پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

انسان کو انسان سے خوف کیوں آنے لگا؟ تحریر: سید آزاد گیلانی

نقطہ نظر

ہمیں اب سانپ کے ڈسنے سے زیادہ انسان کے ڈسنے کا خوف ہے۔ سانپ سامنے ہو تو کم از کم اس کی پہچان ہو جاتی ہے، مگر انسان مسکرا کر ملتا ہے، کندھے پر ہاتھ رکھتا ہے، خیریت پوچھتا ہے اور کبھی کبھی اسی دوران آپ کے اعتماد کی جیب بھی کاٹ لیتا ہے۔ عجیب دور ہے، یہاں دشمن سے زیادہ دوست کی نیت جاننے کی فکر رہتی ہے۔


لیکن انسان کا انسان سے خوف صرف دھوکے، مطلب پرستی یا وعدہ خلافی تک محدود نہیں رہا۔ اس خوف کی ایک زیادہ بھیانک وجہ بھی ہے: اخلاقی پستی اور انسان کے اندر سے انسانیت کا کم ہوتے جانا۔ جب اردگرد ایسے لوگ موجود ہوں جنہیں دوسرے کی جان، عزت، معصومیت اور تکلیف کا احساس ہی نہ رہے تو خوف محض ایک نفسیاتی کیفیت نہیں رہتا، زندگی کی ضرورت بن جاتا ہے۔


ہم روزمرہ زندگی میں ایسے واقعات دیکھتے اور سنتے ہیں جہاں معمولی تنازع قتل پر منتج ہو جاتا ہے، معمولی اختلاف تشدد میں بدل جاتا ہے، معصوم بچے درندگی کا نشانہ بنتے ہیں، خواتین اپنی ہی جان پہچان کے لوگوں سے غیر محفوظ ہو جاتی ہیں اور طاقت ور کمزور کی مجبوری کو اپنا ہتھیار بنا لیتے ہیں۔ کہیں لالچ رشتوں کو نگل جاتا ہے، کہیں ہوس انسان کو اس حد تک گرا دیتی ہے کہ اسے سامنے والے کی عزت اور حرمت بھی دکھائی نہیں دیتی۔ یہ سب محض جرائم نہیں، ہمارے اجتماعی اخلاقی زوال کی نشانیاں بھی ہیں۔


درندگی ہمیشہ جنگلوں میں نہیں ہوتی، بعض اوقات وہ مہذب لباس، شائستہ گفتگو اور قابلِ احترام چہروں کے پیچھے بھی چھپی ہوتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جنگل کا درندہ اپنی فطرت نہیں چھپاتا، مگر اخلاقی پستی کا شکار انسان اپنی خواہش، لالچ اور ہوس کو تہذیب کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب خطرہ ہمیشہ اجنبی سے نہیں ہوتا؛ کبھی جان پہچان، اعتماد اور قریبی تعلق بھی تحفظ کی ضمانت نہیں رہتے۔


سوال یہ ہے کہ انسان اس مقام تک کیسے پہنچا؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم نے کامیابی کو دولت، مرتبے اور اختیار سے ناپنا شروع کر دیا ہے، کردار سے نہیں۔ کسی شخص کے پاس مال و دولت ہو تو اس کی خامیوں پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے، اثر و رسوخ ہو تو اس کی زیادتی کو مصلحت کا نام دے دیا جاتا ہے اور طاقت ہو تو کمزور کی آواز اکثر بے اثر ہو جاتی ہے۔ جب معاشرے میں عزت کا معیار کردار کے بجائے حیثیت بن جائے تو اخلاقی قدریں رفتہ رفتہ اپنی اہمیت کھونے لگتی ہیں۔


اس زوال میں ہماری اجتماعی بے حسی بھی شامل ہے۔ کسی کے ساتھ زیادتی ہو تو ہم اکثر اسے اس کا ذاتی مسئلہ سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ظلم دیکھ کر خاموش رہتے ہیں، ناانصافی پر یہ سوچ کر زبان نہیں کھولتے کہ ہمیں کیا پڑی ہے، اور بعض اوقات مجرم کے بجائے مظلوم ہی سے سوال کرنے لگتے ہیں۔ یوں ظالم کو صرف اپنی طاقت سے نہیں، ہماری خاموشی سے بھی حوصلہ ملتا ہے۔


قانون اور انصاف کا مؤثر ہونا بھی اسی لیے ضروری ہے۔ جرم کے بعد محض افسوس اور مذمت کافی نہیں؛ ضروری ہے کہ متاثرہ شخص کو تحفظ ملے، شکایت سنی جائے، تحقیقات غیر جانب دار ہوں اور مجرم کو قانون کے مطابق سزا ملے۔ جب کسی کو یہ یقین ہو جائے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ یا دولت کے بل پر بچ نکلے گا تو اس کی بے خوفی دوسروں کے لیے خوف بن جاتی ہے۔ معاشرے میں امن صرف اچھے لوگوں کی موجودگی سے قائم نہیں ہوتا، برے ارادوں کو روکنے والے مؤثر نظام سے بھی قائم ہوتا ہے۔


اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر انسان قابلِ خوف ہے یا دنیا سے اعتماد اٹھا لیا جائے۔ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتے ہیں، اجنبی کی مدد کے لیے رک جاتے ہیں اور مشکل وقت میں رشتوں سے بڑھ کر انسانیت کا حق ادا کرتے ہیں۔ یہی لوگ معاشرے کی اصل امید ہیں۔ مگر ان کی موجودگی اس حقیقت کو نظرانداز کرنے کا جواز نہیں بن سکتی کہ اخلاقی تربیت، جواب دہی اور قانون کی کمزوری انسان کو انسان کے لیے خطرہ بنا سکتی ہے۔


ہمیں اپنے گھروں میں بچوں کو صرف کامیاب ہونا نہیں، اچھا انسان بننا بھی سکھانا ہوگا۔ انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ کسی کی کمزوری سے فائدہ اٹھانا ذہانت نہیں، کسی کی خاموشی کو رضامندی سمجھنا غلط ہے، طاقت کا مطلب کسی کو دبانا نہیں اور عزتِ نفس ہر انسان کا حق ہے۔ یہی تعلیم معاشرے کو اس مقام سے واپس لا سکتی ہے جہاں انسان دوسرے انسان کے لیے خوف نہیں، تحفظ کی علامت بنے۔


سانپ کے زہر سے بچنے کے لیے ہم اس کی پہچان سیکھتے ہیں، مگر انسان کے اندر پلنے والی درندگی سے بچنے کے لیے صرف احتیاط کافی نہیں۔ ہمیں زندہ ضمیر، مضبوط قانون، مؤثر انصاف اور ایسی اخلاقی تربیت درکار ہے جو انسان کو دوسرے انسان کی حرمت کا احساس دلائے۔ کیونکہ جب انسان کے ہاتھ سے انسان محفوظ نہ رہے تو مسئلہ صرف خوف کا نہیں رہتا، پورے معاشرے کے انسان ہونے کا سوال بن جاتا ہے۔