بحریہ ٹاؤن پشاور کیس میں اہم پیشرفت، 6 ارب 40 کروڑ روپے کی جائیداد منجمد کرنے کی توثیق

پشاور کی احتساب عدالت نے بحریہ ٹاؤن پشاور کے نام پر مبینہ طور پر غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی کے قیام کے لیے خریدی گئی 6 ارب 40 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد منجمد کرنے سے متعلق قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست منظور کرلی۔
احتساب عدالت کے جج حامد مغل نے نیب کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے جائیداد منجمد کرنے کے اقدام کی توثیق کرتے ہوئے متعلقہ ڈپٹی کمشنر اور دیگر حکام کو جائیداد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کردیے۔
سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ بحریہ ٹاؤن پشاور کی انتظامیہ نے مبینہ طور پر 3 مختلف کمپنیوں کے ساتھ مل کر عوام کو دھوکہ دیا اور ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر 91 ہزار 48 افراد کو فارم فروخت کیے۔
سماعت کے دوران نیب کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ہر فارم 70 ہزار روپے میں فروخت کیا گیا، جبکہ ہاؤسنگ سوسائٹی کی تعمیر کے لیے متعلقہ محکموں سے کوئی این او سی بھی حاصل نہیں کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں


.jpg%3F2026-11-05T16%253A13%253A54.693Z&w=3840&q=75)


