انصاف ہوگا تو پاکستان مضبوط ہوگا؟ تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری
نقطہ نظر
انصاف کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد، ریاست کی طاقت اور قوموں کی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ جس ملک میں انصاف زندہ ہو، وہاں عوام کا اعتماد اداروں پر قائم رہتا ہے، قانون کی عزت ہوتی ہے اور طاقتور بھی اپنی حدود میں رہنے پر مجبور ہوتا ہے۔ لیکن جس معاشرے میں انصاف دولت، عہدے، سفارش اور اثر و رسوخ کا محتاج بن جائے، وہاں محرومیاں جنم لیتی ہیں، نفرتیں پروان چڑھتی ہیں اور عوام کا نظام سے اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔
ریاست کی اصل طاقت اس کے طاقتور شہری نہیں، بلکہ اس کا مضبوط اور غیر جانب دار نظامِ انصاف ہوتا ہے۔
انصاف کا تقاضا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو۔ اگر ایک غریب معمولی غلطی پر سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے تو کسی امیر یا بااثر شخص کو اس کے جرم پر رعایت کیوں ملے؟ اگر ایک عام شہری کو اپنے جائز کام کے لیے دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں تو صاحبِ اختیار کے لیے دروازے فوراً کیوں کھل جاتے ہیں؟ اگر ایک مستحق نوجوان میرٹ کے باوجود ملازمت سے محروم رہتا ہے اور کسی دوسرے کو سفارش کی بنیاد پر موقع مل جاتا ہے تو یہ صرف ایک فرد کے ساتھ ناانصافی نہیں، بلکہ پوری قوم کے مستقبل کے ساتھ زیادتی ہے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ناانصافی صرف عدالتوں تک محدود نہیں۔ یہ اس وقت بھی جنم لیتی ہے جب کسی حقدار کا حق چھین کر کسی غیر مستحق کو دے دیا جائے، جب کسی غریب کی زمین پر قبضہ کیا جائے، جب کسی محنت کش کی اجرت روک لی جائے، جب کسی طالب علم کے مستقبل سے کھیل کر سفارش کو میرٹ پر ترجیح دی جائے اور جب کسی مظلوم کی آواز اس لیے دبا دی جائے کہ اس کے پاس دولت، طاقت یا سیاسی تعلقات نہیں۔
ایسا معاشرہ بظاہر ترقی کرتا دکھائی دے سکتا ہے، لیکن اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔
پاکستان کے نوجوان اس ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ انہیں صرف نصیحتوں کی نہیں، بلکہ منصفانہ مواقع کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ ان کی محنت رنگ لائے گی، ان کی قابلیت کی قدر ہوگی اور ان کا مستقبل کسی بااثر شخصیت کی سفارش کا محتاج نہیں ہوگا۔ جب میرٹ کو عزت ملے گی تو نوجوان مایوسی کے بجائے امید کا راستہ اختیار کریں گے۔ جب محنت کا صلہ ملے گا تو صلاحیتیں ملک کے اندر رہ کر اس کی تعمیر میں حصہ ڈالیں گی۔
اسی طرح عام شہری کے لیے انصاف کا حصول آسان بنانا بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ مقدمات کا بروقت فیصلہ، تفتیش کا غیر جانب دارانہ نظام، پولیس کی جواب دہی، سرکاری اداروں میں شفافیت اور بدعنوانی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی وہ اقدامات ہیں جن سے عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔ انصاف صرف قانون کی کتاب میں موجود الفاظ کا نام نہیں؛ انصاف اس وقت حقیقت بنتا ہے جب مظلوم کو اس کا حق ملتا ہے اور ظالم کو اس کے عمل کا جواب دینا پڑتا ہے۔
یہاں ایک سوال ہر صاحبِ اختیار، ہر سیاست دان، ہر افسر اور ہر شہری کو اپنے ضمیر سے پوچھنا چاہیے: کیا ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں انسان کی پہچان اس کے کردار اور قابلیت سے ہو، یا ایسا پاکستان جہاں اس کی حیثیت اس کی دولت، عہدے اور تعلقات سے طے کی جائے؟
اگر ہماری خواہش ایک مضبوط پاکستان ہے تو ہمیں دوہرے معیار ختم کرنا ہوں گے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سیاسی اور ذاتی دباؤ سے آزاد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ عدالتوں کو انصاف کی فراہمی میں غیر جانب داری اور شفافیت برقرار رکھنی ہوگی۔ حکمرانوں کو خود کو قانون کے تابع سمجھنا ہوگا اور عوام کو بھی اپنے ذاتی مفاد کے لیے قانون توڑنے یا کسی دوسرے کا حق مارنے سے گریز کرنا ہوگا۔
کیونکہ انصاف کا مطالبہ صرف دوسروں سے کرنا کافی نہیں، انصاف اپنے رویوں میں بھی نافذ کرنا پڑتا ہے۔
ہم اکثر ملک کے حالات کا شکوہ کرتے ہیں، اداروں پر تنقید کرتے ہیں اور نظام کی خرابیوں کا ذکر کرتے ہیں، لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا ہم اپنی روزمرہ زندگی میں انصاف کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے ملازمین کو ان کا پورا حق دیتے ہیں؟ کیا ہم کاروبار میں دیانت داری اختیار کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے تعلقات میں میرٹ اور حق کو ترجیح دیتے ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو تبدیلی کا آغاز ہمیں اپنی ذات سے کرنا ہوگا۔
جس ملک میں انصاف طاقتور کی مرضی کے بجائے قانون کے مطابق ملتا ہے، وہاں عوام ریاست کو اپنا محافظ سمجھتے ہیں۔ اور جس ریاست میں عوام کو یقین ہو کہ ان کے حقوق محفوظ ہیں، اسے کمزور کرنا آسان نہیں ہوتا۔
پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں نہ کوئی قانون سے بالاتر ہو، نہ کوئی غریب ہونے کی وجہ سے اپنے حق سے محروم رہے؛ نہ کسی مظلوم کی آواز دولت کے شور میں دبے اور نہ کسی بے گناہ کو محض کمزور ہونے کی قیمت چکانی پڑے۔
ہم انصاف، دیانت، میرٹ اور قانون کی بالادستی کو اپنی قومی ترجیحات بنائیں گے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کا راستہ نعروں، تقریروں اور دعوؤں سے نہیں، بلکہ عملی انصاف سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستان تب مضبوط ہوگا جب انصاف امیر کے لیے رعایت اور غریب کے لیے سزا نہیں، بلکہ ہر شہری کا یکساں حق ہوگا۔
انصاف ہوگا تو اعتماد بڑھے گا، اعتماد بڑھے گا تو ادارے مضبوط ہوں گے، اور ادارے مضبوط ہوں گے تو پاکستان ترقی، استحکام اور خوش حالی کی منزل حاصل کرے گا۔
مزید پڑھیں

ٹرانس جینڈر مرد اور اہلیہ پہلے بچے کی آمد کے منتظر


سحر کامران کا بیگم نصرت بھٹو کو خراجِ عقیدت
