقت موجود ہونے کے باوجود ہم اسے وہاں خرچ نہیں کر پاتے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔


تو آئیے، کبھی اپنی مصروفیات کی فہرست سے باہر نکل کر بھی دیکھیے۔ ممکن ہے کوئی اپنا ہماری توجہ کا منتظر ہو، کوئی رشتہ ہماری بے اعتنائی سے کمزور پڑ رہا ہو، یا ہمارا اپنا دل ہم سے چند لمحوں کے سکون کا مطالبہ کر رہا ہو۔


کیونکہ آخر میں لوگ ہماری مصروفیات کی تعداد یاد نہیں رکھیں گے، وہ یہ یاد رکھیں گے کہ ہم نے ان کے لیے وقت نکالا تھا یا نہیں۔


اور ہاں! اگلی بار کوئی پوچھے کہ آپ کیسے ہیں تو ہر بار ’’بس بہت مصروف ہوں‘‘ کہنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے ضرور سوچیے گا کہ کہیں ہم زندگی گزارنے کی کوشش میں زندگی جینا تو نہیں بھول گئے؟